• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

"12 مئی 2007 جنرل پرويز مشرف کے اقتدار کے خاتمہ کا آغاز "

12 مئی آپريشن کے انچارج سابق ايم آئی چيف جنرل نديم اعجاز تھے " "سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، جنرل پرويز مشرف اور الطاف حسين کے درميان رابطے کا زريعہ تھے " "عاصمہ جہانگير نے الطاف حسين کو فون پر کن خطرات سے آگاہ کيا ؟؟ "کيا جسٹس افتخار چودھری کو ڈٹ جانے کی ہدايت ، جنرل ر اشفاق پرويز کيانی سے ملی ؟ "12 مئی 2007 جنرل پرويز مشرف کے اقتدار کے خاتمہ کا آغاز " 12 مئی آپريشن کے انچارج سابق ايم آئی چيف جنرل نديم اعجاز تھے " "سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، جنرل پرويز مشرف اور الطاف حسين کے درميان رابطے کا زريعہ تھے " "کيا جسٹس افتخار چودھری کو ڈٹ جانے کی ہدايت ، جنرل ر اشفاق پرويز کيانی سے ملی ؟

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مئی 11, 2026
in پاکستان, کالمز
0
"12 مئی 2007  جنرل پرويز مشرف کے اقتدار کے خاتمہ کا آغاز "
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحرير 🙁 رفعت سعيد) 12مئی 2007 جسٹس ريٹائرڈ افتخار چودھری کی کراچی آمد پر تصادم ، پچاس افراد کی ہلاکت، 18 اکتوبر کو پيپلز پارٹی کی چيئر پرسن محترمہ بے نظير بھٹو کی جلاوطنی کے خاتمہ پر کراچی ميں حملہ آور 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی ميں بے نظير بھٹو پر جان ليوا حملے ميں ہلاکت کو پاکستانی سياست ميں تبديلی کا ايک ٹرننگ پوائنٹ سمجھا جاتا ہے ،2006 ميں لندن ميں بے نظير بھٹو اور نواز شريف کی ملاقات کے بعد چارٹر آف ڈيموکريسی پر دستخط کے بعد ہون والی پريس کانفرنس ميں دونوں رہنما بہت پرعظم نظر آرہے تھے ، دونوں رہنماؤں کی آنکھوں ميں چمک صاف نظر آرہی تھی،
ميں ان دنوں لندن ميں تھا اس پريس کانفرنس کے بعد جب ميں نے محترمہ بے نظير بھٹو سے پوچھا کہ ، آپ کے مياں نواز شريف سے بہت تلخ تعلقات رہے ہيں ، چارٹر آف ڈيموکريسی کے معاہدے کا ضامن کون ہوگا ؟ کيونکہ ہمارے ملک ميں سياسی فيصلوں کی ضامن تو ہميشہ فوج بنتی ہے ، تو بے نظير بھٹو نے مسکرا کر صرف اتنا کہا کہ اس معاہدے کے پاسداری انکے سياسی وارث کريں گے ، فوج نہيں يہی راستہ سياسی قائدين کے لئے راہ نجات ثابت ہوگا ،مجھے آج بھی ياد ہے اس معاہدے کے بعد اسلام آباد ميں ايک پريس کانفرنس ميں کسی صحافی نے جنرل پرويز مشرف سے ، بے نظير بھٹو اور نواز شريف کے سياسی مستقبل کے بارے ميں پو چھا تو انکا جواب تھا "دونوں کو بھول جائيں وہ اب نہيں آسکتے "

