• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

مسلم ممالک میں پراکسی وار حصہ اول

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 26, 2026
in کالمز
0
مسلم ممالک میں پراکسی وار حصہ اول
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

نقشے پر دیکھیں تو یمن اور عُمان میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا ۔ دونوں برابر برابر واقع ہیں ۔ اسٹراٹیجک پوزیشن بھی تقریبا ایک جیسی ہی ہے ۔ دونوں ہی کا ایک دوسرے کے علاوہ دوسرا ہمسایہ صرف سعود ی عرب ہے ۔ عُمان کا ایک پڑوسی متحدہ عرب امارات بھی ہے ۔ زمین کا رقبہ بھی تقریبا ایک جتنا ہی ہے اور وسائل بھی تقریبا ایک جیسے ہیں ۔ مگر جب ان دونوں ہمسایہ ممالک کے عوا م کی حالت زار کو دیکھیں ، امن و امان کی صورتحال کو دیکھیں ، معیشت کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ عُمان میں زندگی پُرتعیش ہے جبکہ یمن میں کھانا ملنا تو دور کی بات ، جان کے بھی لالے پڑے ہوئے ہیں ۔

سوال تو بنتا ہے نا کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ ایک جیسی زبان بولنے والے ، ایک جیسے وسائل رکھنے والے ، ایک جیسی پوزیشن کے حامل ایک ملک میں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں جبکہ دوسرے ملک میں نہ مال محفوظ ہے ، نہ جان اور نہ ہی عزت و آبرو ۔نہ کھانے کو کچھ دستیاب ہے اور نہ پینے کو ۔

پہلے عُمان کو دیکھتے ہیں ۔ بہت زیادہ پیچھے تاریخ میں نہیں جاتے کہ عُمان کی تاریخ اس کالم کا موضوع نہیں ہے ۔ عُمان کا سرکاری نام سلطنت عُمان ہے اور اس کا دارالحکومت مسقط ہے ۔ موجودہ عُمان کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے ۔ 1970 میں برطانوی حکومت کی مدد و اعانت سے سلطان قابوس بن سعید نے اپنے والد سعید بن تیمور کا تخت الٹ کر تخت و تاج سنبھالا ۔ سلطان قابوس بن سعید کے بعد اب اس کے فرمانروا کا نام ہیثم بن طارق ہے ۔ یہ سلطان قابوس بن سعید کے کزن ہیں ۔ یوں تو عُمان کا شمار عرب دنیا کی قدیم ترین آزاد ریاست میں ہوتا ہے مگر بیسویں صدی کے آغاز میں جب برطانیہ کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور اس کا طُوطی ہر سُو بول رہا تھا ، یہ بھی برطانوی اثر میں آچکا تھا ۔ بعد ازاں جب برطانوی سامراج نے علاقے سے بوریا بستر لپیٹا تو یہ بھی اس کے اثر سے آزاد ہوگیا ۔ مگر قابوس بن سعید کے سلطان بنتے ہی یہ دوبارہ سے عملی طور پر برطانوی کالونی میں تبدیل ہوگیا کہ اس کی دفاع کی ذمہ دار بھی برطانوی فوج ہے اور سول سرکار بھی گورے ہی چلا رہے ہیں ۔ لازمی طور پر ان خدمات کے عوض حکومت برطانیہ بھاری بھرکم معاوضہ وصول کرتی ہے ۔

اس کے مقابلے میں پڑوسی ملک یمن ہے ۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں اس ملک کو عثمانی اور برطانوی سلطنتوں میں تقسیم کردیا گیا تھا ۔ یہ برطانوی راج میں شمالی یمن اور جنوبی یمن کی دو ریاستوں میں تقسیم تھا ۔ اسے عربوں کا اصل وطن قرار دیا جاتا ہے ۔ 1962 میں یمن عرب جمہوریہ کا قیام میں آیا اور 1967 میں جنوبی یمن آزاد ہوا ۔ علی عبداللہ صالح نے 1990 میں شمالی یمن اور جنوبی یمن کو متحد کرکے جمہوریہ ال یمانیہ کو تشکیل دیا اور وہی اس کے پہلے صدر بنے ۔ 2011 میں بہار عرب کے نتیجے میں انہیں مستعفی ہونا پڑا ۔ اس کے بعد سے یمن مسلسل خانہ جنگی کا شکار ہے ۔ یمن کی حالت زار کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں پر بے روزگاری کی شرح 60 فیصد ہے ۔ 2019 میں اقوام متحدہ نے رپورٹ کیا کہ یمن میں انسانی امداد کی ضرورت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے ۔ اس وقت یمن نازک حالت کے اشاریہ میں غزہ کے ساتھ سب سے اونچے مقام پر ہے اور عالمی بھوک کے اشاریہ میں تیسرے نمبر پر ہے ۔ پہلے نمبر پر غزہ ہے ، دوسرے نمبر پر وسطی افریقہ جمہوریہ ہے ۔ غزہ سے پہلے عالمی بھوک کے اشاریہ میں یمن کا نمبر دوسرا تھا ۔ ابرہہ یمن کا ہی بادشاہ تھا اور ملک سبا کی ملکہ شیبا کا تعلق بھی یمن سے ہی تھا ۔ قدیم رومی اس علاقے کو فیلکس یا زرخیز اور خوش حال عرب کہتے تھے ۔

سوال تھا کہ جب ہمسایہ ملک عُمان ایک خوش حال ملک ہے تو تیل و گیس کے برابری کے وسائل رکھنے کے باوجود یمن بھوک کا شکار ملک کیوں ہے ؟ اس کے ڈانڈے پراکسی وار سے جا ملتے ہیں ۔ یہ شیعہ سُنّی پراکسی وار کی ایک دردناک کہانی ہے جس میں وسائل ہی اس ملک کی بدقسمتی میں تبدیل ہوگئے ۔ اس ملک میں ہر طاقتور نے ہی قسمت آزمائی کی ۔

ایک وقت تھا کہ جب ایران شیعہ خلافت کے قیام کے لیے مسلم ممالک میں پراکسی قائم کررہا تھا ۔ اس کا ایک مقصد تو علاقے میں اثر و نفوذ میں اضافہ کرنا تھا تو دوسری طرف ممکنہ حریفوں کو tough time دینا تھا ۔ اسی پالیسی کے تحت عراق، شام اور لبنان میں مختلف پراکسی کھڑی کی گئیں ۔ اسی پالیسی کے تحت یمن میں حوثی پراکسی کھڑی کی گئی تاکہ ایک طرف تو horn of Africa کو کنٹرول کیا جاسکے تو دوسری جانب سعودی عرب کو قابو میں کیا جاسکے ۔

یہ نقطہ آغاز تھا یمن کی بدقسمتی کا ۔ سعودی عرب نے اس کا علاج بہ مثل زہر کا تریاق زہر
سے کرنے کی کوشش کی ۔ یعنی حوثیوں کی پراکسی کے مقابلے کے لیے القاعدہ اور داعش کی پراکسی قائم کردی ۔ پھر خود بھی حملہ آور ہوگیا ۔اسے بتایا گیا کہ یہ جنگ تو محض ایک ہفتے کی بات ہے ۔ مگر سعودی حملے کے بعد وہی حال ہوا کہ میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں ، کمبل مجھے نہیں چھوڑتا ۔ داعش نے حوثیوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیے ، اس کا مظاہرہ ہم سوڈان میں بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ ابھی تک تو صرف ایران الیون اور سعودی الیون ہی یمن کے اکھاڑے میں نبردآزما تھے ۔ دونوں ہی اپنی اپنی پراکسی کو ہتھیار پہنچا رہے تھے اور خوب ہی دولت نچھاور کررہے تھے ۔ اس پراکسی وار میں یمن کا وہی حال ہوا جو ہاتھیوں کی جنگ میں گھاس کا ہوتا ہے ۔ اب جگہ جگہ وار لارڈز کے گڑھ وجود میں آچکے تھے ۔ یمن تو تباہ ہوا ہی ہوا مگر اس پراکسی وار میں طاقت کی اس جنگ نے سعودی عرب اور ایران کا بھی بھٹہ بٹھا دیا ۔ یمن جنگ کے نتیجے میں سعودی عرب کو اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ قرض لینا پڑا ۔ قرض کا یہ سلسلہ جو شروع ہوا تو دراز ہی ہوتا چلا گیا اور اب سعودی عرب گھٹنوں گھٹنوں قرض کی اس دلدل میں پھنس چکا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ہتھیار بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہوا ۔ ایک جانب یہ کمپنیاں ہتھیاروں اور ایمونیشن کی فروخت سے دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ رہی تھیں تو دوسری جانب ان ہی کمپنیوں کے مالکان کے بینک قرض دے رہے تھے ۔ یعنی دولت گھوم رہی تھی اور ہر چکر میں ان ممالک کو مزید غلامی میں جکڑ رہی تھی ۔

یہ حالات دیکھ کر ایک تیسرے فریق متحدہ عرب امارات نے یمن میں entry دی ۔ متحدہ عرب امارات کے اس کھیل میں داخل ہونے کے کئی مقاصد تھے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں صرف تین ریاستوں میں تیل کی پیداوار ہوتی ہے ۔ متحدہ عرب تیل کا ایک بڑا عالمی کھلاڑی ہے اور یہ 2.9 سے 3.9 ملین بیرل تیل یومیہ نکالتا ہے ۔ مگر اس تیل کی پیداوار کا 94 تا 96 فیصد کا مالک صرف ابو ظہبی ہے جبکہ انتہائی قلیل مقدار میں بقیہ تیل دبئی اور شارجہ سے نکلتا ہے ۔ ان تین ریاستوں کے علاوہ دیگر ریاستوں میں تیل و گیس موجود نہیں ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ متحدہ عرب امارات کی ایک ریاست ابوظہبی تیل و گیس کے زبردست ذخائر رکھتی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ تیل و گیس بقیہ ریاستوں کو مفت یا کم قیمت پر نہیں ملتا ہے بلکہ انہیں بھی عالمی نرخوں پر خریدنا پڑتا ہے ۔ جیسا کہ پاکستان سے نکلنے والی قدرتی گیس کی قیمت ہم سے عالمی مارکیٹ کے مطابق ہی وصول کی جاتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تیل و گیس نکالنے والی ساری کمپنیاں باہر کی ہیں اور حکومت پاکستان نے ان سے یہی معاہدہ کیا ہے کہ حکومت انہیں عالمی قیمت کے مطابق ادائیگی کرے گی ۔ پاکستان سے نکلنے والی گیس یا تیل کا پاکستانی حکومت کو محض بارہ تا اٹھارہ فیصد رائلٹی ملتی ہے اور اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ۔

اب اس کھیل میں بین الاقوامی کھلاڑی بھی کودے۔ یمن میں جنگ کی آگ پر قابو پانے کے بجائے انہوں نے یمن پر تجارتی پابندیاں عائد کردیں ۔ یمن پر پابندیاں عائد ہونے کے بعد یہی تیل اب اسمگل ہو کر متحدہ عرب امارات پہنچنے لگا ۔اسمگلنگ کا مطلب تھا کہ اس کی قیمت عالمی مارکیٹ کے مطابق ادا نہیں کی جائے گی بلکہ مرضی کے مطابق دی جائے گی۔ دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ اب تیل کے یہ پیسے حکومت کے پاس نہیں جائیں گے بلکہ وار لارڈز کو ان کی ادائیگی کی جائے گی ۔ اب متحدہ عرب امارات کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں اور سر کڑاہی میں ۔ یعنی پہلے تو تیل کی قیمت اونے پونے طے کی جاتی ، پھر ان کی نقد ادائیگی کے بجائے ، اس کے بدلے وار لارڈز کو اسلحہ فراہم کیا جاتا اور اس کے لیے بھی اپنی قیمت مقرر کی جاتی جو کہ بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی اور کہا جاتا کہ یہ اسلحہ بلیک مارکیٹ سے خریدا گیا ہے ، اس لیے اس کی قیمت زیادہ ہے ۔ اس کے بعد چند ملین ڈالرز ان وار لارڈز کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کروادیے جاتے ۔ یوں یہ وار لارڈز عیاشی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ادائیگی کے اس طریقہ کار کی بناء پر پورے یمن میں ہر شخص کے ہاتھوں میں جدید ترین اسلحہ تھا ، بے دریغ ایمونیشن تھا مگر کھانے کو روٹی نہیں تھی وہ بھوک کے عالمی اشاریہ میں سب سے اوپر تھا ۔

وارلارڈز کی جانب سے آنکھیں دکھانے اور وفاداریاں بدلنے کے خدشے کے پیش نظر متحدہ عرب امارات نے بعد میں اپنی ہی کرائے کی فوج کھڑی کردی ۔ اور یوں یمن کی حالت مزید دگرگوں ہوگئی ۔ اس پورے کھیل میں ایک طرف سعودی عرب بھی برابر کا حصہ دار تھا تو دوسری جانب روس ، چین اور امریکا سمیت ساری ہی طاقتیں بھی اسے روکنے کے بجائے بڑھاوا دینے میں مصروف تھیں کہ ان کی اسلحہ ساز کمپنیاں دن و رات کی شفٹ لگا رہی تھیں ۔

ابھی یمن کی کہانی جاری ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سوڈان و دیگر ممالک کی داستانیں بھی جڑی ہوئی ہیں ۔ متحدہ عرب امارات کے اس رخ پر مزید گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

پنجاب کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں کام کرنے والے طبّی عملے کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی:حکومت وسائل دے، کارروائی کی دھمکی نہیں‘

اگلی پوسٹ

جول سوليفان: روحانی داستان

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
جول سوليفان: روحانی داستان

جول سوليفان: روحانی داستان

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper