ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے بعض لوگ دنیا بھر میں نمایاں ہیں۔ جہاں بھی گئے، اولین صف میں کھڑے ہو گئے۔ مگر بدقسمتی یہ رہی کہ اکثریت ایسی ہی ہے جو ریاست کی سرحد سے باہر نکلتے ہی اسے ایسا بھلایا جیسے جموں و کشمیر اور وہاں قید عوام سے ان کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھی بے شمار لوگ اعلیٰ عہدوں اور سرمایہ کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں، لیکن مجال ہے کہ وہ ریاست کی آزادی کے بارے میں لب کشائی کر لیں۔ اگر کوئی آزادی کی بات کر بھی لے یا ’’کشمیر زندہ باد‘‘ کہہ دے تو فوراً اُن پر اپنے عہدوں اور سرمائے کے چھن جانے کا خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں، آزادی کی بات کرنے والوں کے خلاف جارحانہ رویہ اپنانے لگتے ہیں، اور کسی کو ورغلاتے بھی ہیں کہ یہی شرپسند ہیں، یہی غدار ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ راولاکوٹ میں ’’کشمیر زندہ باد‘‘ کہنے والوں کو اسٹیج پر موجود کچھ لوگ مارنے اور عبرت کا نشان بنانے کا مشورہ
دیتے رہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو مراعات یافتہ بھی ہیں اور مراعات کے چھن جانے سے خوف زدہ بھی۔ لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جو اعلی عہدوں پر پہبچنے کے بعد بھی، ریاست اور ریاستی عوام کو نہیں بولتے، دراصل وہی ریاستی ہونے کے حق دار ہیں۔۔۔ وہی قابل فخر ہیں اور وہی ہمارا سرمایہ افتخار ہیں ورنہ روز سوشل میڈیا پر دیکھنے پڑھنے کو ملتا ہے کہ فلاں کی ترقی ہو گئی اور فلاں اس عہدے پر پہنچ گیا۔۔۔
ان عہدوں اور اس سرمایہ کے ڈھیر سے ہم کیوں مرغوب ہوں، تمارے رتبے، تمارے عہدے اور تمارا سرمایہ تمہیں مبارک ہو۔ ہمیں ان پر ہی فخر ہے، جو آسیہ اندرابی، شبیر شاہ، یاسین ملک، مسرت عالم بٹ اور ان کے ساتھیوں کے مصائب میں خود کو تکلیف محسوس کرتے ہیں، جو مقبول بٹ، افضل گرو اور برہان وانی کے لیے اداس ہوے، جن کو کنن پوش پورہ کا بدلا لینے کی آرزوؤں ہو، جن کے دل میں بے گناہ ایک لاکھ بچوں کے مارے جانے کی ٹھیس اٹھتی ہو۔ سردست یہاں جس شخصیت کا ذکر ہے وہ ہیں
شبانہ محمود، جو آج برطانیہ میں وزیرِ داخلہ کے اہم ترین عہدے پر فائز ہوئی مگر کشمیر اور کشمیریوں سے آج بھی محبت کرتی ہیں ۔ گو کہ میڈم شبانہ برطانیہ کے شہر برمنگھم کے علاقے سمال ہیٹھ میں پیدا ہوئیں، لیکن اُن کے والد صاحب کا تعلق جموں و کشمیر کے علاقے میرپور سے تھا۔ میرپور کی یہ دوسری خاتون ہیں جو برطانوی سیاست کے اوجِ کمال تک پہنچی ۔ محترمہ سعیدہ وارثی کے والد نے سخت محنت مزدوری کرکے لکڑی کا کارخانہ لگایا تھا، جب کہ شبانہ محمود نے ابتدائی زندگی میں معاشی وسائل کی کمی کے باعث سخت دن نہیں دیکھے۔ ان کے والد تعلیم یافتہ اور پیشے کے لحاظ سے سول انجینئر تھے۔ برطانیہ جانے والوں کو یاد ہو گا کہ صنعتی شہر برمنگھم کی شامیں دھوئیں اور مزدوروں کے پسینے کی خوشبو سے بھری ہوتی ہیں۔ آج بھی کشمیری تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد کے پسینے کی خوشبو ان کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں میں شامل ہو کر فضاؤں کو معطر کرتی ہے، تو برطانیہ، انگلستان کہلاتا ہے۔ انہی گلیوں کے ایک کشمیری تارکِ وطن کے گھر میں 17
ستمبر 1980ء کو ایک بچی نے جنم لیا۔ اُس کا نام ’’شبانہ‘‘ رکھا گیا۔ یہی نام آگے چل کر نہ صرف ایک خاندان بلکہ پوری کشمیری قوم کے فخر کا عنوان بنا۔ شبانہ محمود کی کہانی صرف برمنگھم سے شروع ہو کر برمنگھم پر ختم نہیں ہوتی۔ اس کی جڑیں کہیں دور کشمیر کے ضلع میرپور کی پہاڑیوں اور وادیوں میں پیوست ہیں۔ وہی میرپور، جس نے لاکھوں بیٹے اور بیٹیاں برطانیہ کی سرزمین پر بھیجے؛ جہاں انہوں نے فیکٹریوں میں مزدوری کی، دن رات ٹیکسیاں چلائیں، چھوٹے کاروبار کیے اور ان کی اولادوں نے پڑھ لکھ کر سیاسی میدانوں میں اپنے والدین کی محنت کا نقش چھوڑا۔ تاہم لاکھوں آج بھی ایسے ہیں جو نسل در نسل مشقت میں ہی لگے ہوئے ہیں!
“ہر پھول کی قسمت میں کہاں نازِ عروساں۔۔۔
کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لیے بھی”
بچپن میں شبانہ اپنے والدین کے ساتھ طائف، سعودی عرب چلی گئیں۔ ان کا خاندان 1981ء سے 1986ء تک طائف میں رہا، جہاں اُن کے والد بطور سول انجینئر پانی صاف کرنے کے منصوبوں پر کام کرتے تھے۔ عرب کے ریگستان کی تپتی دوپہریں اور مسجدوں سے بلند ہوتی اذانیں کمسن شبانہ کی یادوں میں ایسے نقش ہوئیں کہ مشرقی روایات اور ایشیائی کلچر اس کی رگ رگ میں بس گیا۔ لیکن اس کا اصل مسکن پھر بھی برمنگھم ہی تھا، جلد ہی وہ اپنے والدین کے ساتھ واپس برمنگھم آگئیں۔ وہاں شبانہ نے
کنگ ایڈورڈ اسکول، برمنگھم سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر ایک دن وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے در و دیوار تک جا پہنچیں، وہ مقام جہاں صدیوں سے دنیا کے بڑے بڑے دماغ پروان چڑھتے رہے ہیں۔ اور جہاں دنیا کے حکمران تیار ہوتے ہیں۔ وہاں انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور انصاف کی گہری جڑوں کو سمجھا۔ لنکن ان کالج، جہاں کبھی قائداعظم محمد علی جناح بھی قانون کی تعلیم کے لیے گئے تھے، وہیں سے شبانہ نے لاء کی ڈگری مکمل کی۔ آکسفورڈ میں وہ اسٹوڈنٹس یونین کی منتخب لیڈر رہیں اور مباحثوں میں سرگرم حصہ لیتی رہیں۔
ان کے والد مقامی لیبر پارٹی کے چیئرمین تھے، لیکن شبانہ محمود کے لیے صرف یہ حوالہ ہی کافی نہیں ۔ ذہانت اور محنت نے اُسے جلد سب سے ممتاز بنا دیا۔ ڈگری کے بعد انہوں نے بطور بیریسٹر کام شروع کیا، مگر اُن کا دل صرف عدالت کی دیواروں میں قید نہ رہ سکا۔ اُنہیں اپنے والد کی سیاسی سرگرمیاں یاد تھیں، مقامی لیبر پارٹی کی میٹنگز، کمیونٹی کے مسائل اور وہ خواب جو کشمیری تارکینِ وطن اپنے ساتھ لائے تھے۔ یہی خواب شبانہ کو برطانوی پارلیمان تک لے آئے۔ 2010ء میں وہ برمنگھم لیڈی وُڈ سے پہلی مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ یہ کامیابی صرف شبانہ کی نہیں تھی بلکہ اُن ہر ماں باپ کی تھی جو کشمیر سے آکر برطانیہ کی فیکٹریوں میں دن رات کام کرتے رہے تاکہ اُن کی اگلی نسل آگے بڑھ سکے۔ پارلیمان میں شبانہ نے صرف اپنے حلقے ہی کی نہیں بلکہ پوری مسلم اور کشمیری کمیونٹی کی نمائندگی کی۔ وہ بارہا اسلاموفوبیا، امیگریشن اور کشمیر کے مسئلے پر کھل کر بولیں۔ دورہ برطانیہ کے دوران کئی لوگوں نے بتایا کہ جو لوگ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر ہونے والے مظالم اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر بولتے ہیں، آواز اٹھاتے ہیں ان میں شبانہ محمود صف اول میں ہیں۔۔
اُن کی تقریریں محض الفاظ ہی نہیں بلکہ تارکینِ وطن کے زخموں پر مرہم ہوتے ہیں ۔ وقت گزرتا گیا اور شبانہ لیبر پارٹی میں مسلسل آگے بڑھتی گئیں۔ انہوں نے متعدد شیڈو منسٹریز پر کام کیا۔ 2021ء میں وہ شیڈو چیف سیکریٹری ٹو دی ٹریژری رہیں۔ اور پھر جولائی 2024ء میں برطانوی انتخابات کے بعد وہ وزیراعظم کی کابینہ میں شامل ہوئیں۔ شبانہ محمود کو برطانوی پارلیمان میں یہ اعزاز بھی ملا کہ ملک میں پہلی خاتون لارڈ چانسلر مقرر ہوئیں۔ یہ عہدہ وزیر قانون کا ہوتا ہے تاہم برطانیہ سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا خیال رکھنا اسی منصب کہ ذمہ داری ہے۔ شبانہ محمود نے قرآن پر حلف اٹھایا اور فخریہ کہا کہ مجھے اردو اچھے سے آتی ہے۔۔ گویا دنیا کو یہ پیغام تھا کہ اسلام اور ایشیائی کلچر میرے ساتھ ہے۔۔۔آج یہ وہ تاریخی دن تھا جب شبانہ محمود کو وزارتِ داخلہ (Home Secretary) کا منصب دیا گیا، جو برطانیہ کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک ہے۔ یہ لمحہ برطانوی سیاست میں کشمیری نژاد کمیونٹی کے لیے ایک سنگِ میل تھا، ایک نشان منزل تھا۔ شبانہ کی زندگی کا یہ سفر ایک پیغام ہے: کہ تارکینِ وطن کی بیٹیاں صرف گھروں کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ وہ پارلیمان اور وزارتوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ کشمیر کی بیٹیاں صرف وادیوں کی خاموشی نہیں بلکہ لندن کے ایوانوں میں گونج بھی بن سکتی ہیں۔ شبانہ محمود کا سفرنامہ صرف ایک لڑکی کی ذاتی کامیابی نہیں، بلکہ یہ کشمیری کمیونٹی کے اجتماعی خواب کی تعبیر ہے۔ یہ کہانی اُس پل کی ہے جو میرپور کی وادیوں کو برمنگھم کی گلیوں اور پھر ویسٹ منسٹر کے ایوانوں سے جوڑتا ہے۔شبانہ
محمود کی کامیابی اس خیال کی نفی کرتی ہے کہ برطانوی معاشرے میں مسلم خواتین کے لیے سیاست کے بڑے ایوانوں تک پہنچنا دشوار ہے۔ حالاں کہ وہ اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور امیگریشن کے مسائل پر کھل کر بات کرتی ہیں۔ ان کی شہرت ایک محنتی، صاف گو اور اصولی سیاست دان کے طور پر ہے۔ بطور ایم پی وہ ہمیشہ معاشی مسائل، مہنگائی، ہیلتھ سروسز، تعلیم اور کمیونٹی کے حقوق پر آواز بلند کرتی رہیں۔ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا اور نسلی تعصب کے خلاف بھی انہوں نے مؤثر مہم چلائی۔ شبانہ محمود کی سیاسی جدوجہد صرف برطانیہ تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کی کشمیری اور مسلم برادری کے لیے فخر کا باعث ہے۔ وہ کئی بار برطانوی پارلیمان میں کشمیر کے مسئلے پر بولیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جس کے بھارت پر گہرے اثرات پڑے ۔ وہ ہمیشہ کشمیری کمیونٹی کے قریب رہیں، کشمیری نوجوانوں کی تعلیم اور برطانیہ میں ان کی سیاسی نمائندگی کے فروغ کے لیے متعدد پروگراموں میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو راغب کیا کہ مقامی آبادی کے ساتھ جڑے رہیں، سماج کی خدمت کریں اور سیاست میں متحرک ہوں۔ وہ کشمیری ڈائسپورا کے مسائل، خصوصاً امیگریشن اور ویزا پالیسیز پر ہمیشہ قانون کے مطابق مؤثر آواز بنتی رہیں۔ کشمیری نوجوان انہیں ایک رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ یہ برطانیہ میں کسی کشمیری نژاد مسلمان خاتون کے لیے سب سے بڑا حکومتی منصب ہے اور وزیراعظم کے
منصب تک پہنچنے کے بالکل قریب۔ شبانہ محمود نے اپنی آواز سے یہ ثابت کیا کہ کشمیری نژاد لوگ عالمی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ سعیدہ وارثی کی سیاست اسلاموفوبیا کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں بولنے پر اختتام پذیر ہوئی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شبانہ محمود خود کو کہاں تک بچا کر چل پاتی ہیں، یہ وقت ہی بتائے گا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت اسلاموفوبیا، اور مسئلہ کشمیر پر برطانوی پارلیمان میں شبانہ محمود ہی توانا آواز ہے، اسی لیے ہم کہتے ہیں وہ ہمارا فخر ہیں، ہمارا سرمایہ افتخار ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ اعلی عہدے پر پہنچی بلکہ اس لیے کہ اس اعلی عہدے پر پہنچ کر بھی وہ اصلیت اور حقیقت نہیں بھولی۔۔۔۔