جسٹس افتخار چودھری نے صدر جنرل پرويز مشرف سے جس ملاقات ميں مستعفی ہونے سے انکار کيا تھا کہا جاتا ہے کہ صدر جنرل پرويز مشرف کے بعض رفقائے کار جن ميں نماياں نام جنرل ر اشفاق پرويز کيانی کا آتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ جسٹس افتخار چودھری انکے ہی اشارے پر ڈٹے رہے ،
کيونکہ ملاقات کے بعد ،جنرل پرويز مشرف ،اس وقت کے آئی ايس آئی چيف ، جنرل ر اشفاق پرويز کيانی کو يہ ہدايات دے کر کراچی روانہ ہو گئے تھے کہ جسٹس افتخار چودھری سے استعفی لے ليا جائے ، اسی لئے جسٹس چودھری نے اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر ہی سخت موقف اختيار کيا ، مگر صدر جنرل پرويز مشرف کو يہ بات بہت دير ميں سمجھ آئی کہ ، جنرل اشفاق پرويز کيانی آرمی چيف بنے کے اميد وار ہيں ، جنرل مشرف کے اقتدار کا طول انہيں فوج کے اعلی ترين عہدے پر براجمان ہونے سے محروم کرسکتا ہے ،

جس دن سے سابق چيف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے سندھ ہائی کورٹ بار کی پچاس سالہ تقريب ميں 12 مئی 2007 کو شرکت کا اعلان کيا ، سندھ کے گورنر ھاؤس ميں اسٹبلشمنٹ کے اداروں کے اعلی افسران کی سرگرمياں اور اس وقت کے ايم کيو ايم سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے طويل ميٹنگز کا آغاز ہوگيا تھا، ان ميٹنگز ميں اس وقت کے وزير داخلہ وسيم اختر ، اور ايم کيو ايم کے رہنما شريک ہوتے رہے ،
اس وقت کے طاقتور صدر جنرل پرويز مشرف کی سابق گورنر سندھ کو ايک ہی ہدايت تھی کہ سابق چيف جسٹس افتخار چودھری کراچی شہر ميں داخل نہ ہونے پائيں ،
اب اس آپریشن کی کمانڈ جنرل پرويز مشرف کی طرف سے اس وقت کے ملٹری انٹلجنس کے سربراہ جنرل نديم اعجاز اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے سمبھال ليں ،انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی وکيل عاصمہ جہانگير نے 11مئی 2007 کو الطاف حسين کو فون کرکے چيف جسٹس کا راستہ روکنے کی کوشش سے علحيدہ ہونے کا مشورہ ديا اور کہا کہ ايم کيو ايم مشرف کے ہاتھوں استعمال ہورہی ہے ، الطاف حسین نے عاصمہ جہانگير کی بات نہيں مانی،

انتہائی معتبر زرائع کا کہنا ہے کہ انجانی مصلحتوں کی وجہ سے آئی ايس آئی کو اس معاملہ سے دور رکھا گيا ، 10 اور 11 مئی 2007 کی درميانی شب گورنر ھاؤس کراچی ميں ايم آئی چيف جنرل نديم اعجاز نے ايمُ کيو ایم کی قيادت اور سيکورٹی حکام کو علحيدہ علحيدہ ميٹنگز ميں جنرل پرويز مشرف کے احکامات سے آگاہ کر ديا،

قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول نيم فوجی رينجرز اور پوليس کو کسی بھی غير معمولی صورتحال ميں لا تعلق رہنے کی ہدايات تھيں ، مگر اٹيلجنس بيورو آئی بی ، کے ايک اعلیٰ عہدے دار نے جنرل نديم اعجاز سے ميٹنگ ميں کہا کہ شہر ميں کشيدگی بڑھ رہی ہے دونوں جانب اسلحہ بردار گروپ تياری کر رہے ہيں ، اگر ايم کيو ايم کے مسلح ونگ کو استعمال کيا تو بہت خونريزی کا خدشہ ہے ،زرائع کا کہنا ہے کہ يہ بات سنتے ہی جنرل نديم اعجاز نے نہايت جارہانہ انداز ميں کہا ” کتنی ہی لاشيں گريں ” افتخار چودھری شہر ميں داخل نہيں ہونا چاہيئے ” يہ صدر مملکت کا حکم ہے "

