کامران ٹسوری کی گورنر ھاؤس سے رخصتی کے بعد ، ايم کيو ایم اور پيپلز پارٹی ميں اعلی سطح کا پہلا رابطہ ، صدر آصف علی زرداری کی متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ خالد مقبول صديقی سے بلاول ھاؤس ميں خوشگوار ملاقات کو ايک خاص تناظر ميں ديکھا جارہا ہے، اس ملاقات کی سب سے اہم بات موجودہ وزير داخلہ محسن نقوی کی موجودگی ہے، جسکا واضح مطلب ہے کہ ان رابطوں کو استوار کروانے ميں ملٹری اسٹبلشمنٹ کی حمايت اور تائيد حاصل ہے،
ماضی ميں جب بھی پيپلز پارٹی کو حکومت سازی کے لئے ايم کيو ايم کی ضرورت پڑی ، صدر زرداری نے سابق مرحوم وزير داخلہ رحمان ملک کو استعمال کيا،انہوں نے صدر زرداری کے سابقہ دور حکومت کی پانچ سالہ مدت تواتر سے لندن کا دورہ کرکے اور الطاف حسين کی ضرويات اور مالی مشکلات دور کرکے پوری کروائی،مگر پھر پيپلز پارٹی کے سب سے بڑے سہولت کار رحمان ملک پارٹی امور سے دور کر ديا ، اور ناراضگی اس حد تک ہو گئی کہ رحمان ملک کے انتقال پر پيپلز پارٹی کی قيادت کے بلو آئيڈ
بوائے کے جنازے ميں کسی بھی سطح کے پارٹی رہنما نے نہ شرکت کی اور نہ تعزيت، مجھے آج بھی ياد ہے کہ رحمان ملک ہی صدر زرداری کو عز يز آباد ميں ايم کيو ايم کے مرکز نائن زيرو ليکر گئے ، ٹوپی اجرک کے تبادلہ ہوئے مسقبل ميں ، بلاول، آصفہ اور الطاف حسين کی صاحبزادی افضا الطاف کے مل کر سياست کے وعدے اور عہد پيماں ہوئے، مگر وہ سب دھوکہ تھا،ايک روز اسٹبلشمنٹ نے طے کيا اور 40 سال بعد ايم کيو ايم کو کريش کر ديا، کئی دھڑے بنوا ديئے ، چونکہ سندھ خاص طور پر کراچی ميں مہاجر سياست کو بطور فليور رکھنا ضروری تھا ،
اسلئے ماضی کی شہری علاقوں کی سب سے منظم جماعت ایم کيو ايم کے دھڑوں کو نظريہ ضرورت کے تحت استعمال کيا، يہ جماعت اپنے اندرونی اختلافات کی وجہ سے اب منتشر قومی موومنٹ بن گئی ہے ، اسی لئے صدر زرداری جيسے زيرک سياست داں نے اس مرتبہ حکومت بنانے کے لئے نہيں بلکہ سندھ حکومت پر کارکردگی کے حوالے سے تنقيد کم کروانے کے لئے ، کمزور ايم کيو ايم پر ہاتھ رکھ ديا، اور يہ کام اس مرتبہ سابق وزير داخلہ رحمان ملک مرحوم کی جگہ موجودہ وزير داخلہ محسن نقوی نے انجام ديا، کيونکہ پيپلز پارٹی اور مسلم ليگ ن سميت تمام سياسی جماعتوں کے لئے اسٹبلشمنٹ کے "خصوصی رابطہ افسر "ان دنوں صرف محسن نقوی ہيں
صدر زرداری اور ايم کيو ايم جيسی کمزور اپوزيشن کے درميان حاليہ ملاقات کے نتائج بھی جلد سامنے آجائيں گے،گزشتہ ہفتہ صدر زرداری سے منسوب اس بيان نے بھی ہلچل مچادی تھی کہ ايک اجلاس ميں ، صدر نے وزير اعلی سندھ اور ميئر کراچی پر کارکردگی کے حوالے سے برہمی کا اظہار کيا ہے اور ان دونوں کو تين مہينے کی مہلت دی ہے،مگر آج صدر زرداری نے بلاول ھاؤس
ميں افطار ڈنر پر پارٹی رہنماؤں سے خطاب ميں نہ صرف وزير اعلی سندھ پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کيا بلکہ دوسری جانب بلاول بھٹو نے بھی ميئر کراچی کی کارکردگی کی تعريف کی اور ان پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کيا،پارٹی قيادت کے ان بيانات سے آپ اندازہ کرسکتے ہيں کہ کھنڈرات ميں تبديل ہوتے صوبہ سندھ اور کراچی کے بارے اہل اقتدار کيا سوچ رکھتے ہيں ، زرا سوچئے
