سوڈان شمالی مشرقی افریقہ کا ملک ہے اور عرب اور افریقی ثقافتوں کے سنگم پر واقع ہے، یہاں طویل عرصے سے نسلی ، مذہبی، سیاسی، اختلافات رہے ہیں ، شمالی سوڈان میں زیادہ تر عرب اور مسلمان ہیں جنوبی سوڈان کی بنیاد پر ملک میں 1956 سے تنازعات شروع ہو گئے
تھے، شمالی حکومت اور جنوبی باغیوں کے درمیان 1955 سے 1972 تک جنگ لڑی گئی ، بعد از ان Addis Ababa agrement سے امن معاہدہ ہوا، اس کے بعد جنوبی حصے میں دوبارہ بغاوت اٹھی اور نیچی 2 ملین لوگ مارے گئے اور پھر 2005 میں (Comprehensive peace agrement (CPA کے تحت جنگ ختم ہوئی ، 2011 کے ریفرنڈم سے جنوبی سوڈان نیا ملک بن گیا مگر پھر بھی اندرونی اختلافات ختم نہ ہوئے ، حالیہ جنگ اپریل 2023 میں شروع ہوئی اور پھر سوڈان کے دوطاقتور گروپس کی جنگ
ہے، جس میں سوڈانی فوج ( SAF) جس کی قیادت جنرل عبد الفتاح البریان کر رہے ہیں، ریپڈسپورٹ (RSF) جنرل محمد حمدان گاپلو کی قیادت میں ہے، دونوں گروہ کے درمیان جنگ اقتدار پر قبضے کے لیے ہے، اس جنگ کی وجہ سے دار الحکومت خرطوم اور دیگر شہروں میں تباہی ہوئی، سابقہ سوڈانی جنگوں کی وجہ سے ہزاروں شہری ہلاک ہوئے ، جون 2025 میں تقریباً 3384 کا شمار تھا ، دونوں گروپس کی جانب سے شہری آبادی النفر اسکیچر ، ہسپتال، پانی، بجلی، اور امدادی راستوں کو تباہ کیا گیا،
یونائیٹڈ ڈنیشن کے مطابق تقریباً 30 ملین لوگوں کو امدادضرورت ہے، IDPS کی تعداد 10.5 ملین ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں ہیں جنھیں تحفظ چاہیے، صحت کی سہولتیں اور ہسپتال غیر فعال ہیں نسلی اور مذہبی بنیاد پر حملے، تشدد، جنسی زیادتیاں ، جبر النقل مکانی عروج پر ہے ، امدادی رسائی کی کمی نے صورت حال کو
اور بھی سنگین بنادیا ہے، جنگ کی موجودہ چنگاری فوج انضمام Integration of RSF into SAF فوج SFA چاہتی کہ RSF کو تیزی سے ختم کر کے مکمل فوج کے ماتحت کر دیا جائے ، دونوں فریقین میں اعتماد کی کمی کے باعث 15 اپریل 2023 کو خرطوم
میں جولڑائی شروع ہوئی وہ پورے ملک میں پھیل گئی ، طاقت اور اقتدار کی خواہش نے معصوم مسلمان عوام کو پیس ڈالا RSF کے پاس سونا ،تجارت، اور سمگلنگ سے بڑا مالی نیٹ ورک ہے، ہو ڈان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جو کہ سونا پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے دارفور، نیل ، کر دفان کے علاقوں میں سونے کی بڑی کا نہیں ہیں، اور ان کانوں پر RSF حمید تی گروپ کا غیر رسمی کنٹرول ہے۔
ی سونا غیر قانونی طریقوں سے UAE متحدہ عرب امارات اور دوسرے ممالک میں اسمگل کیا جاتا ہے ،اور RSF کواس سے اربوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے، جس سے وہ اپنی فوج کی تنخواہیں اور ہتھیار مہیا کرتا ہے ، اگر RSF یہ جنگ ہارتا ہے تو ان تمام معاشی نیٹ ورک سے خارج ہو جائے گا، جبکہ SAF کے پاس کئی دہائیوں سے بندر گاہیں Port Sudan ذراعت اور تیل کی کمپنیاں اور حکومتی ٹھیکے، غیر ملکی امد ا اور تجارت کی رقوم ہیں ، اور فوج یہ چاہتی ہے سونے کی معاشی طاقت RSF کے ہاتھ میں ندر
ہے ،اگر چہ تیل زیادہ تر جنوبی سوڈان میں ہے لیکن تیل کی پائپ لائنیں شمالی سوڈان Port Sudan تک جاتی ہیں، اور شمالی سوڈان اس پائپ لائن سے سالانہ لاکھوں ڈالر کماتا ہے، اب اس جنگ کی بنیادی وجوہات سونے کی تجارت اور تیل کی ترسیل کے راستوں کا کنٹرول حاصل کرنا ہے،اس جنگ میں علاقائی مفادات میں شامل UAE ، مصر چاڈ، لیبیا، اور روی مفادات شامل ہیں، جب کہ عام شہریوں کے لیے یہ جنگ معاشی
تباہی بن گئی ہے، افراط زر 300 سے زیادہ ہو چکی ہے اور لوگوں کے لیے کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات نایاب ہو چکی ہیں ہوڈانی کرنسی کی قدر تیزی سے گر رہی ہے، جنگ کے ان عوامل کی وجہ سے ذراعت اور تجارت تقرینا بند ہوگئی ہے لاکھوں لوگ اپنا روزی اور رہائشکھو چکے ہیں ،سوڈان کی اس جنگ کا ممکنہ حل صرف RSF اور SAF کے درمیان براہ راست اور غیر مشروط مذاکرات ہیں، اور ان مذکرات میں صرف فوج نہیں بلکہ سیاسی جماعتیں، خواتین، نوجوان اور سول سوسائٹی کو شامل ہونا
چاہیے کیونکی ایک قوم کے اور ایک ملک کےاستحکام کا مسئلہ ہے، اس میں اسلامی ممالک اقوام متحدہ ، افریقی یونین AU ، اور IGAD اور افریقی علاقائی تنظیم ثالثی کر دارا دا کر سکتے ہیں، دونوں افواج کو ایک پیشہ ور ، غیر سیاسی فوج میں ضم کیا جائے اور بین الاقوامی نگرانی میں کیا جائے تا کہ فریق بعد میں دوسرے کو دھوکہ نہ دے، فوج پارلیمانی نظام کے تحت کام کرے اپنے ملک کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی غیر جانبدار تحقیقات ہوں اس کے لیے
سوڈان کے اندر خصوصی ٹریبوٹل بنایا جائے، کیونکہ اپنی ہی عوام کو فوج نے برباد کر دیا ہے، اگر انصاف نہ ہو تو پھر امن صرف
وقتی ہو گا، اگر اپنے ملک کے اندر قدرتی وسائل سونا ، تیل، بندر گاہوں کی حامل شدہ آمدنی کو سوڈانی عوام کی ترقی اور بہتری کے لیے خرچ کیا جاتا تو سوڈان دنیا کے بہترین امیر ملکوں کی صف میں ترقی یافتہ ملک ہوتا ، باقی ملکوں کی طرح ایک عبوری سویلین حکومت سوڈان کے لیے از حد ضروری ہے، جو عوام کی قیادت کو دوبارہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہے۔
