دیکھو سورج کو کتنا روشن ہے,
کتنا بڑا ہے,
اور کتنا ضرورین ہے،
پھر بھی ڈوب جاتا ہے بنا شور کئیے،
نہ شکایت نہ فریاد نہ ضد بس وقت آیا اور ڈوب گیا۔
ہم بھی ایسے ہی ہیں، آج چمک رہے ہیں بول رہے ہیں ،
دوڑ رہے ہیں ،
کل خاموش ہو جاہیں گے ،
کسی دن ہماری بھی شام ہو جائے گی،
ہمارا بھی نام مٹ جائے گا ہماری جگہ بھی خالی ہو جائے گی۔
مگر سورج سے سیکھو وہ ڈوبتا ہے، تو اندھیرا نہیں چھوڑتا چاند دے جاتا ہے ،تارے دے جاتا ہے، وہ جاتا ہے تو یقین دے کر جاتا ہے کہ ،صبح پھر ہو گی اور۔اسکی۔جگہ ایک اور سورج چمکے گا ،
ہم بھی ڈوبیں تو کچھ دے کر جائیں کوئی دعا کوئی سبق کوئی یاد تاکہ ہمارے جانے کے بعد کوئی کہے اچھا تھا روشنی دیتا تھا۔
سورج ڈوب کر بھی زندہ رہتا ہے، اپنی کرنوں میں، اپنی گرمی میں، انسان بھی مر کر زندہ رہتا ہے، اپنے کردار میں اپنے عمل میں ڈوبنے سے ڈرو مت ،ڈرو اس بات سے کہ ڈوب جاؤ اور پیچھے اندھیرا چھوڑ جاؤ
کسی دن ہم بھی ڈوب جاہیں گے اس سورج کی طرح
بس ڈوبنے سے پہلے چمکنا ضروری ہے.
ڈاکٹر فرح ناز راجہ


