شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک اور نوجوان مسلح درندوں کی بھینٹ چڑھ گیا سپہ سالار سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو صاحب اگر گٹکے ماوے کے خلاف کاروائی سے فرصت ملے تو شہریوں کے تحفظ اور اسٹریٹ کرائم پر بھی ایک نظر ڈالیں
یوں تو شہر قائد میں ڈکیتی راہزنی کی وارداتیں عروج پر ہیں لیکن جیالوں کا فتح کیا گیا قلعہ ضلع ملیر آج بھی مسلح ڈاکوؤں کے نرغے میں ہے اسٹریٹ کرائمزنے شہریوں کو انتہائی خوفزده کر کے رکھ دیا پولیس کی جانب سے جاری مشتبہ
پولیس مقابلے بھی ڈکیتی کی وارداتوں میں کمی نہ لاسکے ہماری پولیس اکثر و بیشتر پولیس مقابلے کے دوران دائیں ٹانگ میں ہی گولی مار کر اپنی اہلیت اور نشانہ بازی کے دھنی ہو نا ثابت کرتی ہے لیکن پھر بھی اصل ڈاکو دندانتے پھرتے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے …
آج بھی ضلع ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں مسلح درندوں نے دن دیہاڑے ایک 22 سالہ نوجوان شاہ زیب عباسی ولد غلام شبیر عباسی کو ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کرکے شہید کردیا مقتول نوجوان کے اہل خانہ عید قربان پر خوشیوں 
کی بجائے سوگ منائیں گے …. اس کا ذمہ دار …. کون … حکمران … پولیس …. یا … شہری ….؟ اطلاعات کے مطابق گذشته روز بھی موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے حال ہی میں جمعہ گوٹھ ریلوے پھاٹک پر تعمیر ہونے والے فلائی اوور پر ناکہ بندی کرکے درجنوں راہگیروں کو لوٹ لیا جبکہ سکھن کے علاقے بھینس کالونی روڈ نمبر 9 پر کراچی کی دوسری بڑی مویشی منڈی کے سامنے واقع موبائل شاپ سے ڈیڑھ لاکھ روپے نقد ، لائسنس یافتہ پستول اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹ لیں ملزمان نے اس دوران شدید ہوائی فائرنگ کرکے اپنی بادشاہت کا باقاعده اعلان بھی کیا ….
ضلع ملیر کے مختلف تھانوں کی حدود میں مسلسل اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں ناصرف جاری ہیں بلکہ ان میں
مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے اس سلسلے میں سوشل میڈیا اور میڈیا پر خبروں کے باوجود اعلیٰ پولیس کی جانب سے عملی اقدامات نظر نہیں آتے نہ ہی کسی کو ذمہ دار قرار دیکر کوئی ایکشن لیا جاتا ہے شائد اعلیٰ پولیس افسران کیلئے انسانی جانوں کے تحفظ سے زیادہ گٹکاماوه ہی اہم ہے گذشته روز ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار نے بھی ایک اجلاس کے دوران گٹکے اور منشیات کو صف اوّل کا جرم قرار دیا تاہم مذکوره گھناونا دهنده گذشته کئی سالوں سے اعلیٰ پولیس 

افسران کے خوفناک بھاشن کے باوجود آج بھی زور و شور سے جاری ہے آئی جی صاحب گٹکے ماوے منشیات اور دیگر جرائم کے خاتمے کیلئے بھی اقدامات کریں لیکن شہری کی زندگیوں کا تحفظ اپنے ایجنڈے میں پہلے نمبر پر رکھیں …. کیوں کہ … ایک بے گناه کا قتل … پوری انسانیت کا قتل ہے ….. شائد … که … تیرے … دل … میں … اُتر … جائے … میری … بات …

