لوری بچوں کے ادب کی قدیم ترین اور بنیادی صنف ہے، جو ماں کی ممتا، شفقت اور محبت کا حسین اظہار ہے۔ لفظ ’’لوری‘‘ دراصل ’’لار‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی لاڈ اور پیار کے ہیں۔ یہ وہ نغماتی یا شاعرانہ کلام ہے جسے مائیں اپنے بچوں کو سلانے، بہلانے یا چپ کرانے کے لیے مدھم اور مترنم آواز میں گاتی ہیں۔ لوری کسی خاص بحر، وزن یا ہیئت کی پابند نہیں ہوتی، مگر اس کی سادگی، صوتی آہنگ اور تکرار اسے نہایت مؤثر بنا دیتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں لوری کی روایت نہایت قدیم ہے۔ ابتدائی ادوار میں انسان اپنے تجربات اور مشاہدات کو قصوں اور کہانیوں کی صورت میں بیان کرتا تھا، تب بھی بچوں کو سلانے کے لیے گنگناہٹ اور لے کا استعمال کیا جاتا تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوریوں کی ابتدائی شکلیں قدیم تہذیبوں میں بھی موجود تھیں، جہاں کبھی ان میں خوف کا عنصر بھی شامل تھا، مگر رفتہ رفتہ یہ محبت، تسکین اور دعاؤں کا پیکر بن گئیں۔
لوری دنیا کی تقریباً ہر زبان اور تہذیب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ پاکستانی زبانوں میں پنجابی میں اسے
’’لوری‘‘، پشتو میں ’’اللہ ہو‘‘، اور اردو میں ’’لولی‘‘ یا ’’جھولنا‘‘ کہا جاتا ہے۔ مختلف زبانوں میں نام اور انداز کے فرق کے باوجود ان کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے: بچے کو سکون دینا اور نیند کی آغوش میں لے جانا۔
اردو میں لوریوں کی خوبصورت مثالوں میں ’’چندا ماما دور کے‘‘ خاص طور پر مقبول ہے:
چندا ماما دور کے
کھوئے پکائیں دودھ کے
آپ کھائیں تھالی میں
منے کو دیں پیالی میں
اسی طرح ایک اور مشہور لوری ماں کی ممتا اور دعا کا اظہار یوں کرتی ہے:
سو جا میرے دل کے ٹکڑے سو جا میری جان
تو ہے مجھ کو جان سے پیارا تجھ پر میں قربان
ان لوریوں میں کبھی بچے کو خوابوں کی حسین دنیا دکھائی جاتی ہے، جیسے پریوں کی نگری اور چاند دیس کا تصور، اور کبھی نرمی سے نیند کی طرف بلایا جاتا ہے۔
لوری کا سب سے اہم پہلو اس کا صوتی اثر ہے۔ بچے اگرچہ الفاظ کا مفہوم نہیں سمجھتے، مگر ماں کی آواز کا ترنم، ردھم اور دھیما لہجہ ان کے حواس کو متاثر کرتا ہے اور انہیں پُرسکون کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچہ ماں کی گود میں لوری سنتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے، جو اس کی ذہنی اور جذباتی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
بچوں کے ادب کے تناظر میں لوری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بچہ دنیا میں آتے ہی سب سے پہلے لوری سنتا ہے، جس کے ذریعے وہ زبان، آواز اور جذبات سے آشنا ہوتا ہے۔ یہ لوریاں اس کے لاشعور میں الفاظ کا ذخیرہ محفوظ کرتی ہیں اور اس کی لسانی تربیت میں مدد دیتی ہیں، جس پر آگے چل کر بچوں کے ادب کی دوسری اصناف کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
لوریوں میں تخیلاتی اور ثقافتی عناصر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ بعض لوریوں میں چاند، پریوں، خوابوں کی دنیا اور محبت بھرے مناظر شامل ہوتے ہیں، جبکہ بعض میں مذہبی عقائد، نعتیہ رنگ اور منقبت اہلِ بیت کے جذبات بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ مثلاً:
لامکاں کے تم ہو بے شک بادشاہ
دو جہاں میں تم ہو فخر انبیاء
اس طرح لوری صرف نیند کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی، مذہبی اور جذباتی تربیت کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔
اگرچہ وقت کے ساتھ تہذیبی تبدیلیوں نے لوریوں کی روایت کو کمزور کیا ہے، مگر یہ صنف آج بھی زندہ ہے۔ دنیا بھر میں مائیں آج بھی کسی نہ کسی صورت میں بچوں کو گنگنا کر سلاتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوری انسانی فطرت اور مادری محبت کا لازمی اظہار ہے۔
مختصراً، لوری ماں کی محبت، زبان کی ابتدائی تربیت، تہذیبی ورثے اور جذباتی سکون کا حسین امتزاج ہے، جو بچوں کے ادب کی بنیاد بھی ہے اور انسانی احساسات کا ایک لازوال استعارہ بھی۔
لوری
سو جا ، میرے پیارے سو جا
میرے راج دلارے سو جا
دنیا پر ہے رات کا ڈیرا
ہر جانب ہے نیند کا پھیرا
چڑیوں نے بھی کیا بسیرا
سو گئے دن کے نظارے سو جا
سو جا ، میرے پیارے سو جا
چاند ستارے لوری گائیں
نکلیں ماں کے دل سے دعائیں
رد ہوں تیری ساری بلائیں
میری جان سے پیارے سو جا
میرے راج دلارے سو جا
اے میرے نازوں کے پالے
پلکوں پلکوں خواب سجا لے
رات بخیر ، خدا کے حوالے
میرے دل کے سہارے سو جا
سو جا ، میرے پیارے سو جا

