آج کل ٹيلی ويژن چينلز، ڈيجيٹل اور سوشل ميڈيا پر ہر طرف سابق ڈی جی آئی ايس آئی جنرل ريٹائرڈ فيض حميد کے مظالم، کرپشن ،زمينوں پر قبضے، دھونس دھمکی سے سياسی وفادارياں تبديل کروانے کی جو داستانيں سامنے آرہی ہيں ، اس نے عوام کے رونگٹے کھڑے کر ديئے ہيں ،کہا جاتا ہے کہ حد تو يہ ہے کہ انہوں نے طاقت اور اس وقت کے وزير اعظم عمران کی مبينہ پشت پناہی کے باعث ، مخالفين اور انکی حکم عدولی کرنے والے زندہ انسانوں کو مردہ خانہ کی برفانی ٹرے ميں بند کرنے سے بھی گريز نہ کيا ،اسی لئے جنرل فيض حميد کے عتاب کا شکار ہونے والے ، سياسی، سماجی اور کاروباری افراد ميڈيا پر اسی طرح آنکے مظالم کی داستانيں بيان کر رہے ہيں ،جيسا کہ 1970 کی دھائی ميں 1977 تک ، ” دلائی کيمپ ” ميں ذولفقار علی بھٹو کی ايف ايس ايف ، کے مظالم کی داستانيں ، پاکستان ٹيلی ويژن پر “ظلم کی داستان “کے نام سے سنائی اور دکھائی جاتی تھيں ،
مگر جنرل ريٹائرڈ فيض حميد کے مظالم سن کر ، ذولفقار علی بھٹو مرحوم کے دور کے واقعات تو بہت معمولی لگتے ہيں ،
ماسوائے نواب محمد احمد خان کے قتل کے مبينہ الزام کے ، وہ الزام بھی سپريم کورٹ کے اس فيصلہ کے بعد دھل گيا کہ بھٹو کی پھانسی کا فيصلہ غلط تھا،جنرل فيض حميد کی عمر قيد کی سزا نے يہ پيغام تو بہت واضح کر ديا ہے کہ ، دنيا کی طاقتور ترين 

انٹيلجنس ايجنسی کا سربراہ بھی احتساب سے نہيں بچ سکتا ، ورنہ ماضی ميں پاکستان ميں ،کسی اعلی ترين فوجی جنرل کو عمر قيد کی سزا کا تصور نہيں تھا ،فوج ميں کڑے احتساب کا سہرا صرف اور صرف فيلڈ مارشل عاصم منير کو جاتا ہے،مندرجہ بالا موضوع کو سمجھے کے لئے درج ذيل پيرا گراف کو ضرو پڑھ ليں تاکہ آپ اس معاملہ کو سياق سباق کے ساتھ سمجھ سکيںپانچ جولائی 1977 کو سابق مرحوم وزير اعظم ذولفقار علی بھٹو کی ،حکومت کا تختہ پلٹنے والے جنرل ضياء الحق کے دور ميں پاکستان ٹیلی ويژن پر “ظلم کی داستان “کے عنوان سے ايک پروگرام ہوا کرتا ، تھا ، جس ميں ايسے سياست داں اور بيورو کريٹ ، شرکت کيا کرتے تھے جو بلواسطہ یا بلا واسطہ ، ذولفقار علی بھٹو کی بنائی گئی بدنام زمانہ فیڈرل سيکورٹی فورس (FSF) کے ہاتھوں ، ظلم کا شکار ہوئے تھے ، اس پروگرام ميں مبينہ مظالم کے ساتھ ، ذولفقار علی بھٹو کی” پر تعيش “پرائيويٹ زندگی، نجی محفلوں، اور 70 کی دھائی کے “کی کلب ” کيسينو کے قيام کے منصوبوں کا تذکرہ مظالم کے ساتھ ، بارہ مصالحوں کے ساتھ پيش کيا جاتا تھا، يوں ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی سے قبل عوام ميں اس وقت کی طاقتور فوجی حکمراں جنرل
ضياء نے رائے عامہ ہموار کر لی تھی ،ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ايم آر ڈی بنی ، فوجی حکومت کے خاتمہ کی تحريک چلائی گئی ، بے نظير بھٹو نے سياسی جدو جہد کا آغاز کيا، مگر انہوں نے والد کی پھانسی کے بعد ، اسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ کے بجائے ، گفتگو اور مزاکرات کا راستہ کھلا رکھا ، کيونکہ وہ ايک سياست داں تھيں ، مگر اسکے برعکس انکے بھائيوں ، مزاحمت کا راستہ اختيار کيا ، الزلفقار بنائی مگر بے نظير بھٹو نے مسلح جدوجہد کی کبھی حمايت نہيں کی،اگر اسی طرح کی سياسی سمجھ بوجھ سابق وزير اعظم عمران خان ميں بھی ہوتی اور وہ اس وقت کی اسٹبلشمنٹ کے مرکزی کردار اور سزا يافتہ سابق ڈی جی آئی ايس آئی جنرل فيض حميد کے پيرو کار نہ بنتے تو آج جيل ميں نہيں قائد حزب اختلاف کی حيثيت سے پارليمنٹ ميں ہوتے،
اتنی لمبی تمہيد بانے اور اس تحرير کو لکھنے کا مقصد ماضی اور آج کے سياسی حالات کا تقابلی جائزہ پيش کرنا ہے،

