انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہجرت کوئی نیا عمل نہیں ، انسان ہمیشہ بہتر مستقبل ،امن ، روز گار اور عزت کی تلاش میں سرحدیں پار کرتارہتا ہے، لیکن اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے بعد ہجرت کا رجحان جس تیزی سے بڑھتا ہے، وہ عالمی سیاست، معیشیت اور سماج کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے، آج ہجرت مخلف نقل مکانی نہیں بلکہ عالمی نظام کی کمزوریوں، جنگوں ہموسمیاتی تبدیلی ، معاشی ناہمواری اور طاقت کی سیاست کا آئینہ بن چکی ہے ،گزشتہ برسوں میں بحیرہ روم ہزاروں پناہ گزینوں کے لیے اُمید اور موت دونوں کی علامت بن گیا ہے، Europe کی ریاستیں ایک طرف انسانی حقوق کا علم بلند کرتی ہیں تو دوسری طرف سخت سرحدی قوانین، دیوار میں اور بحری گشت بڑھارہی ہیں، اٹلی کے جزیرے لیمیڈوسا پر کشتیوں کے اندر امیگریشن پالیسی پر اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں، کہ یورپ خود اس مسئلے پر منقسم ہے سیاسی طور پر دائیں بازو کی جماعتوں کو ہجرت کے مسئلے نے تقویت دی ہے، بے روزگاری، معاشی دبا ؤ اور ثقافتی تبدیلی کے خدشات کو بنیا د بنا کر امیگریشن کے خلاف بیانیہ مضبوط ہورہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ سرحدوں کی تختی مسئلے کا حل ہے یا یہ انسانی المیہ مزید گہرا کر رہیہے، ہجرت کی سب سے بڑی وجہ مسلح تنازعات ہیں Gaza strip میں جاری تباہی ، Syria کی طویل خانہ جنگی ، افغانستان کی غیر یقینی صورت حال اور سوڈان میں خانہ جنگی نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا ہے، یہ لوگ نہ صرف اپنی زمین بلکہاپنی شناخت، یادیں اور سماجی رشتے بھی پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہیں، عالمی طاقتوں کی مداخلت، پراکسی جنگیں اور وسائل کی سیاست ان تنازعات کو طول دیتی رہی ہیں، جب تک تنازعات کا منصفانہ حل تلاش نہیں کیا جا تا ہجرت کی لہریں رکھنے والی نہیں مشرق وسطی میں جاری کشیدگی ، ایران اور اسرائیل کا تنازع ، یوکرین کی جنگ اور افریقہ کے بعض خطوں میں خانہ جنگینے لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے، عالمی ادارہ ، (United nations high commissioner for refugees(UNHCR کے مطابق گزشتہ چندبرسوں میں جبری نقل مکانی کرنے والوں کی تعدا تا ریخی سطح پر جا پہنچتی ہے، اب حالیہ جنگوں کے بعد عالمی ہجرت کو کس زاویے سے دیکھا جائے؟ کیا یہ صرف انسانی المیہ ہے یا عالمی سیاست کا نیا رخ ؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی جنگ کے بعد ہجرت کی نئی لہر اٹھی دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے ، 2011 میں syria کی خانہ جنگی نے یورپ کی سیاست بدل دی، اس طرح یوکرین پر روسی حملے کے بعد لاکھوں افراد نے پولینڈ ، جرمنی اور دیگر ممالک کا رخ کیا،ہموسمیاتی تبدیلی نے ایک نئی قسم کے پناہ گزین پیدا کیئے ہیں جنھیں, Cliamate Refuages کیا جارہا ہے،افریقہ میں خشکسال، جنوبی ایشیا ء میں سیلاب اور سمندری سطح میں اضافہ لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر رہا ہے ، پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ ماحولیاتی آقات بھی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سبب بن سکتی ہیں، بدقسمتی سے عالمی قوانین ابھی تک موسمیاتی پناہ گزینوں کو مکمل درجہ نہیں دیتیں ، جس کے باعث اُن کی مشکلات دو چند ہو جاتی ہیں، مسلم اکثریت ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کو کثرند ہی اور ثقافتی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دہشت گردی کے خوف اور سیکیورٹی خدشات نے مغربی ممالک کی پالیسیوں کو مزید سخت کیا ہے ، حالانکہ اکثریت اُن لوگوں کی ہے جو صرف محفوظ زندگی چاہتے ہیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں بار بار خبر دار کر چکی ہیں کہ اجتماعی سزا اور مذ ہبی بنیا دوں پر پالیسی ساری عالمی امن کے لیے خطر ناک ہے، پاکستان خود لاکھوں افغانی مہاجریں کی میزبانی کرتا آیا ہے، یہ دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہیں نے طویل عرصہ تک پناہ گزینوں کو پناہ دی تاہم معاشی دباؤ سیکیورٹی مسائل اور وسائل کی کمی نے پاکستانیوں کے لیے ذمہ داری مشکل بنادی ہے، کیا عالمی برادری ایسے ممالک کا بوجھ اٹھانے یا بانٹنے کے لیے تیار ہے یا ترقی پزیر ممالک کو تنہا ہی اس انسانی آزمائش کا سامنا کرنا ہوگا ؟ ہجرت کے مسئلے پر عالمی بیا نیہا کثر دو انتہا ہوں کے درمیان جھولتا ہے، ایک طرف مکمل ہمدردی اور کھلی سرخروں کی بات، دوسری طرف مکمل بندش اور اخراج ، حقیقت ان دونوں کے درمیان متوازن حکمت عملی کی متقافی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں ترقی پزید ممالک کی معیشیت کو مستحکم کیا جائے تا کہ لوگ اپنے وطن میں روزگار پاسکیں، عالمی سطح پر مہاجرین کے لیے منصفانہ نظام وضع کیا جائے ، اگر موجودہ رجحانات بر قرار ہے تو آئیند ہ دہائی میں ہجرت کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، آبادی میں اضافہ ماحولیاتی بحران اور علاقائی جنگیں اس عمل کو تیز کریں گی، یہ مسئلہ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی استحکام کے لیے بنیادی چیلنج بن جائے گا، دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ہجرت کو دیواروں سے نہیں روکا جا سکتا اسے انصاف ،ترقی اور امن سے کم کیا جاسکتا ہے، اگر عالمی قیادت نے بصیرت کا مظاہرہ نہ کیا تو سرحدیں سخت ہوں گی ، سماج تقسیم ہوگا اور انسانی المیہ اور گہرا ہوتا جائے گا، عالمی بحجرت در اصل عالمی ضمیر کا امتحان ہے کیا ہم ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں کمزور سرحدوں کے پار دھکیل دیےجائیں، یا ایسی دنیا جہاں انسانی وقار کواولین ترجیح حاصل ہو فیصلہ عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے مگر اس کے اثرات پوری انسانیت پر پڑیں گے ہجرت کا مسئلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت سرحدوں سے بڑی ہے، اگر دنیا نے بروقت دانشمندانہ فیصلے نہ کیئے تو آنے والے برسوں میں ہجرت صرف ایک خبر نہیں بلکہ عالمی نظام کی سب سے بڑی آزمائش بن جائے گی
