• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

فیصل شفقت بھٹی کون تھا؟ نواز فقیر کی 3 مرلہ زمین اس کے بھیانک انجام کی وجہ کیسے بنی؟

تحریر: ظاہر محمود

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مارچ 1, 2026
in کالمز
0
فیصل شفقت بھٹی کون تھا؟ نواز فقیر کی 3 مرلہ زمین اس کے بھیانک انجام کی وجہ کیسے بنی؟
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

گلے اور ہاتھوں میں سونے کے بڑے بڑے کینٹھے، اُنگلیوں میں بھاری بھرکم مُندریاں، کالے چشمے اور لمبے بالوں سے پہچانے جانے والے فیصل شفقت بھٹی سرگودھا میں د ہ ش ت کی علامت بن چکے تھے مگر کیوں؟یہ قصہ شروع ہوا 1997ء میں جب سرگودھا کی کلیار فیملی کے ساتھ جائیداد کے تنازع پر فیصل شفقت بھٹی کے والد کو قتل کر دیا گیا- فیصل شفقت بھٹی نے اس ایک قتل کے بدلے میں کلیار فیملی کے 7 بندے ق ت ل کر دئیے- صرف یہی نہیں، اس وقوعے کے بعد کلیار فیملی کو گھٹنے ٹیک  معافی بھی منگوائی اور انھیں عدالتوں میں کیس کی پیروی سے بھی دستبردار کروا دیا-

اس وقوعے کے بعد سرگودھا بھر میں فیصل شفقت بھٹی کی دہشت بیٹھ گئی، وہ پہلے سے زیادہ شیر ہو گیا، لوگوں کی زمینوں پر قبضے، چوری ڈکیتیاں اور غریبوں کی عزتیں لوٹنا شروع کر دیں- وہ وہاں کا بڑا ڈان بن گیا جس کا اظہار اُس نے اپنے حلیے اور لائف سٹائل سے کرنا شروع کر دیا-بڑے لوگوں سے اثرورسوخ بنا کر علاقہ مکینوں پر زمین تنگ کرنے لگا یہاں تک کہ فروری 2024ء آ گیا- اُس کا سامنا حجام کی دکان پر کام کرنے والے نواز فقیر سے پڑا جو شاعر تھا اور مسکین غریب آدمی تھا، وہ شاعر ہونے کی وجہ سے فقیر تخلص کرتا تھا-نواز فقیر کے پاس 3 مرلے زمین تھی جہاں وہ رہائش پذیر تھا، زمین بھی ایسی کہ جیسے دیہاتوں میں رُوڑی کی زمین ہوتی ہے جس کی اتنی وقعت نہیں ہوتی-فیصل شفقت بھٹی نے نواز فقیر سے وہ زمین خریدنا چاہی جسے نواز فقیر نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ "جناب! آپ مربعوں کے مالک ہیں، اس 3 مرلہ زمین کی آپ کے جاہ و جلال کے سامنے کیا وقعت ہے؟ مگر یہ میری کُل کائنات ہے-"فیصل شفقت بھٹی کو یہ انکار بہت بُرا لگا، اُس نے اپنے مُشٹنڈوں کے ذریعے نواز فقیر کو ڈرانا دھمکا نا شروع کر دیا- اس صعوبت سے تنگ آ کر نواز فقیر نے فیصل شفقت بھٹی کے خلاف ایک نظم لکھ دی-26 فروری، 2024ء کو فیصل شفقت بھٹی اپنی فیملی سمیت باہر چلا گیا، مگر نواز فقیر کی وہ نظم نہیں بھولا تھا-اس ایک نظم کا جواب فیصل شفقت بھٹی نے نواز فقیر کے 6 لوگ قتل کر کے دیا- سب سے پہلے 28 فروری، 2024ء کو نواز فقیر کے 12 سالہ کم سن بیٹے کو گو لیو ں سے بھون ڈالا گیا- 12 سالہ بچہ۔۔۔ یہ سب سوچ کر روح کانپ اُٹھتی ہے، مگر اُس رذیل کو ذرا ترس نہ آیا-پھر نواز فقیر کے 80 سالہ بھائی نذر کو اسی طرح بربریت سے مار ڈالا، بعد ازاں نذر کے دو بیٹوں اعظم اور قیصر کو بھی قتل کروا دیا- یہ سب وہ محض نواز فقیر کی کی گئی ایک "نہ” اور لکھی گئی ایک نظم کے جواب میں کر رہا تھا-بات یہیں نہیں رُکی بلکہ نومبر 2024ء میں فیصل شفقت بھٹی کے کارندوں نے بالآخر نواز فقیر اور اس کے ساتھ موجود ایک دوست کو بھی بھون ڈالا- وجہ کیا تھی؟ محض 3 مرلہ زمین اور نواز فقیر کی لکھی ایک نظم۔۔۔قصہ یہاں بھی ختم نہیں ہوا، جب نواز فقیر کی جواں سال بیٹی اور بیٹے نے اپنے والد اور خاندان پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کے خلاف ریاست کا دروازہ کھٹکھٹایا تو فیصل شفقت بھٹی کے بے شمار لوگ اُن کے گھر پہنچ گئے اور کہا کہ 50 لاکھ لے کر صلح کر لو وگرنہ تم دونوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے-اس کیس کی مدعی نواز فقیر کی باہمت بیٹی تھی، نجانے اس میں اتنا حوصلہ اور بہادری کہاں سے آئی کہ وہ اسلحے سے لیس اَن گنت غنڈوں سے بالکل بھی نہیں گھبرائی اور کہا کہ چاہے ہمیں ما ر دو مگر ہم اس کیس کی پیروی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے-اس وقوعے کے بعد وہ دونوں بہن بھائی بمع فیملی کے باقی ماندہ افراد سرگودھا سے بھاگ کر لاہور منتقل ہو گئے، مگر ساتھ ساتھ کیس کی پیروی کرتے رہے- لہذا فیصل شفقت بھٹی عدالتوں اور پولیس کو ہمیشہ مطلوب رہا-آپ اندازہ لگائیے کہ 1997ء میں اپنے والد کے قتل کے بدلے کلیار فیملی کے 7 بندے مار دیے اور پھر محض "نہ” کرنے اور نظم لکھنے پر غریب مسکین نواز فقیر کا سارا کنبہ اجاڑ دیا اور ایک نظم کا جواب 6 قتل کر کے دیا-اتنا سب کچھ کرنے کے بعد فیصل شفقت بھٹی اُسی طرح سونے کے کینٹھوں سے لدا اور رعونت سے بھرے انداز میں ویڈیوز بناتا پاکستان کی جانب گامزن ہوا تو ائیرپورٹ پر سینکڑوں اسلحہ بردار لینڈ کروزروں پر اس کا استقبال کرنے پہنچے تا کہ پولیس اسے چُھو نہ سکے-سرگودھا میں سی سی ڈی کے ایس ایس پی آفتاب پھلرواں صاحب نے نواز فقیر کے ان دونوں بیٹا بیٹی کے ہمراہ فیصل شفقت بھٹی کے کارناموں پر ایک پریس کانفرنس کی جسے سُن کر بلاشبہ آپ کی آنکھیں بھیگ جائیں گے-اُنھوں نے بتایا کہ کیسے سی سی ڈی نے ریاست کو چیلنج کرنے اور غریبوں مسکینوں کی زندگی کو دو زخ بنانے والے فیصل شفقت بھٹی کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا، کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو وہ پیسے کے اندھادھند استعمال یا اثرورسوخ سے بچ جاتا-آفتاب پھلرواں صاحب کے بعد جب مائیک نواز فقیر کی جرات مند بیٹی اور بیٹے کی طرف کیا گیا جن کی عمریں لگ بھگ20برس ہوں گی تو ان کی آنکھوں میں دِکھنے والی چمک اور آواز سے محسوس ہونے والی گرج سے ریاست کی فتح کے شادیانے بجتے سنائی دے رہے تھے-یہ وہ بہن بھائی تھے، جنھوں نے فقط ایک جملہءِ حق ادا کرنے اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے پر نہ صرف اپنا باپ کھویا بلکہ12سالہ چاند سا چھوٹا بھائی، چاچو، اُن کے بیٹے اور اپنے باپ کا دوست بھی کھو دیا تھا- اُن کے پاس جینے کی کوئی وجہ باقی نہیں تھی، تبھی جب بے شمار لوگ رعب و دبدبے سے اُنھیں مقد مے سے دستبردار ہونے پر راضی کرنے آئے تو اُنھوں نے اپنی جان کی بازی بھی لگا دی-مگر اس سب کے باوجود ریاست نے اُن مظلوم بچوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑا، ریاست فیصل شفقت بھٹی کی دولت سے مرعوب ہوئی نہ اس کے اثرورسوخ سے اور آن کی آن انصاف کا گھنٹہ ایسا بجایا کہ چار دانگِ عالم میں اس گھنٹے کی گونج تادیر سنائی دیتی رہے گی-سی سی ڈی اس شاندار کارروائی پر فقید المثال خراجِ تحسین کے لائق ہے- گو کہ کچھ مسائل اور قانونی موشگافیوں کا سامنا ہے مگر امید ہے کہ سہیل ظفر چٹھہ صاحب اپنی بے مثال ذہانت اور وطن کی مٹی کے قرض کو چکانے کی تگ و دو میں اُن موشگافیوں پر بھی کنٹرول حاصل کر لیں گے-مجھے آج رات بہت پرسکون نیند آئے گی کیونکہ نواز فقیر کے 12 سالہ معصوم بچے، 80 سالہ بھائی، اُس کے بیٹوں، نواز فقیر بقلم خود اور اس کے دوست کے ساتھ ساتھ بے بس کلیار فیملی کے 7 ناحق ما ر ے گئے لوگوں کی ارواح آج چین محسوس کر رہی ہوں گی اور اس لیے بھی پرسکون نیند آئے گی کیونکہ نواز فقیر کی باہمت بیٹی اور نڈر بیٹے کی نہ ختم ہونے والی تھکان اب اتر چکی ہے، اُن کی پیشانیاں اب روشن ہیں، اور سب سے بڑھ کر انھیں یہ احساسِ کامل ہے کہ ریاست ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتی جا رہی ہے-

پچھلی پوسٹ

وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات

اگلی پوسٹ

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی حملوں میں مارے گئے: ایرانی ٹی وی کی تصدیق

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی حملوں میں مارے گئے: ایرانی ٹی وی کی تصدیق

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی حملوں میں مارے گئے: ایرانی ٹی وی کی تصدیق

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper