شاہ جی، یعنی نادر شاہ عادل۔صحافی، درویش، کالم نویس، فٹبالر، ادیب، لیاری میں اسٹریٹ ایجوکیشن کی بنیاد ڈالنے والے سوشل ورکرز میں سے ایک، یاروں کے سامنے من موہنے محبوب، سیٹھوں کے روبرو عزت نفس کے سخت گیر رکھوالے۔مجھ سے اور مجھ جیسے بہت سے لوگوں سے ان کا تعلق تیس چالیس برس پرانا تھا۔ نوائے وقت، جنگ، ایکسپریس، کراچی پریس کلب، پریس کانفرنسیں، تقریبات۔ یاد بھی نہیں، پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی۔ ‘عمر بھر ایک ملاقات چلی آتی ہے’ والا معاملہ لگتا تھا۔ایک صبح وہ سب ختم ہوا۔بے شمار منظر ہیں جو بے ساختہ یاد آتے ہیں۔ کراچی کے پینوراما سینٹر کی چوتھی منزل کے ایک
کمرے میں نادر شاہ عادل میرے سامنے بیٹھے ہیں اور میں ان سے پندرہ روزہ ‘الجمہوریہ’ کے لئے ایکسکلوسیو ٹائیٹل اسٹوری کی بات کر رہا ہوں۔ وہ اس ایڈونچر میں مجھ جیسے بے نام کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔ عمر میں اور تجربے میں اور دانائی میں وہ مجھ سے بڑے ہیں مگر کیونکہ میں ایڈیٹر ہوں تو وہ ایک خالص پروفیشنل صحافی کی طرح میری بات پوری توجہ سے سن رہے ہیں۔یاد آتا ہے، ان کی ٹائٹل اسٹوریز اتنی بھرپور ہوتی تھیں کہ ایک لفظ بھی ایڈٹ نہیں ہوتا تھا۔ ڈپٹی ایڈیٹر ہمارے بے حد عزیز دوست تھے خلیل اللہ فاروقی۔ دفتر میں شاہ جی اور خلیل اللہ فاروقی کی شوخ گفتگو، ہنسی کے پھول کھلائے رکھتی تھی۔ایک منظر اور یاد آتا ہے۔تھل کے صحرا میں رات گئے ہم ایک خیمے میں جمع ہیں۔ ہم یعنی کراچی کے کئی صحافی، جنہیں آئی ایس پی آر کے برادر صولت رضا اپنے ساتھ پاکستان کی سب سے بڑی فوجی مشق ‘ضرب مومن’ میں لے گئے ہیں۔ سب
عسکری یونیفارم میں ملبوس، لمحہ لمحہ کی رپورٹنگ کرتے۔ خیمے میں نادر شاہ عادل کی آواز گونج رہی ہے۔ وہ سلیپنگ بیگ پر آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں اور ہالی وڈ کے بڑے فلمی ہدایت کاروں کے بارے میں اور ان کے ماسٹر پیسز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ کوئی دریا ہے جو بہہ رہا ہے۔ خیمے میں موجود صحافی سحر زدہ نظر آتے ہیں۔ اگلے روز میں اپنی حیرت کا اظہار کرتا ہوں، اس نئے شعبہ پر ان کی دسترس کی داد دیتا ہوں تو وہ روایتی قہقہے کے ساتھ کہتے ہیں۔ "اچھا اخلاق جی، اب آپ ہمیں اس طرح تنگ کریں گے؟” اب ان دنوں کی یاد بس یہ تصویر رہ گئی ہے جس میں شاہ جی دوسری صف میں میرے ساتھ بیٹھے ہیں ۔وہ کراچی کی پسماندہ بستی لیاری سے اٹھے تھے اور صحافت کے آسمان پر چھا گئے تھے۔ اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہ کرنے والے، بڑی سے بڑی ملازمت کرتے وقت ہمیشہ اپنی جیب میں استعفے رکھنے والے۔ پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ایسے دیانت دار، جری، منکسر اور محبت بھرے صحافی اب خال خال ہی ملتے ہیں۔
