• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

اسمائے مبارکہ معنی پیغام اور ہماری زندگی

تحریر: عذرا ملک

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 20, 2026
in کالمز
0
اسمائے مبارکہ معنی پیغام اور ہماری زندگی
0
SHARES
18
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ محض خوبصورت الفاظ نہیں بلکہ معانی اور حکمتوں کا ایک سمندر ہیں ، ان ناموں میں انسان کے لیے راستہ بھی ہے ، رہنمائی بھی اور تسلی بھی ، اگر ہم قرآن مجید کے آغاز پر غور کریں تو سب سے پہلے جو تین اسمائے حسنیٰ ہمارے سامنے آتے ہیں وہ ہیں ، اللہ الرحمن الرحیم ، یہی تینوں نام بسم اللہ الرحمن الرحیم میں جمع ہیں ، یہ تینوں نام مل کر رب کائنات کی ذات اور اس کی صفات کا جامع تعارف پیش کرتے ہیں، اس رمضان میں ہم ان تینوں ناموں کا ترجمہ مفہوم اور عملی پیغام سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،1 ( واحد و یکتا معبود، سب کا خالق و مالک) اللہ و ہ خاص نام ہے جو رب کائنات کے لیے مخصوص ہے، اس کی کوئی جمع نہیں ، کوئی مونٹ نہیں اور کوئی متباد ہیں ، اس کا ترجمہ عموماً ” واحد معبود” یا سب کا خالق و مالک” کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ” اللہ ” ایسا جامع نام ہے جس میں اُس کی تمام صفات شامل ہیں، جب ہم اللہ کہتے ہیں تو گویا ہم اُس ذات کو پکار رہے ہوتے ہیں جو پیدا کرنے والی ہے، عزت وذلت کا مالک ہے، یہ نام بندے کو اس کی اصل یاد دلاتا ہے، انسان جتنا بھی طاقتور ہو جائے ، جتنا بھی مالدار ہو جائے ، وہ اللہ کے سامنے محتاج ہی رہتا ہے، یہی احساس بندے میں عاجزی پیدا کرتا ہے، اگر معاشرے کا ہر فرد یہ شعور اپنا لے کہ ایک ” اللہ ” ہے جو سب کچھ دیکھ رہا ہے، تو ظلم دھو کہ نا انصافی اور کرپشن خود بخود کم ہو جائیں، اللہ کا یقین صرف عبادت تک محدود نہیں بلکہ کردار سازی کا بنیادی ستون ہے "الرحمن ” نہایت مہربانی، بے پایاں رحمت والا ) الرحمن کا مطلب ہے وہ ذات ہے جس کی رحمت بے حد و حساب ہے، یہ رحمت عام ہے یعنی مومن ، کافر ، نیک، گناہ گار سب اُس کی رحمت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ہورج سب پر چمکتا ہے بارش سب کے لیے برستی ہے ہو سب کو میسر ہے ، یہ سب ” الرحمن” کی صفت کا مظہر ہے، "الرحمن” ہمیں یہ پیغام دیتاہے کہ اللہ کی رحمت کسی حد میں قید نہیں، انسان چاہے کتنی ہی غلطیوں میں ڈوبا ہوا گروہ بچے دل سے رجوع کرے تو ” الرحمن” کی رحمت اس کے لیے گھلی ہے، یہ صفت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں وسعت قلبی پیدا کریں، دوسروں کی کمزوریوں کو معاف کریں ، غریبوں پر رحم کریں، کمزوروں کا سہارا بنیں، اگر ہم ” الرحمن” کے بندے ہیں تو ہمیں بھی رحم دل ہونا چاہئے ، معاشرے میں بڑھتی ہوتی اور عدم برداشت کا علاج اس صنعت کے عمل نفاذ میں ہے ، جب والدین بچوں پر شفقت کریں، اساتذہ طلبہ پر نرمی کریں ، حکمران عوام پر رحم دل ہوں، تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے، الرحیم ( بہت رحم فرمانے والا ، خاص رحمت عطا کرنے والا ) "الرحیم ” کا مطلب ہے وہ جو خاص طور پر رحم فرمانے والا ہے، جہاں "الرحمن” کی رحمت عام ہے وہاں "الرحیم ” کی رحمت خاص طور پر ایمان والوں کے لیے ہے ، یہ وہ رحمت ہے جو دلوں کو ہدایت دیتی ہے، گناہوں کو معاف کرتی ہے اور آخرت میں نجات عطا کرتی ہے، ” الرحیم ” بندے کو امید دیتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے راستے پر چلنے کی کوشش کرے تو اُس کی خاص رحمت اس کا مقدر بن سکتی ہے، یہ صنعت ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت میں تسلسل ہو، خیر خواہی مستقل ہو اور کسی کی مددوقتی نہیں بلکہ خلوص پر مبنی ہو ، جب ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں تو دراصل ہم اپنی ہر شروعات کو تین سچائیوں سے جوڑ دیتے ہیں، میرا رب اللہ ہے ، وہی مالک ومعبود ہے، وہ الرحمن ہے اس کی رحمت سب کو گھیرے ہوئے ہے، وہ الرحیم ہے ، وہ خاص ہے طور پر اپنے بندوں پر مہربان ہے، یہ تینوں نام انسان کی نفسیات فکر اور عمل پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، اللہ ہمیں ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس دلاتا ہے، الرحمن ہمیں امید اور وسعت نظر دیتا ہے، الرحیم ہمیں قربت اور رحمت کا احساس دیتا ہے، جب بندہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتا ہے تو وہ اپنے رب کی وحدانیت ، رحمت عامہ اور رحمت خامہ کا اعتراف کے بعد وہ جھکتا ہے سجدہ کرتا ہے اور دعا مانگتا ہے مشکل وقت میں یا اللہ پکارنے سے دل مضبوط ہوتا ہے یارحمن کہنے سے اُمید پیدا ہوتی یارحیم کہنے سے یقین ہوتا ہے کہ میری دعا ضائع نہیں جائے گی، اگر ہم کاروبار میں ایمان داری اختیار کریں تو یہ اللہ پر ایمان کا ثبوت ہے، اگر ہم لوگوں سے نرمی کریں تو یہ الرحمن کی جھلک ہے،اگر ہم مستقل خیر خواہی کریں تو یہ الرحیم کی صفت کا عکس ہے، آج کا نو جوان مقابلے، پریشانیوں اور بے یقینی کے دور سے گزر رہا ہے ایسے میں یہ تین نام اس کے لیے چراغ راہ ہیں ، وہ جانے کہ رزق دینے والا اللہ ہے وہ یقین رکھے کہ اس پر الرحمن کی رحمت سایہ تمکن ہے، وہ امید رکھے کہ الرحیم اسے مایوس نہیں کرے گا، یہ یقین اُسے ذہنی سکون دے گا ، اگر ہم اجتماعی طور پر ان تین صفات کو اپنا لیں تو معاشرے میں انقلاب آ سکتا ہے، حکمران اللہ کو حاضر و ناظر سمجھیں تو انصاف ہوگا ہمو ام الرحمن کی صفت اپنا ئیں تو رواداری بڑھے گی ، افراد الرحیم کی روش اختیار کریں تو با بھی محبت مضبوط ہو گی، ہم اکثر زبان سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے ہیں مگر زندگی میں اس کی روح شامل نہیں کرتے ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ الفاظ محض اسم نہ ر ہیں بلکہ طرز حیات بن جائیں، اللہ الرحمن الرحیم یہ تین نام در اصل ایک مکمل نظام فکر ہیں، یہ ہمیں حقیقت بتاتے ہیں، یہ ہمیں امید دلاتے ہیں ، یہ ہمیں اخلاق سکھاتے ہیں، یہ ہمیں جواہد ہی کا شعور دیتے ہیں ، اگر انسان ان ناموں کو سمجھ کرزندگی گزارے تو اس کی ذات بھی سنور سکتی ہے اور معاشرہ بھی ، آخر میں یہی دُعا ہے کہ اللہ ہم سب کو اپنے ان تین اسمائے مبارکہ کہ حقیقت کو سمجھنے، ان پر یقین رکھنے اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کہ توفیق عطا فرمائے ، کیونکہ جب اللہ دل میں اتر جائے ، الرحمن کی رحمت کا یقین ہو جائے اور الرحیم کی قربت نصیب ہو جائے تو زندگی اندھیروں سے نکل کر نور کی طرف بڑھ جاتی ہے، اللہ ہر مسلمان کو اس نور کی طرف صدق دل سے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ۔

پچھلی پوسٹ

طالبان کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے کمانڈر کے جنازے میں القاعدہ سے تعلقات کا اعتراف کر لیا.

اگلی پوسٹ

ٹیچرز کے لئے ڈریس کوڈ متعارف کرانے کا فیصلہ،سکولوں میں صفائی کے لئے ستھرا پنجاب سروسز حاصل کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف۔

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
ٹیچرز کے لئے ڈریس کوڈ متعارف کرانے کا فیصلہ،سکولوں میں صفائی کے لئے ستھرا پنجاب سروسز حاصل کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف۔

ٹیچرز کے لئے ڈریس کوڈ متعارف کرانے کا فیصلہ،سکولوں میں صفائی کے لئے ستھرا پنجاب سروسز حاصل کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف۔

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper