کراچی کی صبح جب سمندر کی نمی سے بھیگی ہوا کے ساتھ جاگتی ہے تو اس کے ساتھ ایک اور چیز بھی بیدار ہوتی ہے زبان یہ وہ اردو ہے جو کسی ایک ماں کی بیٹی نہیں، بلکہ ہجرتوں، بازاروں، فٹ پاتھوں، یونیورسٹیوں اور موبائل اسکرینوں کی پرورش یافتہ ہے۔ یہ شہر جب 1947 کے بعد آباد ہوا تو اس کے ساتھ لکھنؤ کی نزاکت، دہلی کی شائستگی اور حیدرآباد دکن کی مٹھاس بھی یہاں اتر آئی بزرگوں کی گفتگو میں ٹھہراؤ تھا “ازراہِ کرم تشریف رکھیے “عرض یہ ہے کہ معاملہ کچھ مختلف ہے۔” الفاظ جیسے استری شدہ کپڑے سلیقے سے ترتیب دیے ہوئے۔ یہ بیبی بومرز کی اردو تھی وقار سے بھرپور، فارسی کے زیور پہنے، تہذیب کی خوشبو میں بسی ہوئی فیکٹریوں، ٹی وی ڈراموں اور کالج کینٹین کی اردو وقت آگے بڑھا فیکٹریوں کی سیٹیاں بسوں کی چیخ، اور پی ٹی وی کے ڈرامے شہر کی فضا میں شامل ہوئے۔ جنریشن ایکس نے باپ کی شائستگی اور بازار کی تیزی کو ملا کر نئی زبان بنائی۔ “یار، ٹینشن مت لو۔” “پلان کیا ہے آگے کا؟” یہ وہ دور تھا جب انگریزی نے دروازہ نہیں توڑا آہستہ سے اندر آ کر صوفے پر بیٹھ گئی کوڈ سوئچنگ روزمرہ بن گئی دفتر میں انگریزی، گھر میں اردو، دوستوں میں مکس۔ زبان اب تہذیب کے ساتھ ساتھ ضرورت بھی تھی ڈیجیٹل نسل چیٹ باکس کی اردو پھر اسکرین روشن ہوئی جنریشن زی نے زبان کو کی بورڈ پر لا بٹھایا۔
اب اردو ہاتھ سے نہیں، انگوٹھوں سے لکھی جانے لگی۔ “Kahan ho?” “Scene on hai?” “Bro vibe nahi aa rahi.” یہ رومن اردو ہے وہ اردو جو رسم الخط بدل کر بھی اپنی روح نہیں کھوتی۔ میمز، ریلس، ٹک ٹاک، واٹس ایپ ہر جگہ اردو نے نیا لباس پہن لیا۔ الفاظ چھوٹے ہو گئے۔ جملے تیز ہو گئے لہجہ بے تکلف ہو گیا۔ “فٹافٹ آ جاؤ۔” “کیا حال ہے بھائی؟” یہ زبان رکتی نہیں اسکرول کرتی ہے۔ ہجرتوں کا شہر، لہجوں کا سنگم کراچی کی اردو صرف مہاجروں کی دین نہیں رہی۔ لیاری کی گلیوں سے سندھی آہنگ شامل ہوا، سہراب گوٹھ سے پشتو کی سختی، ملیر سے بلوچی کا بھاری پن، اور پنجاب سے بے ساختگی۔ اسی لیے کراچی کی اردو نہ مکمل لکھنوی ہے، نہ لاہوری، نہ دہلوی یہ تیز ہے، سیدھی ہے، کبھی بے تکلف، کبھی جذباتی۔ اس میں “بھائی” بھی ہے اور “یار” بھی۔ لفظ بدلتے ہیں تو کیا شناخت بھی بدلتی ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں زبان کمزور ہو رہی ہے۔ کچھ کہتے ہیں یہ پھیل رہی ہے سچ شاید دونوں کے درمیان کہیں ہے۔ جب نوجوان کہتا ہے “یہ سین بڑا لِٹ تھا” تو وہ انگریزی بول رہا ہوتا ہے مگر جب وہ دل ٹوٹنے پر لکھتا ہے: “یقین نہیں آ رہا تم چلے گئے” تو وہ اردو میں رو رہا ہوتا ہے دل کی زبان اب بھی اردو ہے۔ بس اس کے گرد دنیا کے رنگ بدل گئے ہیں کراچی کی اردو ایک جاری داستان کراچی کی اردو کسی لغت میں قید نہیں ہو سکتی۔ یہ بس اسٹاپ پر بدلتی ہے، کالج کی سیڑھیوں پر نکھرتی ہے، دفتر کی میٹنگ میں سنجیدہ ہو جاتی ہے، اور رات کو انسٹاگرام کی اسٹوری میں شوخ۔ یہ زبان کمزور نہیں زندہ ہے۔ زندہ چیزیں بدلتی ہیں۔ اور جو بدلتی ہیں، وہی باقی رہتی ہیں۔ کراچی کی اردو دراصل کراچی کی طرح ہے: ہجوم میں تنہا، تنہائی میں شور، اور ہر شور میں ایک نئی آواز۔

