آٹھ جولائی 1989 سينتيس 37 سال قبل کا سورج بھی عام دنوں کی طرح طلوع ہوا ، صبح کا آغاز گرمی کے ساتھ ہوا تھا ، شديد حبس کے ساتھ گرم ہوا چل رہی تھی ،شہر بھر سے پوائنٹ کی بسيں طلبہ کو ليکر جامعہ کراچی پہنچ رہی تھيں ،شائيد اس روز نئے داخلوں کی لسٹیں بھی آويزاں ہونا تھيں ، اسی لئے طلبہ و طالبات کا رش تھا ،يو بی ايل بنک اور پوسٹ آفس پر پوائنٹ کی بسوں سے اترنے والے طلبہ وطالبات اپنے اپنے شعبہ جات کی طرف جارہے تھے،
ميں ان دنوں جامعہ کراچی کے شعبہ سياسيات ، کاطالبعلم ہونے کے ساتھ اس وقت کے کثير اشاعت ہفتہ روزہ تکبير سے بھی وابستہ تھا ، اسکے ساتھ کيمپس کارنر کے عنوان سے اخبار کے لئے ہفتہ وار ڈائری بھی تحرير کيا کرتا تھا،اس روز صبح دس بجے ميں جامعہ کراچی پہنچا ، سب نارمل نہيں لگ رہا تھا ،آرٹس لابی کے اطراف درختوں کے نيچے دو دو کی ٹوليوں ميں لڑکے موٹر سائکلوں پر بيٹھے تھے، انکے چہروں سے عياں تھا کہ وہ طالبعلم نہيں ہيں ، باہر سے آئے ہيں ، مگر جينز کی پينٹ اور سر پر لگی کيپ اور بار بار موچھوں کو تاؤ دينے سے واضح تھا کہ انکا تعلق ايم کيو ايم سے ہی ہے ،
ميں نے ايڈمن بلاک کے پاس موٹر سائيکل کھڑی کرکےايڈمن بلاک کی دوسری منزل پر پہنچا ہی تھا کہ پہلے فائرنگ کی آواز آئی ، جب گيلری سے ديکھا تو طلبہ طالبات اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لئے محفوظ جگہوں کی جانب بھاگ رہے تھے ، کچھ ہی دير ميں ايڈمن بلاک سے جمازيم تک پورا علاقہ سنسان ہو چکا تھا ،صرف مسلح افراد نظر آرہے تھے ، مسلح افراد کچھ طلبہ کو پکڑ کر جمنازيم کی بيرونی ديوارکے ساتھ کھڑا کرکے پوچھ گچھ کر رہے تھے ، پرانے ايڈمن بلاک کی بالکونی سے جمنازيم کا يہ منظر صاف نظر آرہا تھا، اچانک وقفہ وقفہ سے تين برسٹ چلنے کی آواز آئيں ،اس پورے آپريشن کی نگرانی ايم کيو ايم کے رکن سندھ اسمبلی مرتضی درانی کر رہے تھے،جنکا ان دنوں بڑا رعب اور دبدبہ تھا ،
باہر سے آنے والا “فائرنگ اسکواڈ “بھی کام مکمل کرکے تيزی سے جامعہ کراچی سے نکل گيا، ہر طرف گہری خاموشی تھی ، اس واقعہ کے تھوڑی دير بعد ميں ايڈمن بلاک سے نکلا اور اپنی مو ٹر سائيکل پر جمنازيم کے قريب پہنچ گيا ، نہايت دلخرش منظر تھا، پی ايس ايف کے تين کارکنوں کی لاشيں جمنازيم کی ديوار کے ساتھ پڑی تھيں ،مرنے والے نوجوانوں کے سينوں پر پی ايس ايف کے بيج لگے تھے ، سب کے سروں کو نشانہ بنايا گيا تھا ، جمنازيم کی بيرونی ديوار پر خون اور باقيات چپکی ہوئی تھيں ، بعد ميں ھلاک ہونے والے پی ايس ايف کے کارکنوں کی شناخت ، سہيل رشيد ، عزيز اللہ اجن ،اور ھارون رشيد کے نام سے ہوئی
بڑا ہی دلخرش اور ناقابل بيان منظر تھا،
اس دوران پريس کلب کے سابق سيکريٹری نجيب احمد مرحوم جو اسلامی جمعيت طلبہ کے سرگرم رکن تھے ، ميرے پاس پہنچے ، مجھے کہا کہ تم کو يہاں نہيں آنا چاہئے تھا، فوری طور يہاں سے ہٹ جاؤ، يہ پی ايس ايف اور اے پی ايم ايس او کا جھگڑا ہے ، پوليس کيمپس ميں داخل ہونے کی تیاری کر رہی ہے ، انکی ہدايات پر ميں واپس ايڈمن بلاک تک آ کر موٹر سائيکل پر بيٹھ گيا ، تھوڑی دير ميں پوليس کی موبائل وہاں پہنچی ، ايمبوليس گاڑياں آنا شروع ہوگئيں، لاشوں کو جناح اسپتال شفٹ کيا جانے لگا، کيونکہ ان دنوں پارٹی وابستگی ديکھ کر ، ہی زخمی يا لاش کو اسپتال پہنچانے کا انتخاب ہوتا تھا،
اس دوران ،اے پی ايم ايس او کے ايک اعلیٰ عہدے دار ميرے پاس آئے کہا کيا رفعت تم کيا مجھےگيٹ تک اتار دو گے ، “جو ہوا بہت برا ہوا “ ہمارے علم ميں نہيں تھا ،اس عہدے دار کی شہرت پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے طالبعلم کی تھی ، ميری بھی ان سے اچھی راہ رسم تھی ، اس لئے ميں نے انہيں اسٹاف ٹاؤن والے گيٹ پر اتار دياپی ايس ايف کے تمام کارکن اور رہنما جان کے خوف سے فائرنگ کے بعد ہی بھاگ گئے تھے ، پوری يونيورسٹی ميں ھو کا عالم تھا،جامعہ کراچی غير معينہ مدت کے لئے بند کردی گئی تھی،اگلے روز اس وقت کے کور کمانڈر جنرل آصف نواز جامعہ کراچی پہنچے، سيکورٹی صورتحال کا جائزہ ليا ،وزير اعلی سندھ ، قائم علی شاہ اور گونر سندھ کے مشورے پر ، جامعہ کراچی ميں ، نيم فوجی رينجرز کو تعينات کرنے کا فيصلہ کيا گيا ،
رينجرز کا پہلا دستہ جو مھران فورس کے نام سے جانا جاتا تھا، مشين گن سے ليس گاڑيوں اور ٹرکوں کی قطار ميں سلور جوبلی گيٹ سے جامعہ کراچی ميں داخل ہوئیں ،وہ دن اور آج کا دن پاکستان رينجرز جامعہ کراچی اور شہر کراچی کا مستقل حصہ بن گئے،؟؟ليفٹنٹ کرنل شہباز احمد اس فورس کے کمانڈنٹ مقر ر ہوئے، مگر شہر کے حالات خراب ہوتے گئے تو رينجرز کے کمانڈنٹ کی پوسٹ اپ گريڈ کردی گئی ،برگيڈيئر سليم خان کو فورس کمانڈر مقرر کرديا گيا،
ان دنوں ايم کيو ايم کے حوالے سے مشہور معروف ،” ميجر گليم اغوا اور تشدد کيس “ نے خاصی شہرت پائی تھی،ميجر کليم رينجرز کے انٹلجنس فيلڈ سيکورٹی ونگ سے وابستہ تھے ، انکا آفس بھی جامعہ کراچی کے شيخ زيد اسلامک سينٹر ميں ہی تھا، برگيڈيئر سليم خان ايک دبنگ فوجی افسر تھے انکی کوششوں کے بعد ہی ميجر کليم کی رہائی ممکن ہوسکی ،
حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو کمانڈنٹ کی اس پوسٹ کو ايک مرتبہ پھر اپ گريڈ کيا گيا يوں ميجر جنرل ، امتياز شاہين اس فورس کے ڈائرکٹر جنرل تعينات ہو گئے ،جو بعد ميں کور کمانڈر پشاور مقرر ہوئے، پڑھے لکھے اور پروفيشنل فوجی افسر تھے ،
ايم کيو ايم کا عروج آخری حدوں کو چھو رہا تھا، اسٹبلشمنٹ اور محترمہ بے نظير بھٹو وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی بےبس نظر آتی تھيں،مگر نظام قدرت اورمکافات عمل ديکھئے خون ناحق ميں ملوث کوئی شخص طبعی موت نہيں مرا ، اور جو زندہ رہے وہ نفسياتی مريض بن گئے ،افسوسناک بات يہ ہے کہ ، ايم کيو ايم کے ايم پی اے مرتضی درانی پيپلز پارٹی ميں شامل ہو گئے ، اور وہ بھی اب اس دنياسے رخصت ہو گئے
نوٹ
اس تحرير کو لکھنے کا خيال مجھے ايسے عناصر کی پوڈ کاسٹ ديکھنے اور سنے کے بعد آيا جو اس دور کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پيش کر رہے ہيں

