دنیا اکیسویں صدی کے ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے ، جہاں جنگیں اب صرف ٹینکوں، میزائلوں اور فوجی مجاز وں تک محدود نہیں رہیں، آج کل اصل جنگ وسائل پر ہے، تیل، گیس کا پر پیتھیم Rare earth minerals وہ تمام قدرتی خزا نے جو جدید ٹیکنالوجی معیشیت اور عسکری طاقت کی بنیاد بن چکے ہیں، امریکہ کاو میز ویلا کے خلاف مسلسل دبا ؤ اور چین کا زمین کے نایاب معدنی ذخائر اور کا پر copper کی rd 1/3 کی پیداوار اور حکومتی سطح پر مضبوط کنٹرول اس نئی عالمی کشمکش کی وجوہات ہیں، جنگی وسائل کی طرف بڑھنے والی جنگ اتفاق تو بالکل نہیں ، ہاں مفادات کا دروازہ ضرور ہے، بینز ویلا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے، جن کے ہاں تیل کے سب سے بڑے ذخائر کئی بڑی طاقتوں کے مجموعی ذخائر بھی سے زیادہ نہیں لیکن یہی دولت ان کی کمزوری بھی بن گئی ہے ، امریکہ برسوں سے وینزویلا کی حکومت پر پابندیاں لگا تا آرہا ہے، بھی انسانی حقوق کے نام پر، کبھی جمہوریت کے نام پر اور کبھی معاشی بد انتظامی کو جواز بنا کر ، حقیقت مگر یہ ہے کہ مینزویلا کا تیل عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے، اگر یہ تیل آذانہ اور اپنی مرضی سے عالمی منڈی میں آجائے تو طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے، جو امریکہ کے مفادات کے لیے خطرہ کبھی جاتی ہے، امریکی دباؤ نے وینزویلا کی معیشیت کو شدید نقصان پہنچایا ہوام، مہنگائی بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ کی قلت کا شکار ہو گئے ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی
مقصد و بینزویلا کے عوام کی فلاح ہے یا پس پردہ اصل ہدف اس کے قدرتی وسائل ہیں ؟ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے جہاں تیل نکلا وہاں پیرونی مداخلت بھی پہنچی مشرق وسطی سے لے کر لاطینی امریکہ تک قدرتی وسائل اکثر خود مختاری کے دشمن بن جاتے ہیں، دوسری طرف چین کی مثال ہے، چین نے خاموش منصوبہ بندی اور طویل المدتی حکمت و عملی کے ساتھ ارتھ کریٹیکل منرلز اور کا پر copper پر حکومتی سطح پر گرفت مضبوط کی ہے ، Rare earth minerals جدید دور کی شہ رگ ہیں جتی کہ خلائی ٹیکنا لو جی بھی ان منرلز کے بغیر نامکمل ہیں، چین آج دنیا کی بڑی منڈیوں میں ان معدنیات کا سب سے بڑا پیدا کنندہ اور سپلائر ہے، جس کی وجہ سے اُسے عالمی سیاست میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن برتری حاصل ہے،copper بھی اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے ،بجلی تعمیرات، انفراسٹرکچر اورگرین انرجی کے بغیر کا پر copper کا تصور ناممکن ہے ، وینزویلا کے نزدیک چین نے (peru) میں copper 1/3 rd کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے ، las bambs میں دنیا کی سب سے بڑی copper mine جو کہ MMG LT کمپنی کی ملکیت ہے جس میں %2 دنیا کی copper کی پروڈکشن ہوتی ہے ، اس طرح 10 سے 12 کاپر کا آوٹ پٹ peru سے آتا ہے، اس طرح چین، نے نہ صرف اپنی سرز مین پر کا پر کی پید اور بڑ ھائی بلکہ افریقہ اور لاطینی امریکہ میں سرمایہ کاری کے ذریعے بھی اس شعبے میں اثر ورسوخ قائم کیا، بس فرق یہ ہے کہ چین کھلی جنگ اور پابندیوں کی بجائے معیشیت، سرمایہ کاری اور شراکت داری کے ہتھیار استعمال کرتا ہے نہ کہ نہ جائز غندہ گردی اور قبضہ کے ، اب دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ امریکہ اور چین کے طریقے مختلف کیوں ہیں ،امریکہ طاقت ، پابندیوں اور سیایسی دباؤ کے ذریعے اپنا مفاد حاصل کرنے کا عادی دیا، جب کہ چین نے تجارت، قرضوں اور ترقیاتی کاموں کو اپنا ہتھیار بنایا، مگر مقصد دونوں کے ایک ہی ہے، وسائل پر کنٹرول یہی وجہ ہے، کہ آج کی عالمی سیاست اخلاقیات کے بجائے مفادات کے گردگھومتی ہے، اب لگتا یہ ہے یہ سب
کئی عالمی جنگ کی تعمید ہے، اب رہی بات پاکستان کی تو پاکستان جیسے ممالک کے لئے اس صورت حال میں بڑا سبق پوشیدہ ہے، ہمارے پاس بھی معدنی وسائل گیس کوئلہ سونا اور کا پر موجود ہیں، مگر کیا یہ وسائل قومی مفاد ہیں استعمال ہورہے ہیں، یا محض دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑے ہوئے ہیں ،اگر وسائل کی سیاست کو نہ سمجھا گیا تو آنے ولا وقت اور مشکل ہو سکتا ہے، آج دنیا میں قبضے کی تعریف بدل چکی ہے، اب فوجی بوٹوں کی آواز کم اور معاشی معاہدوں پابندیوں اور منڈیوں کا شور زیادہ ہے ، وینزیلا کا تبل ہو یا ارتھ کریٹیکل منرلز یہ علامت ہے کہ اصل جنگ زمین کے نیچے چھپے خزانوں پر ہے جو اس حقیقت کو جتنی جلدی سمجھ لے گاہ ہی آنے والی عالمی بساط پر خود محفوظ رکھ سکے گا ،اور یہ بھی فکر یہ ہے جہاں ترقی پزیر اور وسائل سے مالا مال ریاستوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ محض مہرے بنیں گے یا اپنے وسائل کی حفاظت اور خود مختاری کے لیے ایک واضح قومی حکمت عملی اپنائیں گے، کیونکہ اصل طاقت سرحدوں پر نہیں زمین میں چھپے خزانوں پہ قبضے کی ہے، ان طاقتوں کے مفادات میں معصوم اور نہتے عوام کی زندگیاں غیر محفوظ ہو کر انسا نیت کو تلاش کر رہی ہیں

