یہ شب، یہ چاند، یہ موجِ رواں، یہ تختہِ گُل
چلے بھی آئو کہ ان سب کی زندگی کم ہے
(خالد علیگ)
’’ہابرڈ رجیم‘‘ ایک ڈبہ فلم تھی ہے اور رہے گی۔ یہ کتنے بڑے نالائق اور نااہل ہیں۔ یہ اب بحث ہی فضول ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ لوگ مزید مسلط رہے تو، کیا ریاست ’’چل‘‘ بھی پائے گی۔ اور ریاست کا مستقبل کیا ہوگا۔۔۔؟
ظاہرہے، ترقی اور عروج کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔
جو پیٹرول کی واردات گزشتہ روز ڈالی گئی ہے۔یہ سب کچھ ان کے خمیر اور سافٹ ویئر میں ہے۔ ہر صحیح وقت پر غلط فیصلہ کرنا، ان کی سرشت میں ہے۔ 28 مئی 1998ء کو جب ایٹمی دھماکے ہوئے تو مالیاتی ایمرجنسی لگانے اور معیشت کا بیڑا غرق کرنے والے کون تھے؟ ڈالر کوئی 36 روپے پر تھا۔ یہ الزام بھی اخبارات کی زینت بنا کہ حکمرانوں نے اپنے ڈالرز نکال لئے تھے۔ ڈالر اکائونٹ عوام اور بے خبروں کے منجمند ہوئے۔ وہ حرکت کچھ ایسی ہی تھی کہ ایمٹی قوت خود ہی کان پکڑ کر’’مُرغا‘‘ بن گئی ہے۔
آپ جب ڈالر اور پاکستانی روپے پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ 1974ء سے لیکر 1954ء تک ڈالر 31.3 روپے کا تھا۔ 1955 میں91.3 روپے کا ہوا۔ اب وقت تک ملک پر ایک پیسے کا قرضہ نہیں تھا۔ 1956ء سے لیکر 1971 تک ڈالر چار روپے 76 پیسے کا رہا۔ 1972 میں ایک بار یہ 11 روپے پر گیا صرف 1973 سے لیکر 1981 تک یہ 9 روپے 99 پیسے کا رہا ہے۔
1982 میں یہ 11 روپے 95 پیسے کا 1983 میں 12 روپے تیرہ پیسے ،1984 میں14روپے 1985 میں 15 روپے 93 پیسے، 1986 میں 16 روپے 95 پیسے 1987 میں 17 روپے 4 پیسے، 1988 میں 18 روپے تھا۔ پھر سیاستدان آگئے 1989 میں 20 روپے 54 پیسے، بے نظیر گئی تو ڈالر 21 روپے 71 پیسےکا تھا 1994 میں نواز شریف گئے تو ڈالر تیس روپے کا تھا۔ بے نظیر 1996 میں گئیں تو ڈالر 36 روپے آٹھ پیسے پر تھا۔ نواز شریف 1999ء میں گئے تو ڈالر شریف کے درجات 51 روپے 90 پیسے پر تھے۔ پرویز مشرف آئے تو ڈالر 60 روپے روپے پر 8 سال فکس رکھنے میں کامیاب رہے۔زرداری آئے تو ڈالر 81 روپے پانچ پیسے پر تھا۔ نواز شریف آئے تو ڈالر 107 روپے پر پہنچا۔۔۔ گئے تو ڈالر 115 پر تھا۔ عمران خان آئے تو ڈالر 139 پھر 158 پر تھا۔۔۔ گئے تو ڈالر 179 پر تھا۔ پھر رجیم چینج ہوا۔ ڈالر نے پہلی بار ٹرپل سینچری تھی مکمل کی۔ اور آج 280 پر ہے۔
ہائبرڈ حکومت پٹرول پر پہلے بھی 325 روپے تک پٹرول کے درجات بلند کرچکی ہے۔
آج جی ڈی پی گروتھ ایک اشاریہ8 ہے۔ جب چھ فیصد پر 2022 میں تھی تو ٹیکس ٹارگٹ 7000 ارب تھا۔ اب وہی ٹیکس ٹارگٹ تیرہ ہزار ارب سے اوپر ہے۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ 50 فیصد آبادی خط افلاس سے نیچے چلی گئی ہے۔کروڑوں بچے سکول سے
باہر ہیں۔بے روزگاری 30 فیصد سے اوپر ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، جی۔ ایس۔ ٹی، پی۔ ڈی۔ ایل اورانکم ٹیکس نے تباہی مچا دی ہے۔
انڈسٹری بند ہونے سے گیس کی ڈیمانڈ میں بدترین کمی واقع ہوئی ہے۔جس کے باعث لوکل گیس سرپلیس ہوگئی ہے۔ قطر کی ایل۔ این۔ جی کھپانے کے لئے۔ ھمیں اپنے آئل فیلڈ بند کرنا پڑے رہے ہیں۔ حکومت قطر کے پاس پانچ کارگو ڈیفر کروانے کے لئے منت ترلے کرتی رہی۔ جو انڈسٹری 230 ایم ایم سی ایف ڈی گیس لے رہی تھی۔ وہ اب 50 پر آگئی ہے۔ مہنگی، گیس اور بجلی نے انڈسٹری کو سولر، کوئلے پر منتقل کردیا ہے۔ ” لاڈلے بچوں“ نے دبا کر سولر امپورٹ کئے۔ ریلیف پالیسیاں آگئیں۔ مال بک گیا۔ سولر ساڑھے سات ہزار میگا واٹ پر آگیا تو اب گھریلو صارفین پر عذاب نازل کردیا ہے۔ آئی۔ پی۔ پیز والے ’’لاڈلے‘‘ اور اپنے ہیں۔ ان کے ناز اٹھائے جارہے ہیں۔ وہ دفاعی بجٹ کے برابر عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ انھیں بندے کا پُتر بنانا کونسا مسئلہ ہے۔ عالمی عدالت میں کسی ایک فریق کی بدنیتی ہی ثابت کرنا ہے نا، ان کی الٹا اربوں ڈالر دے کر جان چھوٹے، مگر ’’اپنوں‘‘ کو کون شکنجے میں کستا ہے۔ اگر حکومتی اور محافظوں کو پلانٹس بھی کپسٹی پے منٹ لیتے رہے ہوں تو اللہ ہی حافظ ہے۔
امپورٹڈ کول پرساہیوال کول پاور پلانٹ، حدیبیہ پیپر کی طرح شٹ اینڈ کلوز کیس ہے۔ اس کا کوئی جواز نہیں دے سکتا۔
پاور سیکٹر میں ریاست اور عوام کے ساتھ گینگ ریپ ہوا ہے۔ کس، کس سیکٹر کو روئیں۔ ہر طرف تباہی ہے۔ یہاں پی اے آر سی جیسے زرعی تحقیقاتی ادارے پکوڑے اور پانی بیچ رہے ہیں۔
’’ایک ادارے‘‘ نے سب کو کاروبار پر لگا دیا ہے۔ یہاں ریاست کا ہر ہرکارہ کاروبار کے ذریعے، راتوں رات ملک ریاض یا پھر چوہدری مجید یا علیم خان بننا چاہتا ہے۔ پھر کیسے پالیسیاں بنیں گی۔ کون ریگولیٹ کرے گا۔ کارٹل ہی کارٹل ہونگے۔ پی۔ آئی۔ اے کی نجکاری اس کی بدترین مثال ہے۔ کوئی ایک ادارہ تو بتائیں جیسے ڈھنگ سے پرائیویٹائز کیا گیا ہو اور اس کے بہتر نتائج ہوں۔ تقریباً ہر نجکاری کے پیچھے، حرامکاری ضرور ملے گی۔
پانی سے لیکر پٹرول، زمین سے لیکر اداروں تک، مافیاز ہی مافیاز ہیں۔ صرف کراچی میں پانی ٹینکر مافیا پانچ سو ارب ریتی، بجری مافیا ایک ہزار ارب اور تو اور کراچی کا کچرا دو سو ارب کا ہے۔ ایک روپیہ دودھ کا ریٹ بڑھانے پر کمشنر کراچی کو دس کروڑ روپے کی رشوت آفر ہوتی رہی ہیں۔ اس سے آپ باقی پاکستان کا اندازہ کرلیں۔
نالائق ترین ہائبرڈ رجیم نے یکمشت 55 روپے فی لیٹر پٹرول ڈیزل میں اضافہ کیا ہے۔ یہاں ایسے، ایسے پٹرولیم بلکیے ہیں جو ایک، ایک ارب لیٹر بآسانی ’’ذخیرہ‘‘ کرلیتے ہیں۔ آپ اسے اندازہ کرلیں۔ عوام پر کتنا بڑا ظلم کیا گیا ہے۔ لوگ راتوں رات ارب پتی بن گئے۔ کروڑ پتی تو معمولی بات ہے۔ لاکھ لیٹر جس کے پاس تھا۔ اس نے بھی 55 لاکھ کی دیہاڑ لگا لی۔ فرخ سلیم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہے۔۔جس میں انہوں نے کہا ہے کہ 45 دن پہلے 60 ڈالر فی بیرل پر پیٹرول خریدا گیا۔اب 325 فی لیٹر پر بیچا جائے گا۔ جس کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ عوام سے 115 ارب روپے کشید کیے جائیں گے۔ وہ پوچھ رہے ہیں یہ 115 ارب روپے کس کی جیب میں جائیں گے؟؟؟
آپ نے انڈر نائنٹین وزیر پٹرولیم لگایا ہوا ہے۔ ایک بار سابق وزیر اعظم، انجینئر شاہد خاقان عباسی کہنے لگے۔ پٹرولیم کی وزارت اتنی حساس اور اہم ہے۔ مجھے سمجھنے میں 13 ماہ لگے ہیں۔ آپ اس سے اندازہ کرلیں۔ ایک نومولود وزیر جس کے پاس قانون کی ڈگری ہے۔اس کو اتنی بڑی ذمہ داری دے دی گئی ۔ اس کا تمام زور ایم۔ ڈیز لگوانے اور بچانے پر ہے۔ وہ بورڈز میں گردن گردن تک گُھسا ہوا ہے۔ ’’پارکو بورڈ میں آنے کے لیے‘‘ وہ شدید لڑائی لڑ رہا ہے۔
کوئی ویژن، کوئی سوچ، کوئی لائحہ عمل ہی نہیں ہے۔ آپ نے 55 روپے بڑھانے ہی تھے تو پریس کانفرنس کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ آپ کے پاس ابھی کشن تھا۔ پٹرولیم اور کروڈ کی پرانی خریداری تھی۔ 28 سے تیس فیصد تیل، اپنی ضرورت کے لئے پاکستان خود پیدا کرتا ہے۔ اومان سے بھی تیل لیا جاسکتا تھا۔ بقول آپ کے سعودی عرب سے متبادل پورٹ سے تیل سپلائی دیں گے۔ باقی آپ چین سے بھی بات کرسکتے تھے۔ ایک بڑا جہاز تو ان سے بھی لیا جا سکتا تھا۔ قطر سے ایل۔ این۔ جی کی سپلائی معطلی ، آپ کے لئے بہت بڑا ریلیف ہے۔ آپ کے پاس کشن تھا۔ ہر ماہ قطر سے تقریباً آٹھ کے قریب کارگو آتے ہیں۔ سالانہ 72 کارگو ہیں۔ مقامی گیس کی پیداوار سرپلیس ہے۔ زیادہ ہی خدشہ تھا سی این جی کھول سکتے تھے۔ عید قریب ہے تعلیمی ادارے بند کرسکتے تھے۔ اسی فیصد ورک تو ہوم ہوسکتا تھا۔ طاق اور جفت کے حساب سے گاڑیاں متبادل دن پر چلائی جاسکتی تھیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کی زیادہ حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔ سرکاری مشینری کی 90 فیصد گاڑیاں بند کی جاسکتی تھیں۔
دوسرا، پاکستان کی ریفائنریوں میں کروڈ کی صفائی کا ڈیٹا دیکھنا چاہئے تھا۔ اسٹورج میں کتنا کروڈ ہے۔ مقامی کروڈ کتنا ہے۔ اس کا پروڈکشن بڑھائی جاسکتی تھی۔ ایران والا ڈیزل چینل، لیگل طریقے سے چھپر میں کھولا جاسکتا تھا۔ مسئلہ اتنا بڑا تھا نہیں۔ نالائقی، نااہلی، کمزور اعصاب نے اسے جتنا بنا دیا ہے۔
جنگ ایران میں لگی ہے اور ہمارے والے باولے ہوئے پھرتے ہیں۔
پٹرولیم ڈویژن میں وزیر انڈر نائنٹین، سیکرٹری اس سیکٹر سے مکمل نابلد ہیں۔ابھی تو انہیں کئی ہفتے بریفنگز لینے میں لگیں گے۔ تین میں سے دو ایڈیشنل سیکٹر صفر+صفر ہیں۔ کام کیا خاک ہوگا۔
ابھی لوگوں کو معلوم نہیں ہے گیس کی لوڈ شیڈنگ (لوڈ مینجمنٹ) گیس کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ ڈسٹری بیوشن نظام کی لیکج کی وجہ سے ہے۔ اگر گھریلو صارفین کے لئے چوبیس گھنٹے پائپ میں گیس چھوڑی جائے تو ہر مہینے ایک سے دو ارب روپے کی گیس لیک ہوجائے گی۔ اس لئے اسے ٹرانسمیشن سسٹم کے اندر سسٹم پیک میں رکھا جاتا ہے۔ ماضی قریب میں سسٹم پیک پانچ ارب کیوبک فٹ سے اوپر چلا گیا تھا۔ تھوڑا اور بڑھتا تو سوئی کمپنیز کی لائنیں پھٹ جاتیں۔ ٹرانسمیشن لائن میں یو ایف جی بمشکل اعشاریہ تین سے پانچ فیصد ہے۔ جبکہ ڈسٹری بیوشن لائن میں یہ سیدھا، سیدھا ایس این جی پی ایل سات میں سے نو جبکہ ایس ایس جی سی اٹھارہ اور بیس فیصد تک ہے۔ ایک فیصد سالانہ یو۔ ایف۔ جی دو سے تین ارب کا ہے۔ اگر حکومتی پرائس پر یو ایف جی پرکھیں تو آٹھ ارب کا بھی ہوسکتا ہے۔
مقامی تیل کی پیداوار میں اضافے کا ٹاسک پی۔ پی۔ ایل، ماری اور او، جی۔ ڈی سی ایل کو بطور خاص دیا جاتا تو ان ڈھولوں کے پول بھی کھلتے، جو ہر وقت آئوٹ اسٹینڈنگ کے نعرے بلند کرتے ہیں۔
نالائق سیاسی اور بابو کریسی کی ٹیم نے اس ملک کو نئی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ ان سے پہلے کھلے کٹے نہیں بندھ رہے۔ اس بار تو یہ لوگ میدان میں پٹرول ڈیزل کا بدمست ہاتھی لے آئے ہیں۔ یہ اپنے پائو گوشت کے لئے پورا بیل ذبح کردیتے ہیں۔ اس بار وہی ہوا ہے۔
جب ہمیں بتانا تھا کہ ہم کرائسس مینجمنٹ سیکھ چکے ہیں۔ ہم نے سب کو پیغام دیا ہے کہ ہمارے ہاتھ پائوں پھول چکے ہیں۔ ہم کبھی نہیں بدلیں گے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے۔ ہماری استعداد ہی اتنی ہے۔
زندگی بھر کی ریاضت ہی پہ موقوف نہیں
ایک لمحہ بھی غنیمت ہے سنبھلنے کے لئے
تم کو آیا ہی نہیں تبدیل موسم کا خیال
ورنہ حالات تو ہوتے ہیں سنبھلنے کے لئے
تم بھلا کیا نئی منزل کی بشارت دو گے
تم تو رستہ نہیں دیتے ہمیں چلنے کےلئے
(سلیم کوثر)
ہائبرڈ رجیم کے سرپرستوں کو سمجھنا ہوگا۔ بات شریفوں، زرداریوں، عمران خانوں سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ ہمیں کاکڑوں کی بجائے، سکھیروں، مشاہدوں اور ان جیسے ٹاپ’’کاریگروں‘‘ کی ضرورت ہے۔
ہمارا مسئلہ غربت نہیں، غریب دماغ ہے۔ کسی میمن نے کہا تھا کہ استاد نے سمجھایا تھا کہ ’’بلی‘‘ بھی وہ رکھو، جو شکار کرنا جانتی ہو۔ یہ نہ ہو سالی دودھ پیئے اور سوتی رہے۔۔۔۔
حافظ صاحب، قوم کو دودھ پینے والی نہیں، شکاری بلیوں کی ضرورت ہے۔ ان غریب دماغوں سے معذرت کرلیں ۔غربت خود ختم ہوجاوے گی۔۔اسی میں ریاست، اداروں اور قوم کی بہتری ہے۔
کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
تو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے
اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میں
مرض بڑھنے سے پہلے ہی دوا تبدیل کر لیتے
تمہارے ساتھ چلنے پر جو دل راضی نہیں ہوتا
بہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے
تمہیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی اگر ہم بھی
گھٹن کے خوف سے آب و ہوا تبدیل کر لیتے
تمہاری طرح جینے کا ہنر آتا تو پھر شاید
مکان اپنا وہی رکھتے پتا تبدیل کر لیتے
وہی کردار ہیں تازہ کہانی میں جو پہلے بھی
کبھی چہرہ کبھی اپنی قبا تبدیل کر لیتے
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہم بول اٹھے ورنہ
گواہی دینے والے واقعہ تبدیل کر لیتے
(سلیم کوثر)
