پاکستان میں خوبصورتی اور skincare کارجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ، بڑے شہروں میں بیوٹی پارلر کے ساتھ ساتھ گھر پر تیار ہونے والی cosmetic مصنوعات بھی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں ،لوگ جلد کی نکھار اور جدید سٹائل کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کر رہے ہیں ،مگر اس کے ساتھ ہی صحت اور مالی نقصان کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں، مارکیٹ میں جعلی اور غیر معیاری مصنوعات کی بھر مار ہے، صارفین کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا ہو گیا ہے، سوال اب یہ ہے کہ حکومت اور قانون اس جعلی پین پر کتناقا بو پاسکتے ہیں، ساتھ ہی پاکستان میں بیوٹی پارلر کے چار جز فی الحال مارکیٹ پر تصر ہیں، ہر پارلرا نہیں خدمات کے لیئے قیمت خود طے کرتا ہے بیچتا کچھ پالر غیر ضروری زیادہ چارج کرتے ہیں، جبکہ کچھ سستے داموں خدمات فراہم کرتے ہیں لیکن اگر حکومت چاہے تو یہ ممکن ہے کہ وہ صوبائی سطح پر consumerprotection laws کے ذریعے اپنا اصول مقرر
کرے یا ساتھ میں میونسپل اور ضلعی سطح پر وقتی price guideline جاری کرے دنیا کے دیگر ممالک میں جیسے بھارت کے کچھ حصوں میں بیوٹی پارلز کے لیے سٹینڈ ڈریٹ مقرر کیئے جاتے ہیں تا کہ صارفین اور کارو باری حضرات دونوں کے لیئے شفافیت یقینی ہو، پاکستان میں فی الحال کوئی بھی تو می قانون نہیں جو بیوٹی پالرز کے چارجز کو مقرر کرے لیکن قانونی اختیارات موجود ہیں ، اس میں ایک اور عنصر مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی جعلی اور ہوم میڈ cosmetic مصنوعات ایک سنگین مسئلہ ہیں، یہ مصنوعات اکثر بغیر کسی معیار یا حفاظتی میٹ کے تیار کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں جلد میں الرجی یا خارش، کیمیکل برن یا ٹھیکون اور دیر پا جلدی مسائل سامنے آرہے ہیں بستے دام اور خوبصورتی کے فریب میں لوگ انھیں خرید لیتے ہیں اور خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو پراڈکٹ تیار یا فروخت manufacturerly seller کر رہا ہے اگر نقصان دہ ہے تو قانونی طور پر ذمہ دارہے ، شکایت آنے پر consumer protection authorities کاروائی کرسکتی ہیں، Health authorities جیسے کہ PSQCA یقینی بناتے ہیں کہ مارکیٹ میں آنے والی مصنوعات محفوظ اور اسٹینڈرڈ ہوں،پاکستان میں کچھ قوانین موجود تو ہیں جو cosmetic مصنوعات اور صارفین کے تحفظ کو regulate کرتےہیں ان میں (Pakistan standard & quality control
authority(PSQCA مصنوعاتکے معیار اور حفاظتی اصولوں کو یقینی بناتا ہے ، دوسرا Drug Act 1976/ Drug cometies rules cosmetic 2007 اور skin product کے لیے مقرر کرتا ہے، تیسرا consumer protection laws ہے جہاں مصنوعات کی شکایت درج کرائی جاسکتی ہے، ان سب کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ گھر یلو یا غیر رجسٹرڈمصنوعات آسانی سے یاڈیلرز کے ذریعے sale بھی ہوتی ہیں اور Test بھی کی جاتی ہیں comsumerپاcoustomer پر ، لوگ سستے یا فیشن کے مطابق پروڈکٹس خرید لیتے ہیں اس طرح قوانین کے باوجود صارفین میں رہتے ہیں، کیونکہ enforcement اور ownership کمزور ہے، پارلرز جانے والی یا cosmetic store سے خریدنے والی product کو چیک کر کے لیں ہمیشہ رجسٹر ڈ اور سیل والے پراڈکٹس
خریدیں، ہوم میڈ یا یا غیر رجسٹر ڈ پراڈکٹس سے پر ہیز کریں، تاکہ نقصان ہونے پر فوراً consumer PSQCALprotection کور پورٹ کر سکیں ، بیوٹی پارلرز میں استعمال ہونے والی چیزوں کے معیار اور صفائی کو دیکھیں ، جلد میں الرجی اور خارش ہونے پر
ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لیں، اگر ناقص معیاری پراڈکٹس پارلرز میں استعمال کی جاتی ہیں، تو یہ عوام کی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے، حکومت اور قانون کا کردار اور اس فیلڈ میں ان کا عملی طور پر کام بہت باقی ہے، مارکیٹ میں آنے والی cosmetic مصنوعات کو رجسٹر کروانا لازمی قراردیں، اور ساتھ میں مارکیٹ میں جعلی مصنوعات کی نگرانی بڑھائی جائے اور ان کے بے تحاشہ چار جز وصول کرنے والی بیوٹی پارلرز کے لیے معیاری قیمتوں کے رہنما اصول جاری کر کے شفافیت لائی جائے ، اگر صارفین محفوظ ہوں گے تو کارو باری حضرات بھی منصفانہ مقابلہ کرسکیں گے ، بیتو بیچ ہے کہ پاکستان میں خوبصورتی اور skincare کے شعبے میں ترقی ہورہی ہے لیکن اس کے ساتھ جعلی مصنوعات اور غیر معیاری خطرات بھی واضح ہیں، بیوٹی پارلرز چارجز اور مصنوعات کے معیار پر قابو پانا ضروری ہے تا کہ عوام صحت اور مالی نقصان سے بیچ سکیں ، حکومت اور قانونی ادارے اگر سنجیدگی سے اقدامات کریں تو یہشعبہ ترقی کر سکتا ہے اور عوام کی صحت مند محفوظ اور شفاف ماحول فراہم کیا جاسکتا ہے، صارفین کی آگاہی ، رجسٹرڈمصنوعات کا استعمال اور شکایات درج کروانا اس تحفظ کی پہلی لائن ہیں۔
