اللّٰہ کریم کے پاکستان کی صورت میں مسلمانان عالم کو تحفہ دیا ہے کہ پوری دنیا اس پر فخر کرتی ہے ماضی کے چند فیصلوں اور غلط پالیسیوں اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے نے بدنام کرنے کرنے کوششیں کی گئی ۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے جب دیکھا کہ پاکستان دنیا میں مستند ایٹمی طاقت بن گیاہے ۔اب وہ کشمیر کے مسئلے اقوام عالم میں اٹھائے گا تو پاکستان پر اپنے ملک میں ہی “خود کروائے گئے دہشتگردی”کے واقعات کے الزامات لگائے ۔فالزاپریشن کی آڑ میں اقوام عالم کو پاکستان کے خلاف پابندیاں اور کارروائیوں پر اکساتا رہے ہے ۔ جب کچھ نہ ہو سکا تو بھارتی ایجنسی “را” نے افغان ٹی ٹی پی۔اور بلوچستان کے نام نہاد علیحدگی پسندوں کو” خرید” کر خون کی ہولی کھیلی گئی ۔بلوچستان کے طول و عرض میں شناختی کارڈز چیک کر پنجاب
کے رہائشیوں کا قتل عام کیا گیا ۔ان کے کاروبار پر قبضے کئے گئے ۔بلوچستان کی زمین کو پنجابیوں پر تنگ کیا گیا ۔بلوچستان خصوصاً کوئٹہ شہر سے کاروباری افراد ۔پروفیسر۔ٹیچرز۔انجیئرز۔ڈاکٹرز۔پلمبر۔پولیس۔نائی ۔موچی۔ اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں پر بھارتی سرپرستی میں پنجاب سے تعلق کی بنیاد پر زندگی تنگ کردی گئی ۔جب بلوچستان سے روانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد کی لاشیں پنجاب پہنچنی شروع ہو گئی تو پورے بلوچستان میں اس بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی پر خاموشی چھائی ہوئی تھی اس دوران ملکی یک جہتی ۔بھائی چارے کے حق اور۔بی ایل اے ۔بی ایل ایف کی بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کے خلاف ۔مضبوط۔توانا۔حق کی آواز بلند ہوئی ۔جس نے دہشت گردی ۔بلوچستان میں ناانصافی ۔پاکستانیوں کے قتل عام ۔سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں و افسران کے اغواء تشدد ۔اور شہادتوں کے خلاف آواز اٹھائی ۔بلوچستان کے عوام کو ان کا حق حاصل کرنے ۔بلوچستان کے “سیاسی ایلیٹ کلب” کی لوٹ مار سے آگاہ کیا ۔جس کے خلاف بلوچستان کی حکومت اور اپوزیشن نے سر جوڑ لئے تھے۔۔وہ آواز ہے محترمہ فرح عظیم شاہ کی ۔جودوسری بار بلوچستان اسمبلی کی رکن ہیں گزشتہ دور حکومت میں وہ ترجمان بلوچستان حکومت بھی تھیں ۔انھوں بلوچستان اور پاکستان کی بیٹی ہونے کا حق اسے ادا کیا ان کے مخالفین بھی ان کی صلاحیتوں کے معترف ہوگئے ۔ قلات کے سید خانوادے سے تعلق رکھنے والی فرح عظیم شاہ کے رکن بلوچستان سے
کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو ممبر تک کامیاب سفر شدید مشکلات مسائل اور پرخار راستوں پر مزین ہے فرح عظیم شاہ بلوچستان اسمبلی کی رکن ہیں اور اس وقت اپنی دوسری مدت پوری کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ بلوچستان اور پاکستان کے عوام کی خدمت کے لیے وقف کیا ہے۔فرح عظیم شاہ کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن (CPA) کی ایگزیکٹو ممبر بھی ہیں۔ وہ بلوچستان کی ترجمان کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
وہ بلوچستان اسمبلی کی ویمن پارلیمنٹری کاکس کی جنرل سیکریٹری ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بی اے پی کے ویمن ونگ کی صدر بھی ہیں۔ انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں خواتین کے حقوق سے متعلق قراردادوں (WRR) کا آغاز کیا۔ وہ ان پارلیمنٹیرینز میں شامل ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف تحریک کی قیادت کی۔ ان کے مضبوط مؤقف کی وجہ سے بلوچستان اسمبلی نے غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی کی۔
فرح عظیم شاہ نے بلوچستان اور پاکستان بھر میں ایمان پاکستان ٹرسٹ کے نام سے ادارہ بنایا ہے جو ملک بھر میں غریبوں اور ناداروں کی مدد کرتا ہے فرح عظیم نے ایمان ٹرسٹ کےپلٹ فارم سےبلوچستان کے نوجوانوں کو اس نعرے کے ساتھ متحرک کیا:“خود پر یقین رکھو، پاکستان پر یقین رکھو۔”
انہوں نے اسی پلیٹ فارم کے تحت “صحت مند بلوچستان” کے لیے کھیلوں کی صحت مند سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا گیا ۔ انہوں نے ضلع قلات، بلوچستان میں مفت طبی ڈسپنسریاں بھی قائم کیں۔ وہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی رکن بھی رہ چکی ہیں محترمہ فرح عظیم شاہ نےگلوبل پیس انٹرنیشنل میگزین کی بنیاد رکھی جو 16 ممالک میں شائع ہوتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے:“منفی سوچ کو ختم کر کے مثبت سوچ کو فروغ دینا۔”فرح عظیم شاہ نےمیگزین کے ذریعے سفارت کاروں، سیاست دانوں، دانشوروں، بین الاقوامی صحافیوں اور تھنک ٹینکس کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں وہ رنگ، نسل، علاقے اور مذہب کی تفریق کے بغیر مشترکہ اقدار کو فروغ دے سکیں۔ انہوں نے 16 ممالک میں امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے بین الاقوامی امن کانفرنسیں بھی منعقد کیں۔
انسانیت اور خواتین کے حقوق کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں European Diplomatic Council کی جانب سے “اعزازی ایوارڈ” سےنوازا گیا فرح عظیم شاہ نے عالمی مسائل پر پرتگالی پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور مختلف ممالک میں ثقافتی کنسرٹس بھی منعقد کیے۔ اس کے علاوہ وہ UK Parliament اور European Parliament میں بھی خطاب کر چکی ہیں۔فرح عظیم شاہ نےInstitute of Global Peace کے نام سے ایک تھنک ٹینک بھی قائم کیا تاکہ مختلف خطوں اور مذاہب کے درمیان فاصلے کو کم کیا جا سکے۔ اس پلیٹ فارم سے انہوں نے امن سے متعلق کئی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
محترمہ فرح عظیم شاہ کا بنیادی مقصد اور مشن یہ ہے کہ دنیا میں امن اور خوشحالی لا کر انسانیت کی بہتری کے لیے کام کیا جائے۔بلوچستان کے سیاسی تاریخ میں محترمہ فرح عظیم شاہ پہلی خاتون ہیں جنھوں نے ترجمان بلوچستان حکومت کی حیثیت سے نمایاں کارکردگی دکھائی ۔رکن بلوچستان کی حیثیت سے جب بلوچستان کے عوام مسائل کے حل کے بات کرتی ہیں تو” سیاسی ایلیٹ “ان کے خلاف محاذ کھول دیتے ہیں کبھی تحریک استحقاق کی آڑ میں محترمہ فرح عظیم شاہ کی بلوچ قوم کے معاشی ۔تعلیمی۔اور امن و امان کے مسائل پر اٹھنے والی “توانا” آواز دبانے کے کوششیں ہوتی ہیں ۔بلوچستان سیاسی ایلیٹ کی
لوٹ مار ۔اور بلوچستان میں فوج اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی بات ہو بلوچستان کی “سیاسی ایلیٹ” متحد ہو جاتے ہیں بلوچستان کے عوام کے دکھ درد بانٹنے والی خاتون کے ساتھ اس غریب اور ناداروں کی دعائیں ہی ہوتی ہیں یہ ہی وجہ ہے فرح عظیم شاہ بلوچستان کی اسمبلی میں ایک نمایاں شخصیت ہیں، جو اپنے علاقے کے مسائل کو حل کرنے کے لئے بھرپور جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان کی زندگی اور کارکردگی بلوچستان کی معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی ترقی کے لئے ایک روشن مثال ہے۔۔بلوچستان کے مسائل بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن یہاں کے لوگوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ فرح عظیم شاہ نے اپنے علاقے اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لئے بھرپور جدوجہد کی ہے،فرح عظیم شاہ بلوچستان کی اسمبلی میں ایک نمایاں شخصیت اور توانا آواز ہیں، بلوچستان کی معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی ترقی کے لئے ایک روشن مثال ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے اور بھی زیادہ کام کریں گی اور بلوچستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اللّٰہ کریم انھیں بامراد فرمائے آمین


