بعض اوقات انسان زندگی کو اس طرح جیتا ہے جیسے یہ ہمیشہ رہنے والی ہو۔ خاص طور پر جوانی میں تو موت ایک دور کی حقیقت لگتی ہے۔ ہم جانتے ضرور ہیں کہ ایک دن سب نے چلے جانا ہے، یہ ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے مگر دل پھر بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ انسان اپنے ماں باپ کے بارے میں، اپنے چاہنے والوں کے بارے میں، اپنے ان لوگوں کے بارے میں جن سے دل کے رشتے قائم ہو جائیں کبھی یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ ایک دن وہ اچانک زندگی کے منظرنامے سے غائب ہو جائیں گے۔
میں نے اپنے والدین کے بارے میں کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ مجھ سے جدا ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ بیماری کی آخری حدوں میں تھے جب اردگرد بہن بھائیوں کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں تب بھی میرے دل میں ایک ضد سی تھی کہ نہیں، یہ نہیں جا سکتے۔ شاید محبت انسان کے اندر ایک ایسا انکار پیدا کر دیتی ہے جو حقیقت کے سامنے بھی دیر تک سر نہیں جھکاتا۔
زندگی میں مجھے بہت زیادہ لوگوں سے جذباتی وابستگی نہیں رہی۔ خون کے رشتے تو انسان کے وجود کا حصہ ہوتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو روح کے رشتوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ آپ کو اپنا لیتے ہیں آپ کے دکھ سکھ میں اس طرح شامل ہو جاتے ہیں کہ وقت کے ساتھ وہ خاندان کا حصہ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ منیر نیازی صاحب، ا ظہر جاوید صاحب اور الطاف حسین قریشی صاحب میرے لیے ایسے ہی لوگ تھے۔
آج الطاف حسین قریشی صاحب اس دنیا میں نہیں رہے۔
یہ جملہ لکھتے ہوئے بھی دل ماننے کو تیار نہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ابھی فون آئے گا، کسی تقریب کا ذکر ہو گا کسی محفل کی بات ہو گی، یا وہ اپنی مخصوص محبت بھرے انداز میں کہیں گے: “آپ نے بلایا ہے تو ہم ضرور آئیں گے۔”
ان کے ساتھ میرا تعلق صرف رسمی یا ادبی نہیں تھا اس میں ایک خلوص ایک شفقت اور ایک احترام شامل تھا۔ وہ میری بات کا مان رکھتے تھے۔ ان کی محافل میں ایک عجیب سی اپنائیت ہوتی تھی۔ شاید ہی کوئی ایسی تقریب ہو جو میں نے کہی ہو اور انہوں نے شرکت نہ کی ہو۔ میں صرف ذکر کر دیتی، اور وہ پہنچ جاتے۔ ان کے اندر تعلق نبھانے کا ایک سلیقہ تھا جو اب کم کم لوگوں میں دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے مجھے اپنے فورم کا میڈیا کوآرڈینیٹر بنایا۔ ان کے بڑے بڑے سیمینارز، کانفرنسز اور تقریبات میں ہمیشہ میری عزت افزائی کی۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب نورالہدیٰ شاہ کراچی سے تشریف لائی تھیں۔ الطاف حسین قریشی صاحب اردو ڈائجسٹ کے لیے ان کا انٹرویو کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مجھے بھی اپنے ساتھ بٹھایا اور کہا کہ تم بھی سوال کرو گی اور میں بھی۔ میں نے جھجکتے ہوئے کہا کہ کہاں الطاف حسین قریشی صاحب اور کہاں میں مگر انہوں نے ہمیشہ کی طرح شفقت اور محبت سے مجھے اپنے برابر جگہ دی۔ پھر ہم نے مل کر وہ انٹرویو کیا جو بعد میں شائع بھی ہوا۔
اصل میں اردو ڈائجسٹ صرف ایک رسالہ نہیں تھا، وہ ہماری نسل کی یادوں کا حصہ تھا۔ میرے بچپن میں میرے بڑے بہن بھائی ہر مہینے شوق سے اردو ڈائجسٹ پڑھا کرتے تھے۔ ہمارے گھر باقاعدگی سے یہ رسالہ آیا کرتا تھا۔ اس کے مضامین، اس کی خوشبو اس کے صفحات، سب کچھ ایک پورے عہد کی یاد دلاتے ہیں۔ اور یہ کبھی ممکن ہی نہیں کہ اردو ڈائجسٹ کا نام آئے اور الطاف حسین قریشی صاحب یاد نہ آئیں۔ وہ صرف اس کے مدیر نہیں تھے وہ اس کی پہچان تھے، اس کی روح تھے۔
وہ اپنی بچپن کی باتیں سناتے تھے، اپنے اسکول کے دنوں کا ذکر کرتے تھے تقسیمِ ہند اور سقوطِ ڈھاکہ کے واقعات اس انداز سے بیان کرتے کہ سننے والا خود کو انہی زمانوں میں محسوس کرنے لگتا۔ ان کا ادبی ذوق بہت بلند تھا۔ اوائل عمری میں شاعری بھی کی۔ اگرچہ بہت کم سناتے تھے، مگر جب بھی سناتے محفل خاموش ہو جاتی۔
ان کے ساتھ بے شمار انٹرویوز کیے بے شمار نشستیں گزاریں، اور ان گنت یادیں سمیٹیں۔ ان کے بیٹے کامران سے ان کی محبت دیکھنے والی ہوتی تھی کامران کے بچوں سے بھی بہت مھبت کرتے دادا اور پوتے کے درمیان ایک عجیب خوبصورت رشتہ تھا۔ جب ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا تو وہ بہت دکھی ہو گئے تھے۔ وہ ان کی دوسری شریکِ سفر تھیں ایک طویل رفاقت تھی، اور انسان عمر کے اس حصے میں تنہائی کو زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔
وہ کافی عرصے سے بیمار تھے۔ عمر کے ساتھ جسم میں جو کمزوری آ جاتی ہے وہ ان میں بھی تھی، مگر ان کی زندہ دلی برقرار تھی۔ محفلوں میں جانا، لوگوں سے ملنا، ہنسنا بولنا، یہ سب ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔ مگر کچھ عرصے سے طبیعت بہت زیادہ خراب رہنے لگی تھی، اور پھر آج وہ خبر آ گئی جس کے لیے شاید ہم کبھی تیار نہیں ہوتے۔
بعض لوگ صرف اپنے گھر والوں کے نہیں ہوتے، وہ پورے معاشرے کے ہوتے ہیں۔ ان کا جانا صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں ہوتا، ایک عہد کا خاتمہ ہوتا ہے۔ الطاف حسین قریشی صاحب بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ ان کی موجودگی ایک تہذیب، ایک فکر، ایک محبت بھرا رویہ تھی۔ ان جیسے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں، اور جب وہ رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک انسان نہیں جاتا، ایک پورا زمانہ ساتھ لے جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ الطاف حسین قریشی صاحب کے درجات بلند فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

