انسانی تہذیب کی تاریخ میں کچھ چیزیں ایسی بھی آئی ہیں جنہوں نے زندگی کو آسان تو بنا دیا، مگر آہستہ آہستہ وہی سہولت ایک مسئلہ بن گئی۔ کرسی بھی شاید انہی چیزوں میں سے ایک ہے۔ بظاہر یہ صرف بیٹھنے کا ایک سادہ سا وسیلہ ہے، مگر آج کی زندگی پر اس کا اثر اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ بعض ماہرین اسے جدید طرزِ زندگی کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ہم دن کا بڑا حصہ اسی پر بیٹھ کر گزارتے ہیں—دفتر میں، گھر میں، سفر میں—اور یوں غیر محسوس طور پر ہماری زندگی کا بڑا حصہ حرکت کے بجائے سکون میں گزرنے لگا ہے۔
طبی تحقیق بتاتی ہے کہ مسلسل بیٹھے رہنے سے انسانی جسم پر وہ اثرات پڑتے ہیں جو آہستہ آہستہ کئی بیماریوں کو جنم دیتے ہیں۔ موٹاپا، دل کے امراض، شوگر، بلڈ پریشر، گردن اور کمر کے درد جیسے مسائل اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ طویل وقت تک بیٹھے رہنا صحت کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے جتنا تمباکو نوشی۔ یہ شاید مبالغہ لگے، مگر جب ہم اپنے روزمرہ معمولات پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ واقعی ہماری زندگی کا بڑا حصہ کرسی کے حوالے ہو چکا ہے۔
جدید انسان کی روزمرہ زندگی کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں حرکت کم اور بیٹھنا زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ دفتر میں آٹھ گھنٹے کرسی، پھر گھر آ کر ٹی وی کے سامنے کرسی، اور اگر کچھ وقت بچ جائے تو موبائل ہاتھ میں لیے صوفے پر نیم دراز۔ بعض دفتروں میں تو وہ گھومنے والی کرسی بھی ہوتی ہے جس پر بیٹھ کر آدمی اٹھے بغیر ہی دائیں بائیں گھوم کر فائلیں نمٹا لیتا ہے—یوں بظاہر کام بھی ہو جاتا ہے اور جسم کو حرکت دینے کی زحمت بھی نہیں کرنی پڑتی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سہولت پسندی کا یہ رجحان زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بھی در آیا ہے۔ بعض لوگ صحت مند ہونے کے باوجود نماز بھی کرسی پر ادا کرنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ حالانکہ شریعت میں جہاں ضرورت ہو وہاں سہولت ضرور دی گئی ہے، مگر جب جسم قادر ہو تو قیام، رکوع اور سجدے کی اپنی ایک روحانی اور جسمانی تاثیر بھی ہے۔ عبادت میں حرکت صرف ایک عمل نہیں بلکہ جسم اور روح کے درمیان ایک توازن بھی پیدا کرتی ہے۔
لیکن کرسی کا قصہ صرف صحت تک محدود نہیں رہتا۔ ہماری سماجی اور انتظامی زندگی میں بھی کرسی ایک خاص معنی اختیار کر چکی ہے۔ یہاں کرسی صرف بیٹھنے کی چیز نہیں بلکہ اختیار، طاقت اور حیثیت کی علامت بن جاتی ہے۔
دفاتر میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی کرسی بھی کسی کے لیے گویا اقتدار کا قلعہ بن جاتی ہے۔ بعض لوگ اس پر اس طرح جم کر بیٹھتے ہیں جیسے یہ کسی خاندانی وراثت کا حصہ ہو۔ اس کرسی کو بچانے کے لیے وہ ہر طرح کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں: اہل لوگوں کو آگے آنے سے روکنا، فیصلوں کو غیر ضروری طور پر طول دینا، یا ماحول ایسا بنا دینا کہ کوئی دوسرا اس کرسی کے قریب آنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادارے آہستہ آہستہ اپنی صلاحیت کھو دیتے ہیں، اور ایک شخص کی کرسی پورے نظام پر بھاری پڑنے لگتی ہے۔
یہی منظر ذرا بڑے پیمانے پر عالمی سیاست میں بھی نظر آتا ہے۔ طاقت کی عالمی بساط پر بھی دراصل کرسی ہی کی جنگ جاری رہتی ہے—کہ کون زیادہ اثر و رسوخ رکھے گا، کون اپنی برتری برقرار رکھے گا اور کون دوسروں کو پیچھے رکھے گا۔ ریاستیں اتحاد بناتی ہیں، پابندیاں عائد کرتی ہیں اور کبھی کبھی تنازعات جنگ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اختیار کی یہ کرسی صرف دفتروں تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست کا بھی ایک مرکزی استعارہ بن چکی ہے۔
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ کرسی نے انسان کو دو طرح سے بیمار کیا ہے۔ ایک بیماری جسم کی ہے، جس میں ہم نے حرکت کو ترک کر کے بیماریوں کو دعوت دے دی ہے۔ اور دوسری بیماری ذہن کی ہے، جس میں ہم اختیار کو خدمت کے بجائے اپنی بقا اور برتری کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔
شاید اس مسئلے کا حل بھی بہت پیچیدہ نہیں۔ صحت کے لیے تو اتنا کافی ہے کہ انسان وقفے وقفے سے کرسی سے اٹھے، کچھ قدم چلے، سیڑھیاں استعمال کرے اور جسم کو یاد دلائے کہ وہ حرکت کے لیے بنایا گیا ہے۔ اور اختیار کے معاملے میں بھی اتنا ہی کافی ہے کہ کرسی کو اعزاز کے بجائے ذمہ داری سمجھا جائے۔
کیونکہ جب کرسی خدمت کا ذریعہ بنے تو ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور لوگ بھی آسودہ رہتے ہیں۔ لیکن جب کرسی انا اور طاقت کا سہارا بن جائے تو پھر یہی کرسی آہستہ آہستہ معاشرے کو بھی بیمار کر دیتی ہے۔
یوں دیکھیں تو کرسی بظاہر ایک سادہ سی چیز ہے، مگر شاید ہمارے عہد کی ایک بڑی علامت بھی۔ مسئلہ کرسی کا نہیں، بلکہ اس سے ہمارا تعلق ہے۔ اگر ہم اس سے اٹھنا سیکھ لیں—جسمانی طور پر بھی اور ذہنی طور پر بھی—تو شاید بہت سی بیماریاں خود ہی کم ہونے لگیں۔