اس ميٹنگ کے خاتمہ پر صوبائی وزير داخلہ وسيم اختر نے شہر بھر اہم شاہراہوں کو کنٹينرز لگا کر سيل کرواديا،ايم کيو ايم کی تنظيمی کميٹی کے سربراہ حماد صديقی شہر بھر ميں ہتھيار بند گروپوں کے کمانڈر مقرر ہوئے ،شاہراہ فيصل اور ايئر پورٹ کےاطراف کے علاقوں ميں ايم کيو ايم کے مختلف يونٹوں کے لڑکوں نے پوزيشن فجر کی نماز کے بعد سمبھال لی تھيں ، انکا ٹاسک تھا کہ جسٹس افتخار چودھری ائیر پورٹ سے باہر نہ آنے پائيں ،

دوپہر 12 بجے کی فلائٹ سے افتخار چودھری کو کراچی پہنچنا تھا ، وکلا کے مختلف دھڑے، اے اين پی، پاکستان پیپلز پارٹی ، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی، مسلم ليگ ن اور جماعت اسلامی کے کارکن بھی جسٹس افتخار چودھری کے استقبال کے لئے ائیر پورٹ کی جانب رواں دواں تھے،
جسٹس افتخار چودھری کے کراچی ائیر پورٹ پر لينڈ کرتے ہی ، طے شدہ منصوبہ کے مطابق پيپلز پارٹی کی ايک ريلی اور ملير سے استقبال کے لئے آنے والے وکلاء کے گروپ پر فائرنگ کی گئی ،

استقبال کے لئے لئے آنے والے شہر کے کشيدہ ماحول اور ايم کيو ايم کی تياريوں کو ديکھ کر مسلح ہوکر آئے تھے ، پھر کيا تھا ديکھتے ہی ديکھتے شاہراہ فيصل ميدان جنگ کا منظر پيش کرنے لگی ايک دوسرے پر براہراست فائرنگ کی گئی املاک اور گاڑيوں کو نذر آتش کيا گيا، ناتھا خان برج سے ليکر عائشہ باوانی کالج تک جديد ہتھياروں سے ايک دوسرے پر فائرنگ ہو رہی تھی، ايم کيو ايم کا پلہ اسلئے بھاری تھا کہ 2007 ميں جسٹس افتخار چودھری کا شہر ميں داخلہ روکنے کے لئے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرويز مشرف نے انہيں "لائسنس ٹو کل "ديا تھا ،
مگر ماضی ميں 92 اور 95 کے آپريشن ميں پوليس اور رينجرز کو ايم کيو ایم کے لئے "لائسنس ٹو کل ” ديا گيا تھا، آپ کو اس پر حيرت نہيں ہونی چاہيئے، کيونکہ اسٹبلشمنٹ کی شطرنج اسی کھيل کا نام ہے ،

دوسری جانب ايم کيو ايم کے جلسہ کے لئے بسوں ميں آنے والے مظاہرين نے سندھ ہائی کورٹ کی عمارت کو محاصرے ميں لے ليا ، انتظاميہ نےکنٹينر اور پانی کے ٹينکرز لگا کر سندھ ہائی کورٹ کی عمارت سيل کر دی تھی، ججز بھی اپنے چيمبر ز ميں نہيں جاسکتے تھے، پوليس غائب تھی اور نيم فوجی رينجرز لا تعلق تھے ،

شہر ميں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات پھيلنا شروع ہوئيں تو کشيدگی مزيد بڑھ گئی، لسبيلہ گرومندر پر ايم کيو ايم اور پنجابی پختون تنظيموں سے تصادم ہوگيا ، جلتی پر تيل کا کام اس وقت ہوا جب آج ٹيلی ويژن نے فائرنگ کرنے والے صرف ايم کيو ايم کے کارکنوں کو لائيو دکھانا شروع کر ديا، ايم کيو ايم کے رہنماؤں نے آج ٹيلی ويژن کے وامق زبيری کو فون کرکے لائيو نشريات روکنے کے لئے کہا، مگر اس وقت کے ڈائريکٹر نيوز طلعت حسين نے اپنے ايجنڈے کے تحت يکطرفہ طور پر نشريات جاری رکھيں جس پر ایم کيو ايم کے مشتعل کارکنوں نے آج ٹی وی کی عمارت پر بھی فائرنگ کی جسے مينجمنٹ نے جنرل مشرف کے سامنے مظلوم بن کر کيش کروايا، اورُمعاوضہ اور اشتہارات بھی وصول کيا،
ہنگامے ، جلاؤ گھيراؤ، فائرنگ سے شام چار بجے تک 50 افراد ھلاک ہو گئے تھے جبکہ دوسو سے زائد افراد زخمی تھے ،

تصادم کرنے والے سياسی گروپوں ميں ايک دوسرے سے نفرت ، دشمنی اور انتقام اس قدر تھا کہ اگر کوئی زخمی جسکا تعلق ايم کیو ايم سے ہو اور جناح اسپتال آگيا تو مسلح گروہ اسے زخمی حالت ميں مزيد تشدد کا نشانہ بناتے، اسی طرح اے اين پی ، پيپلز پارٹی کا کوئی کارکن يا وکيل زخمی حالت ميں عباسی شہيد اسپتال پہنچتا اس پر ايم کيو ايم کے کارکن بھی تشدد کرتے انسان جانور بن گئے ،

شام کو جنرل پرويز مشرف نے اسلام آباد ميں ايک جلسہ منعقد کرکے "مکہ” لہرا کر کہا ديکھ ليا يہ ہے "ميری طاقت ” اب جنرل پرويز مشرف نے سياسی غلطيوں کا آغاز کر ديا تھا ، جو انکے اقتدار سے رخصتی کا جواز بنا ،
کراچی ميں اتنے بڑے سانحہ اور پچاس ہلاکتوں کے بعد بھی نہ اس معاملہ کی عدالتی تحقيقات ہوئيں نہ کميشن بنا اور نہ ہی کسی فريق کے اس سازش ميں ملوث ہونے کی کوئی رپورٹ منظر عام پر آسکی ،2006 ميں لندن ميں بے نظير بھٹو اور نواز شريف کی ملاقات کے بعد چارٹر آف ڈيموکريسی پر دستخط کے بعد ہونے والی پريس کانفرنس ميں دونوں رہنما بہت پرعظم نظر آرہے تھے ،
ميں ان دنوں لندن ميں تھا اس پريس کانفرنس کے بعد جب ميں نے محترمہ بے نظير بھٹو سے پوچھا کہ ، آپ کے مياں نواز شريف سے بہت تلخ تعلقات رہے ہيں ، چارٹر آف ڈيموکريسی کے معاہدے کا ضامن کون ہے ؟ ہمارے ملک ميں ضامن تو ہميشہ فوج بنتی ہے ، تو بے نظير بھٹو نے مسکرا کر صرف اتنا کہا کہ اس معاہدے کے پاسداری انکے سياسی وارث کريں گے ، فوج نہيں يہی راستہ سياسی قائدين کی راہ نجات ثابت ہوگا ،
مجھے آج بھی ياد ہے اس معاہدے کے بعد اسلام آباد ميں ايک پريس کانفرنس ميں صحافی نے جنرل پرويز مشرف سے ، بے نظير بھٹو اور نواز شريف کے سياسی مستقبل کے بارے ميں پو چھا تو انکا جواب تھا "دونوں کو بھول جائيں وہ اب نہيں آسکتے "انتہائی معتبر زرائع کا کہنا ہے کہ انجانی مصلحتوں کی وجہ سے آئی ايس آئی کو اس معاملہ سے دور رکھا گيا ، 10 اور 11 مئی 2007 کی درميانی شب گورنر ھاؤس کراچی ميں ايم آئی چيف جنرل نديم اعجاز ايمُ کيو ایم کی قيادت اور سيکورٹی حکام کو علحيدہ علحيدہ ميٹنگز ميں جنرل پرويز مشرف کے احکامات سے آگاہ کر ديا، قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول نيم فوجی رينجرز اور پوليس کو کسی بھی غير معمولی صورتحال ميں لا تعلق رہنے کی ہدايات تھيں ، مگر اٹيلجنس بيورو آئی بی ، کے ايک اعلیٰ عہدے دار نے جنرل نديم اعجاز سے کہا کہ شہر ميں کشيدگی بڑھ رہی ہے دونوں جانب اسلحہ بردار گروپ تياری کر رہے ہيں ، اگر ايم کيو ايم کے مسلح ونگ کو استعمال کيا تو بہت خونريزی کا خدشہ ہے ،زرائع کا کہنا ہے کہ يہ بات سنتے ہی جنرل ر نديم اعجاز نے نہايت جارہانہ انداز ميں کہا ” کتنی ہی لاشيں گريں ” افتخار چودھری شہر ميں داخل نہيں ہونا چاہيئے ” يہ صدر مملکت کا حکم ہے "

