• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

یہ گانا نہیں ‘ یہ دعا ہے ثریا ملتانیکر کا سچ

تحریر:عظیم حیدر سید

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
ستمبر 8, 2025
in کالمز
0
یہ گانا نہیں ‘ یہ دعا  ہے  ثریا ملتانیکر کا سچ
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ملتان کی دوپہریں ہمیشہ کسی اور ہی رنگ کی لگتی ہیں ہوا میں گرد کے ذرے سڑکوں پر اڑتی دھول آم کے پیڑ اپنی گھنی چھاؤں کے ساتھ زمین پر ٹھنڈک بچھاتے ہوئے اور گلیوں میں چلتی ہلکی سی ہوا جو گرمی کو کچھ لمحوں کے لیے بھولنے پر مجبور کر دیتی ہے انہی فضاؤں میں ایک صحن تھا جس کے کچے فرش پر ایک ننھی لڑکی بیٹھی رہتی وہ اپنے گھٹنوں کو بانہوں سے جکڑ کر آسمان کو دیکھتے ہوئے ہلکی ہلکی دھن گنگناتی آواز نرم تھی مگر خواب مشکل دیکھتی تھی اس لڑکی کا نام تھا ثریا جس کی عمر بمشکل آٹھ برس ہوگی
گھر میں موسیقی کا ذکر کم تھا لیکن گھرانہ موسیقی کا تھا لیکن وہ گانا چھوڑ چکے تھے معاشی حالات کی وجہ سے نہ کوئی ساز نہ کوئی گانے والا نہ کوئی ایسا شخص جو سر یا تال کو پہچان سکے مگر ثریا کے دل میں جیسے کوئی چھپا ہوا ساز بستا تھا وہ ریڈیو پر چلنے والے فلمی گانے سنتی اور پوری توجہ سے بول یاد کرنے کی کوشش کرتی جب کبھی کوئی گانا دل کو چھو لیتا تو وہ اسے دہراتی رہتی جیسے یہ ہی اس کی تعلیم ہے صحن میں بیٹھی جب وہ اونچی آواز میں کوئی راگ الاپتی تو کبھی ماں مسکرا دیتی کبھی ڈانٹ دیتی یہ کیا ہر وقت گاتی رہتی ہو پڑھائی پر دھیان دو مگر یہ ڈانٹ بھی اس کی آواز کو نہیں روک پاتی دل کہتا تھا ایک دن سب سنیں گے
وقت گزرا تو یہ شوق جنون میں بدل گیا سہیلیاں کھیل کود میں لگے رہتیں اور وہ گھنٹوں دھنوں میں کھوئی رہتی کسی نے ایک دن بتایا کہ لاہور میں ریڈیو پاکستان ہے جہاں بڑے گلوکار آتے ہیں اور ان کی آوازیں پورے ملک میں سنائی دیتی ہیں یہ بات سن کر ثریا کے خواب کو ایک سمت مل گئی مگر دقت یہ تھی کہ وہاں کیسے پہنچا جائے اس کے لیے پہلے کسی استاد سے سیکھنا ضروری تھا ثریا نے والدہ کی منت سماجت کی تو انہوں نے دہلی گھرانے کے استاد غلام نبی خان کا در کھٹکھٹایا
استاد سخت مزاج اور اصولوں کے پکے آدمی تھے پہلی ہی ملاقات میں کہا کہ یہ کوئی کھیل نہیں ہے یہ عبادت ہے سر اور تال کی دنیا میں فریب کی گنجائش نہیں ثریا نے جھک کر عاجزی سے کہا استاد جی مجھے یہی عبادت سیکھنی ہے اور یوں ایک نیا سفر شروع ہوا صبح کے وقت جب باقی ہم عمر لڑکیاں گڑیوں سے کھیلتی تھیں وہ استاد کے سامنے بیٹھ کر تان لگاتی بول دہراتی سانس قابو میں لانے کی کوشش کرتی کبھی آواز بیٹھ جاتی کبھی ہمت ڈگمگاتی مگر اندر کی آگ کبھی بجھتی نہ تھی استاد کبھی تعریف کر دیتے تو دل جیسے کسی اور ہی دنیا میں پرواز کرنے لگتا
یہ سفر کئی برسوں پر محیط رہا استاد بندو خان نے ملتانیکر کا خطاب دیا چھوٹے شہر سے نکل کر بڑے خوابوں کی دنیا میں قدم رکھنا آسان نہ تھا مگر پختہ ارادے نے سب کچھ ممکن بنا دیا پندرہ برس کی عمر میں وہ لمحہ آیا جس کا خواب وہ برسوں سے دیکھ رہی تھی لاہور کی عمارت ریڈیو پاکستان وہ جگہ جسے وہ دل ہی دل میں جادوئی محل سمجھتی تھی جب اس نے اس عمارت میں قدم رکھا تو دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی کمرے میں بڑے موسیقار بیٹھے تھے سامنے مائیکروفون رکھا تھا اس کی سانس پھول رہی تھی لیکن جیسے ہی تان لگائی کمرے میں ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا سب کی نظریں اس بچی پر ٹک گئیں پھر کسی نے سرگوشی کی یہ بچی بہت آگے جائے گی
ریڈیو پر پہلی بار گاتے ہوئے ثریا نے محسوس کیا کہ یہ وہی لمحہ ہے جس کے لیے وہ کچے صحن میں تنہا گنگناتی تھی نیم کلاسیکی دھنیں لوک رنگ اور کافیاں سب اس کی آواز کے حصے میں آنے والے تھے اس لمحے کے بعد اس کا نام آہستہ آہستہ پہچان بننے لگا ملتان کی دھرتی کی خوشبو اس کی آواز میں گھل کر پورے ملک میں پھیلنے لگی
ثریا ملتانیکر کا نام جب ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوا تو لوگ اس کی آواز میں وہی تازگی ڈھونڈنے لگے جو وسیب کی زمین میں تھی وہ روشن آرا بیگم سے متاثر تھی استاد سلامت علی خان اور بڑے فتح علی خان کے فن کو سنتی تھی مہدی حسن کی گائیکی کو چاہتی تھی لیکن اپنی راہ الگ رکھنے کا ہنر جانتی تھی وہ جانتی تھی کہ کسی کے سائے میں چھپنا نہیں اپنی روشنی پیدا کرنی ہے غزل ہو یا کافی اس کی آواز میں ایسی روح تھی جو سننے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتی لوگ کہتے یہ صرف گلوکارہ نہیں بلکہ ایک سر کی مسافر ہے جو آواز کے سفر پر نکلی ہے اور منزل کی قید میں نہیں ہے
وقت کے ساتھ شہرت کے دروازے کھلتے گئے ایک دن فلمی دنیا کا در بھی قتیل شفائی کے سبب سے کھلا لاہور کے اسٹوڈیوز روشنیوں سے جگمگا رہے تھے فلم بدنام کے لیے ایک گانا ریکارڈ ہونا تھا شاعر مسرور انور نے بول لکھے تھے اور دھن دیبو بھٹاچاریہ نے بنائی تھی جب ثریا نے اس گانے میں آواز دی بڑے بے مروّت ہیں یہ حسن والے تو جیسے پورا پاکستان جھوم اٹھا یہ گانا ایک رات میں ہی لوگوں کی زبان پر آگیا ثریا ملتانیکر اب صرف ایک گلوکارہ نہیں رہی وہ ایک پہچان تھی
مگر فلمی دنیا کی چمک دمک اس نے جلد ہی پہچان لی صرف تین گیت ہی گائے اور تینوں گیت سپرہٹ ہوئے لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ روشنی وقتی ہے اصل پہچان وہ ہے جو لوک گیتوں کافیوں اور دھرتی کے رنگوں میں ہے اس کے گائے ہوئے گیتوں میں وہی خوشبو تھی جو دھرتی کی مٹی میں بسی ہے پیلوں پکیاں نی وے۔ سمل سنگونڈ وچ آندائے وطا لنگ آجا پتن اللہ جانے تے یار نہ جانے یہ سب محض گانے نہیں تھے بلکہ زمین کی کہانیاں تھے لوگ کہتے جب ثریا گاتی ہے تو لگتا ہے جیسے دھرتی خود بول رہی ہو
شہرت کے ساتھ مشکلات بھی آئیں مالی تنگی کے دن بھی دیکھنے پڑے کئی دوستوں نے کہا لاہور شفٹ ہو جاؤ کراچی آ جاؤ وہاں زیادہ مواقع ہیں مگر ثریا کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا کہ میری جڑیں ملتان میں ہیں میں انہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی اور واقعی اس نے کبھی ملتان کو نہیں چھوڑا وہیں رہی وہیں گاتی رہی محفلوں کو اپنی آواز سے روشن کرتی رہی اس نے اپنے شہر کی شناخت کو پوری دنیا تک پہنچایا
وقت کا پہیہ چلتا گیا وہ آواز جو کبھی کچے صحن میں اکیلی گنگناتی تھی اب ریڈیو سے گونجتی تھی ٹی وی سے نشر ہوتی تھی محفلوں میں بکھرتی تھی انہیں کئی اعزازات ملے پرائیڈ آف پرفارمنس ستارہ امتیاز لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ مگر شاید سب سے بڑا اعزاز یہی تھا کہ لوگ آج بھی اس کی آواز کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گانا نہیں یہ دعا ہے یہ محبت ہے یہ دھرتی کی خوشبو ہے
آج 30 اگست 2025 ہے ملتان کا صحن ہے آم کے پیڑ کے نیچے چراغ جل رہے ہیں شام کے سائے لمبے ہو گئے ہیں کچھ نوجوان ہاتھوں میں پھول اور مٹھائیاں لیے کھڑے ہیں صحن میں قہقہے گونج رہے ہیں کوئی گٹار بجا رہا ہے کوئی پرانے ریڈیو پر وہی آواز چلا رہا ہے بڑے بے مروّت ہیں یہ حسن والے ثریا مسکرا رہی ہے چہرے پر وقت کی لکیریں ہیں مگر آنکھوں میں وہی روشنی ہے جو پہلی بار استاد غلام نبی کے سامنے بیٹھی تھی وہ آہستہ سے کہتی ہے یاد ہے استاد جی آپ نے کہا تھا یہ عبادت ہے میں نے یہ عبادت پوری زندگی کی ہے اور پھر آنکھیں بند کر کے دھن گنگنانے لگتی ہے
یہ صرف ایک گلوکارہ کی کہانی نہیں یہ خواب کی کہانی ہے ایک ننھی لڑکی کی جو صحن میں بیٹھ کر گنگناتی تھی اور ایک دن پوری دنیا نے اس کے گیتوں کو سراہا اور سنا یہ ایک نغمے کی مسافت ہے اور یہ مسافت آج بھی جاری ہے

Previous Post

وزیراعلی مریم نوازشریف کی براہ راست نگرانی میں گجرات میں سیلابی پانی کی نکاسی کا گرینڈ آپریشن تیزی سے جاری

Next Post

1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ نے شجاعت اور بہادری کی تاریخ رقم کی،پاک فضائیہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت اور جرآت کا مظاہرہ کیا، چوہدری انوارالحق

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ نے شجاعت اور بہادری کی تاریخ رقم کی،پاک فضائیہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت اور جرآت کا مظاہرہ کیا، چوہدری انوارالحق

1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ نے شجاعت اور بہادری کی تاریخ رقم کی،پاک فضائیہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت اور جرآت کا مظاہرہ کیا، چوہدری انوارالحق

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper