ملتان کی دوپہریں ہمیشہ کسی اور ہی رنگ کی لگتی ہیں ہوا میں گرد کے ذرے سڑکوں پر اڑتی دھول آم کے پیڑ اپنی گھنی چھاؤں کے ساتھ زمین پر ٹھنڈک بچھاتے ہوئے اور گلیوں میں چلتی ہلکی سی ہوا جو گرمی کو کچھ لمحوں کے لیے بھولنے پر مجبور کر دیتی ہے انہی فضاؤں میں ایک صحن تھا جس کے کچے فرش پر ایک ننھی لڑکی بیٹھی رہتی وہ اپنے گھٹنوں کو بانہوں سے جکڑ کر آسمان کو دیکھتے ہوئے ہلکی ہلکی دھن گنگناتی آواز نرم تھی مگر خواب مشکل دیکھتی تھی اس لڑکی کا نام تھا ثریا جس کی عمر بمشکل آٹھ برس ہوگی
گھر میں موسیقی کا ذکر کم تھا لیکن گھرانہ موسیقی کا تھا لیکن وہ گانا چھوڑ چکے تھے معاشی حالات کی وجہ سے نہ کوئی ساز نہ کوئی گانے والا نہ کوئی ایسا شخص جو سر یا تال کو پہچان سکے مگر ثریا کے دل میں جیسے کوئی چھپا ہوا ساز بستا تھا وہ ریڈیو پر چلنے والے فلمی گانے سنتی اور پوری توجہ سے بول یاد کرنے کی کوشش کرتی جب کبھی کوئی گانا دل کو چھو لیتا تو وہ اسے دہراتی رہتی جیسے یہ ہی اس کی تعلیم ہے صحن میں بیٹھی جب وہ اونچی آواز میں کوئی راگ الاپتی تو کبھی ماں مسکرا دیتی کبھی ڈانٹ دیتی یہ کیا ہر وقت گاتی رہتی ہو پڑھائی پر دھیان دو مگر یہ ڈانٹ بھی اس کی آواز کو نہیں روک پاتی دل کہتا تھا ایک دن سب سنیں گے
وقت گزرا تو یہ شوق جنون میں بدل گیا سہیلیاں کھیل کود میں لگے رہتیں اور وہ گھنٹوں دھنوں میں کھوئی رہتی کسی نے ایک دن بتایا کہ لاہور میں ریڈیو پاکستان ہے جہاں بڑے گلوکار آتے ہیں اور ان کی آوازیں پورے ملک میں سنائی دیتی ہیں یہ بات سن کر ثریا کے خواب کو ایک سمت مل گئی مگر دقت یہ تھی کہ وہاں کیسے پہنچا جائے اس کے لیے پہلے کسی استاد سے سیکھنا ضروری تھا ثریا نے والدہ کی منت سماجت کی تو انہوں نے دہلی گھرانے کے استاد غلام نبی خان کا در کھٹکھٹایا
استاد سخت مزاج اور اصولوں کے پکے آدمی تھے پہلی ہی ملاقات میں کہا کہ یہ کوئی کھیل نہیں ہے یہ عبادت ہے سر اور تال
کی دنیا میں فریب کی گنجائش نہیں ثریا نے جھک کر عاجزی سے کہا استاد جی مجھے یہی عبادت سیکھنی ہے اور یوں ایک نیا سفر شروع ہوا صبح کے وقت جب باقی ہم عمر لڑکیاں گڑیوں سے کھیلتی تھیں وہ استاد کے سامنے بیٹھ کر تان لگاتی بول دہراتی سانس قابو میں لانے کی کوشش کرتی کبھی آواز بیٹھ جاتی کبھی ہمت ڈگمگاتی مگر اندر کی آگ کبھی بجھتی نہ تھی استاد کبھی تعریف کر دیتے تو دل جیسے کسی اور ہی دنیا میں پرواز کرنے لگتا
یہ سفر کئی برسوں پر محیط رہا استاد بندو خان نے ملتانیکر کا خطاب دیا چھوٹے شہر سے نکل کر بڑے خوابوں کی دنیا میں قدم رکھنا آسان نہ تھا مگر پختہ ارادے نے سب کچھ ممکن بنا دیا پندرہ برس کی عمر میں وہ لمحہ آیا جس کا خواب وہ برسوں سے دیکھ رہی تھی لاہور کی عمارت ریڈیو پاکستان وہ جگہ جسے وہ دل ہی دل میں جادوئی محل سمجھتی تھی جب اس نے اس
عمارت میں قدم رکھا تو دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی کمرے میں بڑے موسیقار بیٹھے تھے سامنے مائیکروفون رکھا تھا اس کی سانس پھول رہی تھی لیکن جیسے ہی تان لگائی کمرے میں ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا سب کی نظریں اس بچی پر ٹک گئیں پھر کسی نے سرگوشی کی یہ بچی بہت آگے جائے گی
ریڈیو پر پہلی بار گاتے ہوئے ثریا نے محسوس کیا کہ یہ وہی لمحہ ہے جس کے لیے وہ کچے صحن میں تنہا گنگناتی تھی نیم کلاسیکی دھنیں لوک رنگ اور کافیاں سب اس کی آواز کے حصے میں آنے والے تھے اس لمحے کے بعد اس کا نام آہستہ آہستہ پہچان بننے لگا ملتان کی دھرتی کی خوشبو اس کی آواز میں گھل کر پورے ملک میں پھیلنے لگی
ثریا ملتانیکر کا نام جب ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوا تو لوگ اس کی آواز میں وہی تازگی ڈھونڈنے لگے جو وسیب کی زمین میں تھی وہ روشن آرا بیگم سے متاثر تھی استاد سلامت علی خان اور بڑے فتح علی خان کے فن کو سنتی تھی مہدی حسن کی گائیکی کو چاہتی تھی لیکن اپنی راہ الگ رکھنے کا ہنر جانتی تھی وہ جانتی تھی کہ کسی کے سائے میں چھپنا نہیں اپنی روشنی پیدا کرنی ہے غزل ہو یا کافی اس کی آواز میں ایسی روح تھی جو سننے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتی لوگ کہتے یہ صرف
گلوکارہ نہیں بلکہ ایک سر کی مسافر ہے جو آواز کے سفر پر نکلی ہے اور منزل کی قید میں نہیں ہے
وقت کے ساتھ شہرت کے دروازے کھلتے گئے ایک دن فلمی دنیا کا در بھی قتیل شفائی کے سبب سے کھلا لاہور کے اسٹوڈیوز روشنیوں سے جگمگا رہے تھے فلم بدنام کے لیے ایک گانا ریکارڈ ہونا تھا شاعر مسرور انور نے بول لکھے تھے اور دھن دیبو بھٹاچاریہ نے بنائی تھی جب ثریا نے اس گانے میں آواز دی بڑے بے مروّت ہیں یہ حسن والے تو جیسے پورا پاکستان جھوم اٹھا یہ گانا ایک رات میں ہی لوگوں کی زبان پر آگیا ثریا ملتانیکر اب صرف ایک گلوکارہ نہیں رہی وہ ایک پہچان تھی
مگر فلمی دنیا کی چمک دمک اس نے جلد ہی پہچان لی صرف تین گیت ہی گائے اور تینوں گیت سپرہٹ ہوئے لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ روشنی وقتی ہے اصل پہچان وہ ہے جو لوک گیتوں کافیوں اور دھرتی کے رنگوں میں ہے اس کے گائے ہوئے گیتوں میں وہی خوشبو تھی جو دھرتی کی مٹی میں بسی ہے پیلوں پکیاں نی وے۔ سمل سنگونڈ وچ آندائے وطا لنگ آجا پتن اللہ جانے تے یار نہ جانے یہ سب محض گانے نہیں تھے بلکہ زمین کی کہانیاں تھے لوگ کہتے جب ثریا گاتی ہے تو لگتا ہے جیسے دھرتی خود بول رہی ہو
شہرت کے ساتھ مشکلات بھی آئیں مالی تنگی کے دن بھی دیکھنے پڑے کئی دوستوں نے کہا لاہور شفٹ ہو جاؤ کراچی آ جاؤ وہاں
زیادہ مواقع ہیں مگر ثریا کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا کہ میری جڑیں ملتان میں ہیں میں انہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی اور واقعی اس نے کبھی ملتان کو نہیں چھوڑا وہیں رہی وہیں گاتی رہی محفلوں کو اپنی آواز سے روشن کرتی رہی اس نے اپنے شہر کی شناخت کو پوری دنیا تک پہنچایا
وقت کا پہیہ چلتا گیا وہ آواز جو کبھی کچے صحن میں اکیلی گنگناتی تھی اب ریڈیو سے گونجتی تھی ٹی وی سے نشر ہوتی تھی محفلوں میں بکھرتی تھی انہیں کئی اعزازات ملے پرائیڈ آف پرفارمنس ستارہ امتیاز لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ مگر شاید سب سے بڑا اعزاز یہی تھا کہ لوگ آج بھی اس کی آواز کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گانا نہیں یہ دعا ہے یہ محبت ہے یہ دھرتی کی خوشبو ہے
آج 30 اگست 2025 ہے ملتان کا صحن ہے آم کے پیڑ کے نیچے چراغ جل رہے ہیں شام کے سائے لمبے ہو گئے ہیں کچھ نوجوان ہاتھوں میں پھول اور مٹھائیاں لیے کھڑے ہیں صحن میں قہقہے گونج رہے ہیں کوئی گٹار بجا رہا ہے کوئی پرانے ریڈیو پر وہی آواز چلا رہا ہے بڑے بے مروّت ہیں یہ حسن والے ثریا مسکرا رہی ہے چہرے پر وقت کی لکیریں ہیں مگر آنکھوں میں وہی روشنی ہے جو پہلی بار استاد غلام نبی کے سامنے بیٹھی تھی وہ آہستہ سے کہتی ہے یاد ہے استاد جی آپ نے کہا تھا یہ عبادت ہے میں نے یہ عبادت پوری زندگی کی ہے اور پھر آنکھیں بند کر کے دھن گنگنانے لگتی ہے
یہ صرف ایک گلوکارہ کی کہانی نہیں یہ خواب کی کہانی ہے ایک ننھی لڑکی کی جو صحن میں بیٹھ کر گنگناتی تھی اور ایک دن پوری دنیا نے اس کے گیتوں کو سراہا اور سنا یہ ایک نغمے کی مسافت ہے اور یہ مسافت آج بھی جاری ہے