ايم کيو ايم کی تنظيمی کميٹی کے سربراہ حماد صديقی شہر بھر ميں ہتھيار بند گروپوں کے کمانڈر مقرر ہوئے ، شاہراہ فيصل اور ايئر پورٹ کےاطراف کے علاقوں ميں ايم کيو ايم کے مختلف يونٹوں کے لڑکوں نے پوزيشن فجر کی نماز کے بعد سمبھال لی تھيں ، انکا ٹاسک تھا کہ جسٹس افتخار چودھری ائیر پورٹ سے باہر نہ آنے پائيں ،

دوپہر 12 بجے کی فلائٹ سے افتخار چودھری کو کراچی پہنچنا تھا ، وکلا کے مختلف دھڑے، اے اين پی، پاکستان پیپلز پارٹی ، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی، مسلم ليگ ن اور جماعت اسلامی کے کارکن بھی جسٹس افتخار چودھری کے استقبال کے لئے ائیر پورٹ کی جانب رواں دواں تھے، جسٹس افتخار چودھری کے کراچی ائیر پورٹ پر لينڈ کرتے ہی ، طے شدہ منصوبہ کے مطابق پيپلز پارٹی کی ايک ريلی اور ملير سے استقبال کے لئے آنے والے وکلاء کے گروپ پر فائرنگ کی گئی ،استقبال کے لئے لئے آنے والے شہر کے کشيدہ ماحول اور ايم کيو ايم کی تياريوں کو ديکھ کر مسلح ہوکر آئے تھے ، پھر کيا تھا ديکھتے ہی ديکھتے شاہراہ فيصل ميدان جنگ کا منظر پيش کرنے لگی ايک دوسرے پر براہراست فائرنگ کی گئی املاک اور گاڑيوں کو نذر آتش کيا گيا، ناتھا خان برج سے ليکر عائشہ باوانی کالج تک جديد ہتھياروں سے ايک دوسرے پر فائرنگ ہو رہی تھی، ايم کيو ايم کا پلہ اسلئے بھاری تھا کہ 2007 ميں جسٹس افتخار چودھری کا شہر ميں داخلہ روکنے کے لئے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرويز مشرف نے انہيں "لائسنس ٹو کل "ديا تھا ،مگر ماضی ميں 92 اور 95 کے آپريشن ميں پوليس اور رينجرز کو ايم کيو ایم کے لئے "لائسنس ٹو کل ” ديا گيا تھا، آپ کو اس پر حيرت نہيں ہونی چاہيئے، کيونکہ اسٹبلشمنٹ کی شطرنج اسی کھيل کا نام ہے ،

دوسری جانب بسوں ميں آنے والے مظاہرين نے سندھ ہائی کورٹ کی عمارت کو محاصرے ميں لے ليا ، انتظاميہ نےکنٹينر اور پانی کے ٹينکرز لگا کر سندھ ہائی کورٹ کی عمارت سيل کر دی تھی، ججز بھی اپنے چيمبر ز ميں نہيں جاسکتے تھے، پوليس غائب تھی اور نيم فوجی رينجرز لا تعلق تھے ،
شہر ميں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات پھيلنا شروع ہوئيں تو کشيدگی مزيد بڑھ گئی، لسبيلہ گرومندر پر ايم کيو ايم اور پنجابی پختون تنظيموں سے تصادم ہوگيا ، جلتی پر تيل کا کام اس وقت ہوا جب آج ٹيلی ويژن نے فائرنگ کرنے والے صرف ايم کيو ايم کے کارکنوں کو لائيو دکھانا شروع کر ديا، ايم کيو ايم کے رہنماؤں نے آج ٹيلی ويژن کے وامق زبيری کو فون کرکے لائيو نشريات روکنے کے لئے کہا، مگر اس وقت کے ڈائريکٹر نيوز طلعت حسين نے اپنے ايجنڈے کے تحت يکطرفہ طور پر نشريات جاری رکھيں جس پر ایم کيو ايم کے مشتعل کارکنوں نے آج ٹی وی کی عمارت پر بھی فائرنگ کی جسے مينجمنٹ نے جنرل مشرف کے سامنے مظلوم بن کر کيش کروايا، اورُمعاوضہ اور اشتہارات بھی وصول کيا،
ہنگامے ، جلاؤ گھيراؤ، فائرنگ سے شام چار بجے تک 50 افراد ھلاک ہو گئے تھے جبکہ دوسو سے زائد افراد زخمی تھے ،
تصادم کرنے والے سياسی گروپوں ميں ايک دوسرے سے نفرت ، دشمنی اور انتقام اس قدر تھا کہ اگر کوئی زخمی جسکا تعلق ايم کیو ايم سے ہو اور جناح اسپتال آگيا تو مسلح گروہ اسے زخمی حالت ميں مزيد تشدد کا نشانہ بناتے، اسی طرح اے اين پی ، پيپلز پارٹی کا کوئی کارکن يا وکيل زخمی حالت ميں عباسی شہيد اسپتال پہنچتا اس پر ايم کيو ايم کے کارکن بھی تشدد کرتے ،
شام کو جنرل پرويز مشرف نے اسلام آباد ميں ايک جلسہ منعقد کرکے "مکہ” لہرا کر کہا ديکھ ليا يہ ہے "ميری طاقت ” اب جنرل پرويز مشرف نے سياسی غلطيوں کا آغاز کر ديا تھا ، جو انکے اقتدار سے رخصتی کا جواز بنا ،
کراچی ميں اتنے بڑے سانحہ اور پچاس ہلاکتوں کے بعد بھی نہ اس معاملہ کی عدالتی تحقيقات ہوئيں نہ کميشن بنا اور نہ ہی کسی فريق کے اس سازش ميں ملوث ہونے کی کوئی رپورٹ منظر عام پر آسکی ،
اہم بات يہ ہے کہ چيف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے لئے ريلياں پورے ملک ميں منعقد ہوئيں مگر صرف کراچی میں ريلی روکنے کی کوشش کيوں کی گئی ؟؟ ايم کيو ايم کے اس اقدام کا نقصان يہ پہنچا کہ ، پارٹی واپس 1990 کی دھائی ميں واپس چلی گئی ،

پچھلی پوسٹ

دیکھو سورج کو کتنا روشن ہے, کتنا بڑا ہے

اگلی پوسٹ

افغان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، فتح خیل پولیس پوسٹ پرحملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
افغان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، فتح خیل پولیس پوسٹ پرحملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا

افغان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، فتح خیل پولیس پوسٹ پرحملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper