• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ایران پر حملہ ۔ آخر کیوں ؟ حصہ دوم

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مارچ 7, 2026
in کالمز
0
ایران پر حملہ ۔ آخر کیوں ؟  حصہ دوم
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کسی بھی ملک یا قوم پر حملے کا کبھی بھی کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہوتا ۔ وجہ کوئی بھی بیان کی جائے ، حملہ محض مفادات کے لیے کیا جاتا ہے ۔ امریکا کی صورت حال یہ ہے کہ اس کی ڈھائی سو سالہ تاریخ میں محض 21 برس ایسے گزرے ہیں جس میں یہ کسی جنگ میں ملوث نہیں تھا ۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان جنگوں کے اخراجات امریکی عوام کے ٹیکسوں سے ہی پورے کیے گئے ہیں ۔ جی ہاں یہ بالکل سو فیصد درست بات ہے کہ ان جنگوں سے امریکا میں موجود اسلحہ سازی کی صنعت کو عروج ملا ہے ۔ ان جنگوں کی بدولت ہی ان فیکٹریوں کو اپنی مصنوعات کی کارکردگی کو حقیقی میدان میں آزمانے کا موقع ملا ہے ۔ حقیقی میدان میں آزمائش کے بعد ہی ان کی فروخت ممکن ہوتی ہے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر جنگ کے نتیجے میں امریکی عوام کئی ٹریلین ڈالر کے مقروض ہوجاتے ہیں ۔ ان جنگوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ امریکا ایک ایسی قوم میں ڈھل چکا ہے جس سے پوری دنیا میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نفرت کی جاتی ہے ۔

اب آپ یہ کہیں گے کہ امریکی اسلحہ کی پوری دنیا میں فروخت کی وجہ سے امریکا میں ڈالر بہہ کر امریکی خزانے میں پہنچے ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ امریکا میں اسلحہ سازی ، طیارہ سازی سمیت کوئی بھی صنعت قومی ملکیت میں نہیں ہیں ۔ یہ ساری صنعتیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں اور یہ ساری کی ساری امریکا سے باہر جزائر میں رجسٹرڈ ہیں جس کی وجہ سے یہ اپنے کمائے گئے منافع کا کوئی ٹیکس بھی امریکا میں ادا نہیں کرتیں ۔ بس چند فیصد رائلٹی یا ملازمین کا انکم ٹیکس اور کچھ بھی نہیں ۔ امریکا بھی اپنی فوج کے لیے ان کمپنیوں سے اسلحہ اسی قیمت پر خریدتا ہے جس پر دیگر ممالک خریدتے ہیں ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پاکستان میں نکلنے والی قدرتی گیس پاکستانی حکومت ان کمپنیوں سے بین الاقوامی قیمت پر خریدتی ہے اور پھر اس پر گھروں پر پہنچانے کی لاگت اور مزید ٹیکس لگا کر عوام سے بل وصول کرتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان جنگوں میں خون دیا امریکی عوام نے ، لاگت برداشت کی امریکی عوام نے اور مزے کیے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ۔ یہ صورتحال صرف امریکا تک محدود نہیں ہے بلکہ عمومی طور پر پوری دنیا کی ہے ۔ اب تو قومی فوج کی جگہ نجی کمپنیوں نے لے لی ہے ۔ امریکا نے افغانستان میں نجی فوجی کمپنیوں کو استعمال کیا جبکہ روس بھی یوکرین میں نجی فوجی کمپنیاں استعمال کررہا ہے ۔

یہ ایک مختصر تمہید تھی تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ پوری دنیا میں جنگیں کیوں برپا کی جاتی ہیں ۔ جنگوں کے اس تسلسل میں ایران بھی شامل ہے ۔ مگر امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی صرف یہی وجہ نہیں ہے بلکہ دیگر جنگوں کی طرح اس پروجیکٹ کے بھی کثیر الجہتی مقاصد ہیں ۔ ہم دوبارہ سے اس دنیا پر عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی منصوبہ بندی کا بلیو پرنٹ دیکھتے ہیں۔ اس کے مطابق انہیں دنیا پر اپنی حاکمیت کے قیام کے لیے پوری دنیا کا جغرافیہ تبدیل کرنا ہے ۔ موجودہ ممالک کی نئی حدبندیاں کرنی ہیں اور دنیا کی آبادی کو اپنے مطلوبہ عدد تک لاکر روک دینا ہے ۔ اس بلیو پرنٹ پر میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں مگر اس وقت صورتحال زیادہ واضح ہوچکی ہے ۔ بچوں کو مصنوعی طور پر پیدا کرنےکے لیے اب انسان کی ضرورت نہیں رہی ہے ۔ ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ آج کے انسان کو بچے پیدا کرنا اور پالنا مشکل لگنے لگا ہے اور یوں پوری دنیا کی آبادی منفی شرح میں چلی گئی ہے ۔ متعدد طریقے استعمال کرکے مردانہ اور زنانہ دونوں طریقے کے بانجھ پن کو عام کردیا گیا ہے ۔ کئی اقوام تو پارسیوں کی طرح نابود ہونے کے قریب ہیں ۔

دوبارہ سے ایران کے موضوع پر آتے ہیں ۔ ایران کی جنگ کو شروع سے دیکھتے ہیں ۔ ایران پر گزشتہ برس بھی امریکا نے باقاعدہ حملہ کیا تھا جس میں اس کی ایٹمی سائٹس تباہ کی گئی تھیں اور فوجی اعلیٰ قیادت بھی ماری گئی تھی ۔ اس کے سائنسداں مسلسل مارے جاتے رہے ہیں ۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوسکا تھا کہ ایران کے پاس ائر ڈیفنس کا کوئی نظام ہی نہیں ہے ۔ یہ دشمن کی فضائیہ کے لیے افغانستان کی طرح کھلا اور ایک آسان ہدف ہے ۔ گزشتہ برس حملے کے بعد بھی امریکا کی کھلی دھمکیاں مسلسل جاری تھیں ۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اب کی مرتبہ تو خامنہ ای کو چھوڑ رہا ہوں مگر آئندہ نہیں چھوڑوں گا ۔ اس کے بعد کرنا کیا چاہیے تھا ؟ یہی کہ ائر ڈیفنس کو مضبوط کیا جاتا ۔ اس کے لیے چینی اور روسی بیٹریاں خریدی جاتیں ۔ اس وقت ایران کے پاس جو چینی ائر ڈیفنس سسٹم موجود تھا وہ کسی کام کا نہیں تھا ۔ ایران کی بحریہ اور فضائیہ دونوں بغیر لڑے انتہائی آرام سے تباہ ہوگئیں ۔ اس کے مقابلے میں ایران کے پاس ڈرون کی اچھی ٹیکنالوجی ہے جبکہ بیلاسٹک میزائل بھی موجود ہیں ۔ مگر یہ تو حملہ کرنےکے لیےہیں ۔ دفاع کے لیے نہیں ۔ دفاع میں ناکامی کی وجہ سے ایران اپنی اعلیٰ ترین لیڈر شپ کو ختم کروا چکا ۔ اس کی فوجی قیادت کی تین تہیں ماری جا چکی ہیں ۔ اعلیٰ ترین سائنسداں مارے جا چکے ہیں ۔ جی پی ایس سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ایرانی میزائل بھی اب تک کسی قابل قدر ہدف کو نشانہ نہیں بنا سکے ۔ (بدقسمتی سے یہی صورتحال پاکستان کی بھی ہے ۔ بھارت کے ساتھ گزشتہ جھڑپ میں پاکستان کے اندر محض اسی لیے بھاری نقصان ہوا کہ پاکستان کے پاس موزوں ائر ڈیفنس سسٹم نہیں تھا جبکہ پاکستان نے بھی حملہ کرنے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ) ۔ امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں کو دیکھتے ہوئے ایران کو روسی S300 یا S400 کی ضرورت تھی ۔

امریکی حملے کے بعد ایران کی توجہ اسرائیل یا امریکا پر مار کرنے کے بجائے پڑوسی ممالک پر زیادہ رہی ۔ کہا گیا کہ ہم ان ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ مگر سعودی عرب کے سامنے ہی موجود جبوتی میں تو کسی امریکی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی اور آذربائیجان پر بھی میزائیل داغ دیے گئے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی ہے جو ان ممالک کو مجبور کررہا ہے کہ وہ بھی اس جنگ میں شامل ہو جائیں اور ایران پر کم از کم فضائی حملہ کردیں ۔اتوار کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک وڈیو بیان میں جو سرکاری ایرانی ٹی وی پر نشر کیا گیا ، کہا کہ اب ایران پڑوسی ممالک پر اس وقت تک حملے نہیں کرے گا جب تک ان ممالک سے ایران پر حملہ نہیں ہوتا ۔ انہوں نے پڑوسی ممالک پر ایرانی حملوں کی معذرت بھی کی ۔ ایرانی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ پڑوسی ممالک پر حملے کرنا ایران کی پالیسی نہیں تھی مگر اعلیٰ ترین فوجی و سیاسی قیادت کے خاتمے کی وجہ سے کمیونیکیشن گیپ آیا اور ایسا لگتا ہے کہ پڑوسی ممالک پر حملے موجودہ فوجی قیادت کا انفرادی فیصلہ تھا ۔ ابھی مسعود پزشکیان کا بیان ختم ہی ہوا تھا کہ ایران کی طرف سے دبئی ائرپورٹ پر میزائیل داغ دیا گیا ۔ شام کو قطر میں بھی سائرن بج رہے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے اندر کوئی تو ہے یا ہیں جو چاہتے ہیں کہ اس جنگ کو پھیلایا جائے اور اس میں آذربائیجان ، ترکی اور عرب ممالک کو بھی شامل کرلیا جائے ۔ آج ہی پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے وہ سعودی عرب کا ساتھ دینے پر مجبور ہوگا ۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایران تنہا ہے ، اس کے ساتھ جو اتحادی ہوسکتے ہیں یا جنگ بندی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ، ان سب کو باغی عناصر زبردستی جنگ میں دھکیل رہے ہیں جو ایرانی حکومت کے بھی قابو میں نہیں ہیں ۔یہ کھیل آخر کیوں رچایا جارہا ہے ، اس کا گہرا تعلق ایران پر حملے سے ہے ۔ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

اسرائیل میں ایرانی حملوں سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہورہی ہیں.بھارتی صحافی کا انکشاف

اگلی پوسٹ

پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن،پمپس سیل، لائسنس منسوخ ہوں گے

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن،پمپس سیل، لائسنس منسوخ ہوں گے

پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن،پمپس سیل، لائسنس منسوخ ہوں گے

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper