آج کل لندن اور پاکستان کے اخبارات ہمارے دبنگ دوست دلبر جانی لارڈز نذیر احمد کے قصہ کہانیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ لارڈز نذیر احمد سے ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ قریباً دو دہائیوں پر محیط ہے۔ ابتدائی دنوں میں تو اکثر سیاسی پروگراموں میں لارڈز صاحب کے ساتھ نہ صرف نوک جھونک بلکہ تو تڑاک تک بھی ہوجاتی تھی۔حتیٰ کہ لارڈز صاحب نے تنگ آکر ہماری شکایت شہید محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ سے بھی لگادی تھی۔ لارڈز صاحب کی شکایت کا ہمیں ایک فائدہ ہوا اور اس شکایت کی وجہ سے محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے ہمیں شرف ملاقات بخشتے ہوئے جو لیکچر دیا اس نے ہمارے بند ذھن کے دروازے کھول دئیے۔ اور وہ دن اور آج کا دن ہم نے سوچنے سمجھنے اور ہر بات کے تین چار پہلو نکال کر ہر خراب سے خراب چیز میں بھی اچھائیاں تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔اب کیا تھا اچانک لارڈز نذیر احمد کی ہر تقریر دبنگ ہر گفتگو حاصل مقصود فلسطین کا ہمدرد کشمیریوں کا ساتھی نہ کوئی مصلحت نہ کوئی لگی لپٹی اردو کیا کہ انگریزی کیا جب بولنا کڑاکے دار انداز اور لاجواب بولنا۔ آہستہ آہستہ لارڈز نذیر احمد ہم پر عیاں ہوتا گیا اور ہمارا احترام بڑھتا گیا۔
جب ہمارے معاشی حب کراچی پر بھارتی ایجنٹ گینڈا سوامی نارائن اور اس کے دہشت گردوں کی یلغار ہوئی اور ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ بھارتی ایجنٹ شہر قائد کسی بھی وقت مشرقی پاکستان کی طرح جناح پور میں تبدیل کرکے ہمارے آباؤاجداد کی قبروں کو مسمار کرتے ہوئے ہمیں وطن بدر نہ کردے۔ ایسے کڑے وقت میں ہم اہلیان لیاری نے سپریم کورٹ سے لے کر ایوان صدر تک اور ایوان صدر سے لے کر وزیر اعظم ہاؤس تک GHQ سے لے کر اپوزیشن کے بنچوں تک یہاں تک عاصمہ جہانگیر سمیت
ہر انسانی حقوق کی تنظیموں کے دروازوں پر ڈرم بجائے لیکن کسی کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگی۔ایسے میں اگر کسی نے اہلیان لیاری کا ساتھ دیا تو وہ دبنگ انسان لارڈز نذیر احمد تھا۔ ہماری درخواست پر لارڈز صاحب نے ” فرینڈز آف لیاری انٹرنیشنل” کی سرپرستی قبول کرتے ہوئے ایسا ساتھ دیا کہ بھارتی ایجنٹس کی چیخوں کی آواز دور دور تک سنی گئیں۔ اہلیان کراچی کی یادداشت کیلئے یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی میں جاری دہشت گردی پر ازخود نوٹس لیا تو لارڈز نذیر احمد کی سرپرستی میں فرینڈز آف لیاری انٹرنیشنل نے اپنے وکیل بیرسٹر خواجہ نوید احمد کے توسط سے بطور فریق بنتے ہوئے چیف جسٹس چودھری محمد افتخار کی عدالت میں پیش ہوئے۔ایک طرف فلسطینوں کے حق میں آواز اٹھانے پر اسرائیل امریکہ ناراض تو دوسری طرف گینڈا سوامی نارائن کے سرپرست بھارتی حکومت موقع کی تاک میں جبکہ گھر کے میر جعفر اور پیٹھ پیچھے چھرا گھوپنے کیلئے ہمہ وقت تیار یاد رہے سنہ 2015/16 آزاد کشمیر کی حکومت نے لارڈز نذیر احمد کی آبائی زمین کی لیز اور پاکستانی پاسپورٹ منسوخ کرتے ہوئے لارڈز نذیر احمد کو سخت پیغام دیا تھا لیکن آفرین ہے لارڈز نذیر احمد کے ماں باپ کو جو انہوں نے لارڈز نذیر احمد جیسا دلیر جری بیٹا جنا۔ جس نے کشمیری حکومتی اقدامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے لیاری کے مظلوموں کی حمایت جاری رکھیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں جہاں جہاں دنیا میں مظلومیت تھی وہاں وہاں لارڈز نذیر احمد کی آواز ان کو حوصلہ اور ہمت دیتی تھی۔ جب انسانیت دشمن قوتوں کو لارڈز نذیر احمد کی توانا اور معتبر آواز کو خاموش کرانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو وہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی ابتدائی سازشوں کا جال تیار کیا گیا 2017 میں ایک ادھیڑ عمر خاتون کا استمعال کیا گیا اور جس کلچر میں بوس وکنار اور سکہ رائج الوقت ادا کرکے سڑکوں پر واقع ہوٹلوں میں رات گزارنا عام سی بات ہو وہاں ہاؤس آف لارڈز کے معزز ممبر پر جنسی تشدد اور سیکس ہراسمنٹ کا مقدمہ قائم کرنا سنگین مذاق نہیں تو اور کیا تھا۔لارڈز نذیر احمد نے شرافت کا مظاہرہ دکھاتے ہوئے الزامات کے بعد ازخود مستعفی ہوکر اعلیٰ روایت قائم کی حالانکہ بعد میں معزز عدالت نے لارڈز نذیر احمد کو اس خاتون کی طرف سے لگائے جانے والے تمام الزامات سے بری کردیا۔ اس کے بعد بھی سازشی عناصر باز نہیں آئے اور 1970 کے زمانہ کے گڑھے مردے اکھاڑنے کی تیاریوں میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں فون پر کی گئی گفتگو نے لارڈز نذیر احمد کو مشکوک بنایا ہے۔ یاد رہے یورپ امریکہ میں فون بوتھ پر پرائیوٹ اسکارٹ گروپوں کے پری پیڈ کالنگ نمبر ہوتے ہیں جس پر دکھ درد کے مارے فون کرکے دل پشوری کرتے ہوئے اپنے آپ کو وقتی پریشانیوں سے آزاد کرتے ہیں لہذٰا فون پر سیکس ہراسمنٹ؟؟؟ معاملہ کورٹ میں ہیں دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ہردلعزیز بگ برادر لارڈز نذیر احمد کو یہاں بھی سرخرو فرمائے۔ فلسطین اور کشمیریوں سمیت دنیا بھر کے مظلوموں کے حق میں دبنگ توانا آواز اس وقت اگر ہے تو صرف اور صرف لارڈز نذیر احمد کی ہے۔ لارڈز نذیر احمد ہمیں تم سے پیار ہے۔

