سچ تو یہ ہے کہ عوام پریشان ہیں اور احتجاج تو بنتا ہے ، یہ عوام اور کچھ نہیں کر سکتی تو احتجاج کا حق تو رکھتی ہی ہے نا….
اتنا کچھ حکومت کی طرف سے ہو ہی رہا ہے جسں سے عوام ناخوش ہے اور مسلسل پریشانی کا سامنا کر رہی ہے اگر کچھ عوام بھی تھوڑا بہت غلط کر لے تو کیا مضائقہ ہے حکومت کو بھی بادلِ نا خواستہ برداشت کر لینا چاہیے….
یقینا حکومت کو ادراک تو ہو گا ہی کہ عوام پریشان ہے بلکہ حیران و پریشان ہے نہ انہیں گھر سے باہر سکون ہے نہ گھر پہ سکون نصیب ہے . گھر سے باہر سڑکوں کی ناگفتہ بہ بلکہ شکستہ حال صورتِ حال، بے ہنگم ٹریفک اور ٹریفک پولیس کے وقت بے وقت جائز و ناجائز چالان اور سونے پہ سہاگہ یہ سگنل اور چور دروازوں پہ لگے کیمرے جو عوام کے لئے دردِ سری بنے ہوئے ہیں. اس کے علاوہ ہر دوسرے دن پیٹرول مہنگا کر کے عوام کے سروں پہ پیٹرول بم پھاڑ دیا جاتا ہے.
ان سب حالات سے نبٹنے کے بعد گھر میں داخل ہوتے ہی بندے کو علم ہوتا ہے کہ بجلی ندارد جب تھکا ہارا بندہ باہر سے منہ کالا کرنے کے بعد غسل خانے میں داخل ہوتا ہے تو نل سے پانی غائب ملتا ہے پھر غسل خانے سے نکل کر جب باورچی خانے کچھ کھانے پکانے وہ گھستا ہے تو چولہے سے گیس غائب ملتی ہے…. اب عوام کچھ تو کرے گی نا رونے پیٹنے سے تو کچھ کبھی ہوا نہیں . ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کا تو سب سے برا حال ہے کراچی کا تو کوئ پرسانِ حال نہیں….
بے شک اینٹوں سے بنا مکان اس وقت تک گھر نہیں کہلاتا جب تک وہ آباد نہیں ہوتا بلا شبہ گھر رہائشیوں سے بنتا ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ کراچی کا کوئ گھر ایسا نہیں جو لٹیروں کے ہاتھوں لٹا نا ہو اور نہ ہی کوئ گھر ایسا ہے جہاں کوئ فرد زخمی یا موت سے ہمکنار نہ ہوا ہو سڑکوں پہ دندناتے اور مان مانیاں کرتے یہ ڈمپرز اور پانی کے ٹینکرز آئے دن اپنے ٹائروں تلے انسانی جانوں کو روندتے پھرتے ہیں . روز بیچاری عوام شور مچاتی ہے روتی پیٹتی اپنے پیاروں کو دفناتی ہے لیکن کوئی بھی پوچھنے والا نہیں . افسوس کراچی کا حال یتیموں جیسا ہو چکا ہے جس کی کفالت کا ذمہ نہ سندھ حکومت لیتی ہے اور نہ حکومتِ وقت لیتی ہے .
اب تو بیچاری عوام کو یہ سمجھ نہیں آتا ہے کہ حکومت اور اداروں کا کام ہے کیا ہے اور یہ بے شمار ادارے بنائے کس لئے جاتے ہیں؟ نیز یہ وزراء اور کرتا دھرتا ان اداروں میں بیٹھ کر کرتے کیا ہیں؟؟؟ سوائے تنخواہ لینے اور عیاشیوں کے… اوپر سے نیچے تک سب اپنے ذاتی مفاد کے لئے آتے ہیں اور وقت پورا ہونے کے بعد اپنا بنایا ہوا مال سمیٹ کر دامن جھاڑتے ہوئے چلے جاتے ہیں اگلی باری لگانے کے لیے…. اب جب ہونا کچھ نہیں تو حکومتِ وقت کرنے دے بیچاری عوام کو احتجاج …. بیچاری دکھیاری خوش ہو جائے گی کہ ہم نے احتجاج کیا تو تھا نا!!!! کچھ دل کو ہی تسلی ہو جائے گی . بھلا کیا ہو جائے گا زیادہ سے زیادہ بس چند کروڑ کا نقصان وہ تو روز ہی ہوتا ہے ، عوام تو مری ہوئ ہے بھلا چوہا یا شیر کوئ بھی مرا ہوا ہو تو اس کے وجود سے کسی کا بھلا یا نقصان کیا ہونا ….
اور اگر حالات سنگین تو کب نہیں ہوتے سنگین جب سے پاکستانی عوام پیدا ہوئی ہے یہی سنتی آ رہی ہے کہ ہمارا ملک انتہائ نازک دور سے گزر رہا ہے…. بخدا عوام انتظار کرتی ہی رہی نہ اس ملک کے حکمرانوں کی نزاکت بدلی نہ ملک نازک حالات سے نکل پایا…..
لہذا حکومت سے التماس ہے کہ احتجاج ہونے دیں
شاید ان مرے ہوئے مردہ ضمیروں میں سے کسی مردہ ضمیر میں کچھ ضمیر باقی ہو اور وہ یکدم اٹھ کھڑا ہو اور قوم کا بھلا کر جائے ، امید پہ دنیا قائم ہے….
