• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ: جنگ کی انسانی قیمت اور امن کی ضرورت

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مارچ 9, 2026
in کالمز
0
ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ: جنگ کی انسانی قیمت اور امن کی ضرورت
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے یہ تلخ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوتی۔ یہ محض ایک عارضی حل نہیں بلکہ انسانی تاریخ پر ایسا زخم چھوڑ دیتی ہے جو برسوں بلکہ نسلوں تک مندمل نہیں ہو پاتا۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں اور جوابی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ لڑائیاں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعووں کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ نقصان عام شہری اٹھا رہے ہیں، وہ شہری جو نہ جنگ چاہتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں میں ان کی کوئی شمولیت ہوتی ہے۔
اگر ہم اس المیہ کو عالمی منظر نامے پر دیکھیں، تو صاف نظر آتا ہے کہ دنیا اس وقت کئی محاذوں پر جل رہی ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان جاری طویل جنگ نے یورپ کے امن کو ہلا کر رکھ دیا ہے، لاکھوں افراد اپنی جان اور گھر بار سے محروم ہوئے ہیں، اور معصوم بچے اسکول جانے کے بجائے خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں نے ایک پوری نسل کو محاصرے، تشدد اور بے بسی کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہے۔ سوڈان کی خانہ جنگی نے ریاستی ڈھانچے کو تباہ کر دیا، لاکھوں افراد فاقہ کشی، بیماری اور بے گھری میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یمن کی طویل اور نظر انداز کی گئی جنگ نے نہ صرف انفراسٹرکچر کو تباہ کیا بلکہ ایک پوری نسل کو بمباری، قحط اور بیماری کے درمیان جوان کر دیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی نے خطے میں پہلے سے موجود عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے، اور یہ کشیدگیاں نہ صرف انسانی زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ عالمی معیشت، تجارت اور سیاسی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔
یہ تمام جنگیں اور تنازعات ایک مشترکہ حقیقت سامنے لاتے ہیں: عام انسان سب سے بڑا نقصان اٹھاتا ہے۔ جنگ کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا وار انسانی جان پر پڑتا ہے۔ معصوم بچے جو اپنی زندگی کی ابتدائی خوشیوں، کتابوں، کھیل اور خوابوں کے حق دار ہوتے ہیں، وہ بموں کی گھن گرج اور گولیوں کی آواز میں آنکھ کھولتے ہیں۔ اسکول، جو علم کے مراکز ہونے چاہئیں، ملبے کے ڈھیر بن جاتے ہیں، اور ہسپتال، جو زندگی بچانے کے لیے قائم کیے گئے تھے، خود نشانہ بن جاتے ہیں۔ عورتیں، جو معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں، اپنے بچوں کو بچانے کے لیے بے گھر، بے سہارا اور صدموں سے بھرپور زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ بوڑھے لوگ، جو اپنی زندگی کے آخری حصے میں سکون اور تحفظ چاہتے ہیں، دربدر ہونے، قطاروں میں کھڑے ہونے اور امداد کے انتظار میں دن گزارتے ہیں۔
جنگ صرف جسمانی ہلاکتوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ ذہنی اور نفسیاتی زخم بھی چھوڑتی ہے۔ خوف، اضطراب، ڈپریشن اور صدمے ایک اجتماعی حقیقت بن جاتے ہیں اور پورے معاشرے کی نفسیات بدل جاتی ہے۔ وہ بچے جو جنگ میں اپنے والدین کھو دیتے ہیں، نفرت، انتقام اور تشدد کے جذبات کے ساتھ جوان ہوتے ہیں۔ اس طرح تشدد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ پیدا ہوتا ہے، جو نسلوں تک جاری رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگیں معاشی تباہی بھی لاتی ہیں۔ زراعت تباہ ہو جاتی ہے، صنعتیں بند ہو جاتی ہیں، روزگار ختم ہو جاتا ہے، اور مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے۔ ریاستی وسائل تعلیم، صحت اور فلاح کے بجائے ہتھیاروں اور فوجی اخراجات پر خرچ ہونے لگتے ہیں، جس کا نتیجہ غربت، بھوک اور سماجی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے۔
پناہ گزینوں کا بحران بھی جنگ کا ایک ہولناک پہلو ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے گھروں، زمینوں اور شناختوں کو چھوڑ کر سرحدوں کے پار جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کیمپوں میں غیر انسانی حالات میں زندگی گزارتے ہیں، نہ مناسب تعلیم میسر ہوتی ہے، نہ صحت کی سہولت، اور نہ مستقبل کا کوئی واضح راستہ۔ یہ عارضی بے گھری اکثر مستقل محرومی میں بدل جاتی ہے۔ بچوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے، تعلیم سے دور رہتے ہیں، اور مستقبل کی امید کمزور ہو جاتی ہے۔ خواتین کو اپنی حفاظت کے لیے ہر دن جدوجہد کرنی پڑتی ہے، اور بوڑھے افراد نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہوتے ہیں۔
عالمی برادری اکثر جنگوں پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ قراردادیں منظور ہوتی ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں، مگر عملی طور پر طاقتور ممالک کے مفادات، اسلحے کی تجارت اور سیاسی مفاد انسانی جانوں پر غالب آ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جنگیں ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتی ہیں، اور عالمی سطح پر عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے بھی جنگ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر انسانی جان سب سے قیمتی ہے تو پھر کسی بھی مقصد، نظریے یا سرحد کے نام پر معصوم انسانوں کا قتل کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگوں سے نہ کبھی حقیقی امن ملا ہے اور نہ حقیقی انصاف، بلکہ ہر جنگ اپنے بعد مزید نفرت، عدم استحکام اور نئے تنازعات کو جنم دیتی ہے۔
ایران اور اسرائیل کی موجودہ کشیدگی اس بات کی واضح مثال ہے کہ طاقت کے مظاہرے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور علم میں بے مثال ترقی کے باوجود اگر دنیا اب بھی اختلافات کو حل کرنے کے لیے بم، میزائل اور بندوق کا سہارا لے رہی ہے تو یہ ترقی نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ اصل حل طاقت کے مظاہرے میں نہیں بلکہ مکالمے، سفارت کاری، انصاف اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ اختلافات کا ہونا فطری ہے، مگر انہیں حل کرنے کا راستہ جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ جنگ صرف تباہ کرتی ہے، تعمیر نہیں کرتی، اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی تنازع کا حقیقی حل صرف امن کے ذریعے ممکن ہے۔
ایران اور اسرائیل کے تنازع کی مثال لیں، تو یہاں بھی واضح ہے کہ تشدد اور میزائل حملوں کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ دونوں فریقین نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے عسکری اقدامات کیے، مگر اصل نقصان عام شہریوں نے اٹھایا۔ معصوم لوگ، بچے، خواتین اور بوڑھے سب اس کے شکار ہوئے۔ اسکول، ہسپتال، بازار اور بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہوا، اور انسانی زندگیوں کی قیمت اس تصادم کے نام پر ادا کی گئی۔ یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک اخلاقی المیہ بھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کی غیر فعال کردار نے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ طاقتور ممالک کے سیاسی اور اقتصادی مفادات نے انسانی جانوں کی قیمت پر غالب آ کر جنگوں کو طول دیا ہے۔ اسلحے کی بین الاقوامی تجارت نے تنازعات کو مزید طول دینے کا سبب بنایا اور انسانی زندگیوں کی قدر کم کر دی۔ اگرچہ عالمی ادارے اور اقوام متحدہ جیسے فورمز کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر عملی اقدامات ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔
جنگ کے طویل مدتی اثرات بھی انتہائی سنگین ہیں۔ تعلیم کا نظام متاثر ہوتا ہے، نئی نسل علم کے مواقع سے محروم رہ جاتی ہے۔ صحت کے نظام میں بحران پیدا ہوتا ہے، اور بنیادی طبی سہولیات ناکافی ہو جاتی ہیں۔ اقتصادی نظام تباہ ہوتا ہے، لوگ غربت اور بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں، اور انسانی ہمدردی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اثرات نسلوں تک رہتے ہیں۔ بچے جو جنگ کے دوران خوف اور نقصان کا سامنا کرتے ہیں، نفرت، انتقام اور تشدد کے رجحان کے حامل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک مسلسل تشدد کا چکر قائم ہوتا ہے جو معاشرتی ہم آہنگی اور ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
اس پس منظر میں یہ بات واضح ہے کہ ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ یا دنیا کے کسی اور حصے میں جاری کسی بھی تنازع کا حل صرف اور صرف امن کے ذریعے ممکن ہے۔ مکالمہ، سفارت کاری، انصاف اور باہمی احترام وہ واحد راستے ہیں جو انسانیت کو انسانی حقوق، وقار اور مستقبل فراہم کر سکتے ہیں۔ چاہے کشیدگی کی شدت کتنی بھی ہو، جنگ کبھی بھی انسانی زندگی کے تحفظ یا عالمی استحکام کا ذریعہ نہیں ہو سکتی۔ یہ انسانی زندگی، وقار اور مستقبل کو تباہ کرتی ہے۔آخر میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ چاہے جنگ کسی بھی نام، جواز یا مقصد کے تحت لڑی جائے، وہ ہمیشہ غلط ہوتی ہے۔ انسانی جان کی قدر سب سے بڑی ہونی چاہیے، اور کوئی بھی مقصد انسانی زندگی کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مہذب دنیا کی بنیاد ہتھیاروں پر نہیں بلکہ انصاف، امن اور انسان دوستی پر رکھی جاتی ہے۔ ایران اور اسرائیل کی موجودہ جنگ، یوکرین میں جاری بحران، غزہ کی مصیبت، سوڈان کی خانہ جنگی، یمن کا قحط اور پاکستان–افغانستان کی سرحدی کشیدگی سب اس بات کی علامت ہیں کہ جنگیں صرف تباہی، نفرت اور انسانی المیہ پیدا کرتی ہیں، جبکہ امن ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسانیت کو دوبارہ زندگی، وقار اور انسانی حقوق کی حفاظت فراہم کر سکتا ہے۔
یہ دنیا چاہے کتنی بھی ترقی کر لے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ہر شعبے میں جدت لائے، جب تک اختلافات کو حل کرنے کے لیے بات چیت، انصاف، مکالمہ اور انسانیت کی بنیاد پر اقدامات نہیں کیے جائیں گے، جنگیں ختم نہیں ہوں گی اور انسانی المیے برقرار رہیں گے۔ امن کی تلاش صبر، حکمت اور مستقل کوشش کا متقاضی ہے، مگر یہی وہ واحد راستہ ہے جو نسلوں تک انسانی وقار اور زندگی کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ایسی صورت حال میں ضروری ہے کہ نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ دنیا کے تمام ممالک اپنے سیاسی، اقتصادی اور عسکری مفادات کو انسانی جانوں اور انسانی وقار پر فوقیت نہ دیں۔ عالمی برادری کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے.

پچھلی پوسٹ

ہزاروں پاکستانی عمرہ زائرین کو شدید مشکلات ، 30 یا 40 ہزار کا ہوائی ٹکٹ اب ڈیڑھ لاکھ کا دیا جا رہا ہے۔

اگلی پوسٹ

ہمیں روس سے تیل خریدنے کیلئے امریکا کی اجازت کی ضرورت نہیں،بھارت

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
ہمیں روس سے تیل خریدنے کیلئے امریکا کی اجازت کی ضرورت نہیں،بھارت

ہمیں روس سے تیل خریدنے کیلئے امریکا کی اجازت کی ضرورت نہیں،بھارت

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper