گورنر سندھ نے کراچی صوبہ کے حق ميں رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ، اپنی سرکاری رہائش گاہ پر سيمينار کا اہتمام کيا ، دانشور حضرات نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کيا ،ممتاز معاشی تجزيہ نگار جناب شبر زيدی جو ان دنوں ، پوڈ کاسٹ سے شہرت پانے کے بعد ٹک ٹاکر پر صرف "منہ کی فائرنگ "کرنے والے دانشور بنے ہوئے ہيں ،ايم کيو ايم اگر رہنماؤں کی ذاتی انا اور مفادات کی بھينٹ نہ چڑھتی تو آج يہ شہر لاوارث نہ ہوتا، اگر ايم کيو ايم چہاتی تو جنرل پرويز مشرف مرحوم کے دور ميں ملنے والے لا محدود اختيارات کو استعمال کرکے واقعی کراچی کو جديد شہر بنا ديتی،
شبر زيدی صاحب نے گورنر ھاؤس ميں کراچی صوبے کے حق ميں دلائل کے ساتھ ، کراچی يونيورسٹی کی بد حالی اور تباہی پر بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کيا ہے ،موصوف کو سابقہ طلبہ کو پکارنے سے پہلے جامعہ کراچی کو 2007 کے بعد کراچی کے تعليمی اداروں کو سب سے ذيادہ برباد کرنے والی شخصيات کاتعين کرنا چاہيئے ،ايم کيو ايم کے کنگال سے کروڑ پتی تاجر بنے والے ، اور دو نسلوں کو تباہ کرنے والے رہنماؤں کے احتساب کا مطالبہ کرنا چاہيئے،خاص بات يہ ہے کہ 1980 اور 1990 کی دھائی کے ايم کيو ايم کے کسی رہنما کی اولاد ، ايم کيو ايم ميں فعال نہيں ، سب کے بچے بيرون ملک يا پھر اچھی ملازمتوں پر فائز ہيں ،گورنر سندھ نے کراچی صوبے کے حق ميں رائے عامہ ہموار کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ اردو بولنے والوں کے لئے مشکلات ميں مزيد اضافہ کا باعث بن سکتی ہے ،
ايم کيو ايم جو اب "منتشر قومی موومنٹ بن چکی ہے ، اس جماعت کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والوں کو ، لگتا ہے شہر کے مسائل ، سے کوئی دلچسپی نہيں ہے ،جامعہ کراچی کے لئے مگر مچھ کے آنسو بہانے والے شبر زيدی کو يونيورسٹی کی زمين پر قبضہ کروانے والے وائس چانسلرز اور اس ميں ملوث ملازمین کا تعين کرواکر انکے خلاف مقدمات درج کروانے کا مطالبہ کرنا چاہيئے ،شبر زيدی مالی امور کے ماہر ہيں ، يونيورسٹی کو بلا معاوضہ فرنزک آڈٹ کی پيشکش کرنا چاہيئے ،سابق وائس چانسلر
ڈاکٹر قيصر ، اور مرحوم معصوم علی ترمذی کے دور ميں بڑے اور نماياں قبضہ ہوئے ہيں ، پيٹرول پمپ کی زمين پر ، سب حصہ پکڑ کر ستو پی کر سو گئے،سنا ہے بطور انعام اور ثواب خاتون اسٹیٹ آفيسر اپنے صاحبزادے کی جامعہ کراچی ميں ملازمت کی کوششوں ميں مصروف ہيں، خود انکی ملازمت بھی ايم کيو ايم کے ايک سرکردہ رہنما کی سفارش دی گئی تھی ، کراچی يونيورسٹی کے قابل وکلاء کيوں خاموش ہو گئے ، وجہ جلد منظر عام پر آئيں گی، جامعہ کراچی کے موجودہ کسٹوڈين توجہ ديں ،

