• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

حمیدہ کشش بھی ہم میں نہیں رہیں

سچ تو یہ ہے، ۔ بشیر سدوزئی۔۔

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 20, 2026
in کالمز
0
حمیدہ کشش بھی ہم میں نہیں رہیں
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کچھ اموات محض افراد کو نہیں لے جاتیں، وہ پورے معاشرے سے ایک لہجہ، ایک وقار اور ایک آواز چھین لیتی ہیں۔ کراچی کی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار حمیدہ کشش کی ناگہانی موت بھی ایسا ہی ایک سانحہ ہے، خاموش، مگر دیر تک سنائی دینے والا، اور یاد رہنے والا سانحہ؛ جو بھولتے بھولتے بھولے گا۔
حمیدہ کشش آٹھ کتابوں کی مصنفہ تھیں۔ شاعری اور نثر کی متعدد اصناف میں انہوں نے اپنی تخلیقی شناخت قائم کی۔ حتیٰ کہ ہائیکو جیسی نازک صنف میں بھی ان کا کام حوالہ بن چکا تھا۔ مگر ان کی اصل پہچان محض کتابوں کی تعداد یا اصناف کی وسعت نہیں تھی، بلکہ وہ سادگی، انکساری اور درویشی تھی جو ان کی بودوباش اور چہرے سے جھلکتی تھی، جو آج کے ادبی ماحول، خاص طور پر دبستانِ کراچی کی شاعرات میں نایاب ہوتی جا رہی ہے۔آج اکثر لابیوں اور سرمایہ دارانہ سرپرستی کی تلاش میں لوگ سرگرداں ہیں، مگر حمیدہ کشش ان چند ادیبوں میں شامل تھیں جنہوں نے شہرت کے شور میں رہتے ہوئے بھی خودنمائی سے کنارہ کشی اختیار کی۔ نہ کبھی اپنے اعزاز میں تقریبات منعقد کرانے کی کوشش کی، نہ سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی خواہش، نہ کسی سرمایہ دارانہ سرپرستی کی جستجو۔ ان کا وقار ان کے فن کی طرح تھا، خاموش، متوازن اور دیرپا۔ ان کا حلقہ احباب ہی ان کی پہچان تھی،
آرٹس کونسل کی رکنیت کے باعث ان سے شناسائی تو تھی، مگر مکمل تعارف اُس وقت ہوا جب حلقۂ گل رنگ کے روحِ رواں، معروف شاعر سہل احمد کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا۔ تب اندازہ ہوا کہ مرحومہ بڑے حوصلے اور وصف کی حامل تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل سینٹرل میں کئی ادبی پروگرام منعقد کرائے اور ادب دوست تنظیم کے زیرِ اہتمام تعلیمی اداروں میں مشاعروں میں شرکت بھی کی۔ ان ملاقاتوں سے ان کی شخصیت کو سمجھنے میں خاصی مدد ملی۔ ان کی خواہش تھی کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں مستقل مشاعرے اور ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہو، مگر شاید وقت نے انہیں مہلت ہی نہ دی۔
حمیدہ کشش کا جانا صرف ادبی دنیا کا نقصان نہیں، یہ کراچی کے اس اجتماعی المیے کا ایک اور باب ہے جس میں سڑکیں انسانی جانوں کو نگلتی جا رہی ہیں اور نظام خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ایک اور موٹرسائیکل حادثہ کیوں ہوا؛ سوال یہ ہے کہ کراچی کی سڑکیں آخر اتنی خونی کیوں ہو گئی ہیں؟ وہ شہر جہاں زندگی میں ٹھہراؤ ہوا کرتا تھا، وہاں یہ کرب، یہ افراتفری اور یہ افسردگی کیسے در آئی؟ وہ شہر جہاں انسانی قدر و منزلت معتبر سمجھی جاتی تھی، اب وہاں رفتار سے زیادہ طاقت اور انسانی جان سے زیادہ زر کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس

شہر میں جہاں انسان خود کو محفوظ سمجھتا تھا، آج موٹرسائیکل سوار سب سے زیادہ غیر محفوظ شہری ہے۔
نہ اس کی حفاظت کسی پالیسی کا حصہ ہے، نہ اس کی موت کوئی سنجیدہ خبر۔ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے دوست، ساتھی یا عزیز موٹرسائیکل حادثات میں کھوئے۔ کتنے ایسے ہیں جو زندہ تو ہیں، مگر زندگی سے محروم ہو چکے ہیں۔ ہمارا ایک ساتھی، طارق رحمانی، گزشتہ ایک برس سے بستر پر ہیں۔ لائٹ ہاؤس کے قریب موٹرسائیکل حادثہ ہوا، ٹانگ ٹوٹی، تین آپریشن ہوئے، مگر صحت اب تک بحال نہیں ہو سکی۔ نہ چل سکتے ہیں، نہ دوستوں کی محفل میں آ سکتے ہیں۔ اب حمیدہ کشش بھی اسی بے رحم نظام کی نذر ہو گئیں۔موٹرسائیکل پر گھر جاتے ہوئے ایک گاڑی کی ٹکر، سڑک پر گرتا ہوا وجود، اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموشی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کراچی کی سڑکوں نے ایک اور بیٹی کو نگل لیا ہو۔
حمیدہ کشش کراچی کی ادبی فضا میں ایک نرم، دھیمی مگر واضح اور توانا آواز تھیں۔ مشاعروں، ادبی نشستوں اور تعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جب وہ اپنا کلام پڑھتیں تو لفظوں میں ٹھہراؤ اور معنی میں وقار محسوس ہوتا۔ ان کی تحریروں میں دکھ بھی تھا، امید بھی، عورت بھی، معاشرہ بھی، مگر بغیر کسی نعرے، بغیر کسی دعوے، اور بغیر کسی شور و شرابے کے۔
پبلشنگ ادارے کی سربراہی ہو یا ادبی تنظیموں کی سرگرمیاں، ہر جگہ ان کا رویہ ایک طالبِ علم کا سا رہا۔ شاید اسی لیے وہ محض ادیبہ نہیں، بلکہ مجسمۂ ادب کہلانے کی حق دار تھیں۔آج اصل سوال یہ نہیں کہ حمیدہ کشش کیوں چلی گئیں، اصل سوال یہ ہے کہ کب تک کراچی کی سڑکیں شاعر، مزدور، طالب علم اور بیٹیاں نگلتی رہیں گی؟کب تک ٹریفک، قانون اور انسانی جان کے درمیان یہ خونی کھیل جاری رہے گا؟حمیدہ کشش کا جانا ایک فرد کا جانا نہیں، یہ گلستانِ ادب سے بے وقت ایک پھول کا گر جانا ہے۔وہ اب ہم میں نہیں رہیں، مگر ان کے لفظ، ان کی سادگی اور ان کی خاموش عظمت ہمارے درمیان زندہ رہیں گے۔اللہ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے، اور ہمیں اتنی توفیق عطا کرے کہ ہم کم از کم سڑکوں پر انسان کی قیمت پہچان سکیں۔ اور حمیدہ کے لیے دعا مغفرت کر سکیں، وہ کراچی کی بہن اور بیٹی تھی، ایک شاعرہ اور ادیبہ ہی نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بھی، گل رنگ حمیدہ کشش کے بغیر کافی دیر تک اداس رہے گا۔

پچھلی پوسٹ

وزیر اعظم شہباز شریف کی واشنگٹن میں عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں

اگلی پوسٹ

وزیراعلیٰ مریم نواز کا مرید کے نارووال روڈ پر ٹرک اور کار کے تصادم میں چار افراد کے جاں بحق ہونے پر اظہارافسوس

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
وزیراعلیٰ مریم نواز کا مرید کے نارووال روڈ پر ٹرک اور کار کے تصادم میں چار افراد کے جاں بحق ہونے پر اظہارافسوس

وزیراعلیٰ مریم نواز کا مرید کے نارووال روڈ پر ٹرک اور کار کے تصادم میں چار افراد کے جاں بحق ہونے پر اظہارافسوس

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper