• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

احمد معراج کے ہاٸیکو دیوان کا ادراکی تنقیدی مطالعہ

نقد و نظر : فرحت عباس شاہ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 24, 2026
in کالمز
0
احمد معراج کے ہاٸیکو دیوان کا ادراکی تنقیدی مطالعہ
0
SHARES
18
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اردو میں ہائیکو کی روایت اگرچہ زمانی اعتبار سے طویل نہیں، مگر فکری سطح پر اس نے اردو شاعری کے ادراکی دائرے میں ایک نیا زاویۂ نظر متعارف کرایا ہے۔ جاپانی صنف ہائیکو، جو اپنی ظاہری اختصار پسندی کے باوجود باطنی وسعت رکھتی ہے، اردو میں محض ہیئت کی نقل بن کر نہیں آئی بلکہ یہاں اس نے زبان، تہذیب اور شعور کے مقامی تجربات کو اپنے اندر جذب کیا۔
پاکستان سے اردو میں جاپانی شعری صنف ہائیکو کے غالبا” کئی مجموعے موجود ہیں، جن میں ڈاکٹر اختر شمار کا مجموعہ "روشنی کے پھول” (1985) اور محمد امین کی کتاب "ہائیکو” (1981) اہم ہیں۔ ہائیکو 3 سطری نظم ہوتی ہے، جس میں بالترتیب 5، 7 اور 5 ارکان ہوتے ہیں، جو اکثر مظاہر فطرت کی عکاسی کرتے ہیں۔
حال ہی میں انڈیا سے ممتاز شاعر احمد معراج نے اس جاپانی شعری صنف کو اعزاز بخشا ہے۔ ” ان کے ہاٸیکو کا مجموعہ اردو میں’ہائیکو’ کا پہلا دیوان ہے ۔ جسے انہوں نے ” ساکورا ” کا نام دیا ہے۔ احمد معراج بہت عمدہ غزل لکھنے والے شاعر ہیں ۔ انہوں نے ہاٸیکو کے صنفی مزاج کا خیال رکھتے ہوۓ اسے غزل کی لطیف حساسیت ، تغزل ور تہذیبی ادراک سے آشنا بھی کیا ہے ۔ میں نے ان کی کتاب سے لیے گٸے مختصر نمونہ کلام کی بنیادپر اسکا ادراکی تنقیدی مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے جو پیش خدمت ہے ۔احمد معراج کا ہائیکو دیوان "ساکورا” ایک جاپانی صنفی مابعدالطبیعاتی سٹرکچر میں تہذیبی و سماجی ادراکی انضمام کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ کلام فطرت کے مناظر کو براہ راست بیان نہیں کرتا بلکہ قاری کے ادراک کو اس کی اپنی داخلی ساخت سے آشنا کرتا ہے۔ ادراکی تنقیدی تھیوری، یعنی Perceptionism، کے مطابق شاعری کا اصل سوال یہ نہیں کہ کہا کیا گیا ہے بلکہ یہ ہے کہ معنی قاری کے شعور میں کس طرح تشکیل پاتے ہیں۔ اسی تناظر میں ذیل کے ہائیکو اور ان پر پیش کیا گیا ادراکی مطالعہ، کلام کو ایک فعال شعوری تجربہ بناتا ہے، جہاں ہر سطر ادراک کی ایک نئی سطح کو بیدار کرتی ہے۔

"چل سوئے افلاک
جا کے خلاؤں سے لائیں
نئی طرح کی خاک”

اس ہائیکو میں افلاک اور خلا بظاہر خارجی کائنات کے استعارے ہیں، مگر ادراکی سطح پر یہ انسانی شعور کی بالائی منازل کی علامت بن جاتے ہیں۔ ادراکی تنقیدی تھیوری کے مطابق انسان کا ادراک محض زمینی تجربات تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ مسلسل ماورا کی تلاش میں رہتا ہے، تاکہ موجودہ تصورات سے ہٹ کر نئی معنوی تشکیل ممکن ہو سکے۔ “نئی طرح کی خاک” دراصل اسی نئی معنویت کی خواہش ہے، جو پرانے فکری سانچوں کو توڑ کر وجود میں آتی ہے۔ یہاں خاک، جو عموماً مادیت اور فنا کی علامت سمجھی جاتی ہے، ایک نئی تخلیقی توانائی کے طور پر سامنے آتی ہے۔ قاری کا ادراک اس نکتے پر پہنچتا ہے کہ تخلیق کا اصل سفر اوپر کی طرف نہیں بلکہ واپسی کا سفر ہے، جہاں شعور ماورائی تجربے کو زمینی زندگی میں معنویت کی صورت ڈھالتا ہے۔

بات میں نرمی اب
کبھی کبھی مل پاتی ہے
دھوپ میں گرمی اب

یہ ہائیکو روزمرہ تجربے کی سادہ تصویر پیش کرتا ہے، مگر ادراکی سطح پر یہ انسانی رویّوں میں پیدا ہونے والی سختی اور عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ ادراک ماحول اور داخلی کیفیت کے باہمی تعامل سے تشکیل پاتا ہے۔ دھوپ میں گرمی ایک فطری حقیقت ہے، مگر “بات میں نرمی” کا کم یاب ہو جانا سماجی ادراک کی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ قاری اس شعر کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس کرتا ہے کہ خارجی حرارت اور داخلی سرد مہری کے درمیان ایک نیا تضاد پیدا ہو چکا ہے۔ ادراک یہاں محض مشاہدہ نہیں بلکہ خود احتسابی میں بدل جاتا ہے، جہاں انسان اپنے لہجے، اپنے احساس اور اپنے سماجی وجود پر سوال اٹھانے لگتا ہے۔

حرف و لفظ و صوت
ہو نہ ان میں ربط اگر
ہوگی فن کی موت

یہ ہائیکو Perceptionism کے بنیادی اصول کو نہایت جامع انداز میں سمیٹ لیتا ہے۔ ادراکی تنقید کے مطابق معنی لفظ میں نہیں بلکہ لفظ، آواز, معروض اور شعور کے باہمی ربط میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ ربط منقطع ہو جائے تو فن زندہ نہیں رہتا۔ احمد معراج یہاں زبان کے مادی اجزا کو نہیں بلکہ ادراک کے اس نظام کو موضوع بناتے ہیں جو فن کو زندگی بخشتا ہے۔ قاری کا ادراک اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ سمجھتا ہے کہ فن کی بقا تکنیک میں نہیں بلکہ شعور کی ہم آہنگی میں ہے، اور یہی ہم آہنگی تخلیق کو محض اظہار نہیں بلکہ تجربہ بنا دیتی ہے۔

چھوٹی چھوٹی بات
بڑی بڑی باتوں کو بھی
دے سکتی ہے مات

یہ ہائیکو ادراک کی اس خاصیت کو اجاگر کرتا ہے کہ شعور ہمیشہ حجم یا شدتِ اظہار کا محتاج نہیں ہوتا۔ ادراکی تنویدی تھیوری کے لینز سے دیکھا جاۓ تو بعض اوقات ایک معمولی تجربہ یا ایک چھوٹا سا واقعہ پورے فکری نظام کو بدل دیتا ہے۔ یہاں "چھوٹی بات” ادراک کی وہ چنگاری ہے جو بڑے نظریات کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔ قاری اس شعر میں اپنی زندگی کے ان لمحوں کو پہچانتا ہے جہاں ایک معمولی احساس نے اس کے بڑے فیصلوں پر اثر ڈالا، یوں کلام قاری کے ذاتی ادراک سے جڑ جاتا ہے۔ دوسرے اورعمومی پہلو سے دیکھا جاۓ تو بظاہر ایک معمولی بات کسی غیر معمولی نتیجے کا باعث بن جاتی ہے ۔ یہ زندگی کے شعور ، سماجی ادراک اور انسانی رویوں کی گہری ادراکی معرفت کی مثال ہے

کون سی شئے قابض
کچھ بھی پتہ چل پاتا نہیں
ذہن پہ ہے قابض

یہ ہائیکو ادراکی الجھن اور شعوری گرفت کی نہایت گہری تصویر ہے۔ Perceptionism کے مطابق انسان اکثر ایسی طاقتوں کے زیر اثر ہوتا ہے جن کی شناخت اسے خود نہیں ہوتی۔ یہاں قابض کسی واضح شے کا نام نہیں لیتا بلکہ ایک غیر مرئی نفسیاتی یا سماجی دباؤ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قاری کا ادراک اس مبہم کیفیت میں داخل ہوتا ہے جہاں وہ اپنی سوچ، اپنے خوف اور اپنے تیقن پر سوال کرنے لگتا ہے، اور یہی سوال ادراکی بیداری کی پہلی علامت ہے۔ فی زمانہ سیاسی ، معاشی ، مذہبی ، لادین اور سماجی طاقتیں انسانی ذہن کو غلام بنانے پر تُلی ہیں ۔ کوٸی سوشل چینج کے نام پر انسانی ذہن کو قابو میں کرنا چاہتی ہے تو کوٸی طاقت لا دینیت یا مذہب کی لپیٹ میں لا کر انسانوں کو اپنے اقتدار ، طاقت اور سرماۓ کی غرض سے انسانوں کو مفلوج بنا کے رکھ دینے کی درپَے ہے ۔ میں اس ہاٸیکو کو شعور بخشنے کی ذمہ داری پوری کرنے والے عظیم رتبے پر فاٸز دیکھتا ہوں ۔ ادراک کی کینیجمینٹ اور ریپلیسمینٹ کے حملوں کے خلاف انسان کا شعور بخش کر الرٹ کرنے والے اس ہاٸیکو پر احمد معراج کو جتنی بھی داد دی جاۓ کم ہے ۔

کیسا موسم ہے
باغوں میں پھولوں کو بھی
کھلنے کا غم ہے

یہ ہائیکو فطرت کے ایک منظر کو نفسیاتی استعارے میں بدل دیتا ہے۔ Perceptionism کے مطابق موسم محض موسمیاتی کیفیت نہیں بلکہ اجتماعی ادراک کی علامت بھی ہوتا ہے۔ یہاں ایسا موسم ہے جہاں خوبصورتی بھی غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ پھولوں کا غم اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب اجتماعی شعور میں اضطراب ہو تو حسن بھی راحت نہیں دے پاتا۔ قاری اس شعر کو پڑھتے ہوئے اپنے عہد کی اس ادراکی فضا کو محسوس کرتا ہے جہاں خوشی بھی بوجھ بن جاتی ہے۔

کیسا مالی ہے
پھولوں کی خوشبو سے دل
اس کا خالی ہے

یہ ہائیکو اختیار اور جمال کے تعلق پر ایک گہرا سوال اٹھاتا ہے۔ ادراکی تنقید کے مطابق جس کے پاس طاقت یا نگہبانی کا اختیار ہو، اگر اس کا ادراک جمال سے خالی ہو تو تخلیق بے معنی ہو جاتی ہے۔ مالی کا دل خالی ہونا اس ادراکی خلا کی علامت ہے جو اقتدار اور احساس کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔ قاری اس شعر میں سماجی اور تہذیبی سطح پر اختیار رکھنے والوں کی اس بے حسی کو محسوس کرتا ہے جو حسن کی قدر سے محروم ہو چکی ہے۔

دیکھ کے دروازہ
گھر والوں کا ہوا
مجھ کو اندازہ

یہ ہائیکو شناخت اور تعلق کے ادراکی تجربے کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ دروازہ یہاں محض مادی شے نہیں بلکہ شعور کی سرحد ہے۔ میرے نزدیک انسان اپنے وجود کی پہچان اکثر خارجی علامات کے ذریعے کرتا ہے۔ گھر والوں کا دروازہ قاری کے ادراک میں اپنائیت اور بیگانگی کے سوال کو جنم دیتا ہے، اور یہی سوال شعور کو اپنے تعلقات پر نظر ثانی پر مجبور کرتا ہے۔

بھاگ یہاں سے بھاگ
لوگ یہاں پر سنتے ہیں
اب درباری راگ

یہ ہائیکو سماجی سماعت اور ادراکی غلامی کی علامت بن جاتا ہے۔ انسان جب سماج سچ کے بجائے طاقت کی آواز سننے لگے تو ادراک مفلوج ہو جاتا ہے۔ “درباری راگ” اسی مسخ شدہ سماعت کی علامت ہے۔ قاری کا ادراک اس شعر میں خطرے کی گھنٹی سنتا ہے اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شعوری آزادی کے لیے ایسے مقامات سے فرار ضروری ہو جاتا ہے۔

چھوٹی نادانی
بڑے بڑے منصوبے پر
پھیرتی ہے پانی

یہ ہائیکو انسانی ادراک کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ بڑے نظریات اور منصوبے اکثر ایک معمولی غفلت سے منہدم ہو جاتے ہیں۔ یہاں "چھوٹی نادانی” ادراک کی اس لغزش کی علامت ہے جو شعوری عدم توجہی سے جنم لیتی ہے۔ قاری اس شعر میں اپنی ذاتی اور اجتماعی ناکامیوں کا عکس دیکھتا ہے، اور یہی شناخت ادراکی تنقید کا اصل حاصل ہے۔
ان تمام ہائیکو پر ادراکی تنقیدی مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ احمد معراج کا کلام محض ہیئتی تجربہ نہیں بلکہ شعور کی تربیت کا عمل ہے۔ Perceptionism کی روشنی میں یہ ہائیکو قاری کو منظر دکھانے کے بجائے اس کے دیکھنے کے طریقے کو بدلتے ہیں، اور یہی ادب کی سب سے بڑی فکری کامیابی ہے۔

پچھلی پوسٹ

امریکی دھمکی کے بعد ایران نے پھانسیوں کے فیصلے منسوخ کیے : ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو دوبارہ حملہ کریں گے:ڈونلڈ ٹرمپ

اگلی پوسٹ

پاک بحریہ کا بحر ہند میں طویل فاصلے پر کامیاب ریسکیو آپریشن

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پاک بحریہ کا بحر ہند میں طویل فاصلے پر کامیاب ریسکیو آپریشن

پاک بحریہ کا بحر ہند میں طویل فاصلے پر کامیاب ریسکیو آپریشن

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper