رمضان المبارک کا مہینہ محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ روحانی انقلاب کا نام ہے، سیدہ مہینہ ہے جس میں زمین و آسمان کے دروازے کھلتے ہیں ، دل نرم ہوتے ہیں، آنکھیں نم ہوتی ہیں، اور ہاتھ دعا کے لیے بلند ہوتے ہیں ، رمضان کے عشرے عشرہ کہلاتا ہے، یہی عشرہ انسان کو سب سے پہلا اور سب سے اہم پیغام دیتا ہے، رحمت کو قبول کر و رحمت کو بانٹو اور اپنے کو بدلنے کا عزم کرو، رمضان کے پہلے دس دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر شے پر حاوی ہے،رحمت کا مطلب صرف معاف کر دنیا نہیں بلکہ شفقت، آسانی اور خیر خواہی ہے، یہ عشرہ انسان کے دل میں اُمید کے چراغ روشن کرتا ہے کہ اگر وہ سچے دل سے رجوع کرے تو اس کے لیے دروازے کھول ہیں، ہم اپنی روز مرہ زندگی میں کتنی بار مایوسی کا شکار ہوتے ہیں کاروبار میں نقصان، ملاوٹ میں مشکلات گھر یلو پریشانیاں یا معاشرتی نا انصافیاں ، یہ سب انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہیں ، رمضان کا پہلا عشرہ ایسے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے آتا ہے، یہ کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت تمھارے گنا ہوں اور کمزوریوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے، پہلا عشرہ ہمیں خود احتسابی کا سبق دیتا ہے ، روزہ صرف بھوک، پیاس کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے کی تربیت ہے، جب ایک شخص شدید گرمی میں پانی سامنے رکھ کر بھی خود کو رو کے رکھتا ہے تو دراصل اپنے ارادے کو مضبوط بنارہا ہوتا ہے، یہ عشرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں کیاہم سچ بولتے ہیں، کیا ہم دوسروں کا حق ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے والدین، اساتذہ اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو رمضان کا آغاز ہمیں یہی موقع دیتا ہے کہ ہم اصلاح کی طرف پہلا قدم اٹھائیں ،رمضان کا پہلا عشرہ صرف ذاتی عبادت تک محدود نہیں، یہ اجتماعی شعور بھی پیدا کرتا ہے ، جب ایک مالدار شخص روزہ رکھ کر بھوک کی شدت محسوس کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ غریب روز اند اس کیفیت سے گزرتا ہے، یہی احساس اُسے صدقہ وخیرات کی طرف مائل کرتا ہے، افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر رمضان کو صرف افطار پارٹیوں اور سحری کی محفلوں تک محدود کر دیتے ہیں حالانکہ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے ارد گرد ایسے لوگ بھی ہیں جن کے لیے افطار کا بندو بست کرنا بھی مشکل ہے، پہلا عشرہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی آسائشوں میں دوسروں کو شریک کریں ،اس عشرے کا سب سے نمایاں پہلو عبادات میں اضافہ ہے، مساجد آباد ہو جاتی ہیں، تلاوت قرآن پاک بڑھ جاتی ہے، اور ذکرو دعا کی فضا قائم ہو جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اصل امتحان یہ ہے کہ ہمارا اخلاق بھی بہتر ہو،اگر روزہ رکھنے کے باوجود ہم جھوٹ بولیں ،غیبت کریں ، یا کسی کو تکلیف پہنچائیں تو یہ رمضان کے پیغام کے خلاف ہے، پہلا عشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نرم لہجہ اختیار کریں، معاف کرنا سیکھیں اور دل صاف رکھیں ، آج کا نوجوان بے شمار مسائل کا شکار ہے تعلیمی دباؤ ، روزگار کی پریشانی سوشل میڈیا کی یلغار اور مستقبل کا خوف، رمضان کے یہ دن اس کے لیے اُمید کی کرن ہیں ، یہ اُسے بتا تا ہےکہ وہ اپنے رب سے جڑ کر اندرونی سکون حاصل کر سکتا ہے، جب انسان سحری کے وقت اُٹھ کر دعا کرتا ہے تو اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتا ہے، اور اللہ کی مدد کا طلب گار بنتا ہے، یہی احساس اُسے مضبوط بناتا ہے رمضان کی بہ تر بیت اگر سال بھر جاری رہے تو نو جوان نسل کا کردار سنور سکتا ہے ، رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی گھروں کا ماحول بدل جاتا ہے، سحری کے وقت سب کا اکٹھا ہونا، افطار کے لمحے کا انتظار اور نماز تراویح کی تیاری،سب روحانی فضا پیدا کرتے ہیں یہ عشرہ ہمیں خاندان کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کا بھی موقع دیتا ہے، لیکن ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ رمضان صرف کھانے پینے کی تیاریوں تک محدود نہ کریں، اصل مقصد روح کی غذا ہے ، اگر ہم اس عشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور برداشت کارویہ اپنائیں تو گھر جنت کا نمونہ بن سکتا ہے، یہ عشرہ ہمیں صبر سکھاتا ہے، بھوک اور پیاس برداشت کرنا آسان نہیں مگر یہی مشتق انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رہنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جب انسان جان بوجھ کر اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے تو اس کی قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے، یہ سکھاتا ہے کہ ایک دوسرے کی کوتاہیوں کو برداشت کریں، اگر کوئی غلطی کرے تو فوراً رد عمل نہ کریں بلکہ معاف کرنے کی عادت ڈالیں اگر ہم غور کریں تو معاشرتی بگاڑ کی بڑی وجہ اخلاقی کمزوری ہے، جھوٹ، بددیانتی اور لالچ ہمارے مسائل کی جڑ ہیں، رمضان ان برائیوں کے خلاف عملی تربیت فراہم کرتا ہے، یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تقویٰ محض عبادت نہیں بلکہ دیانت ، امانت اور سچائی بھی ہے اگر ہم یہ عہد کر لیں کہ ہم اپنی عملی زندگی میں بہتری لائیں گے تو یہی رمضان کا اصل مقصد ہے یہ عشرہ در اصل نئی شروعات کا پیغام ہے، یہ بتا تا ہے کہ اگر تم تھک چکے ہو، اگر تم گناہوں کے بوجھ سے دبے ہو، اگر تم مایوس ہوں، تو یہ وقت لوٹ آنے کا ہے ، رحمت کے دروازے کھلے ہیں، یہ عشرہ ہمیں دعوت دیتا ہے اپنے رب سے تعلق قائم کرنے کی ، اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی ، دوسروں پر رحم کرنے کی، اور اپنی زندگی کو مثبت سمت دینے کی ، اگر ان دس دنوں کو سنجیدگی سے گزار میں تو باقی رمضان بھی بابرکت ہو سکتا ہے، اگر رمضان سنور جائے تو پورا سال سنور سکتا ہے م اب یہی دعا ہے کہ اللہ ہیں رمضان کے پہلے عشرے کی رحمت سے بھر پور حصہ عطا فرمائے ، ہمارے دلوں کو نرم کرے ، ہمارے اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں ایسا انسان بنا دے جو خود بھی رحمت کا طالب ہو اور دوسروں کے لیے بھی رحمت کا ذریعہ بنے آمین۔

