لاہور( نمائندہ خصوصی)ریلوے پولیس ٹریننگ اسکول والٹن میں 69ویں ریکروٹ کورس اور دوسرے سب انسپکٹر (لیگل) کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی تھے، جبکہ انسپکٹر جنرل پاکستان ریلویز پولیس محمد وصال فخر سلطان، پاکستان ریلوے اور پولیس کے سینئر افسران، تربیتی عملہ، والدین اور میڈیا نمائندگان نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے تربیت مکمل کرنے والے 875 کانسٹیبلز اور سب انسپکٹر (لیگل) افسران،
جن میں 87 خواتین بھی شامل ہیں، کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان آج سے پاکستان ریلویز پولیس کا باقاعدہ حصہ بن کر ریلوے کے قومی اثاثوں، لاکھوں مسافروں اور ریلوے تنصیبات کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے پولیس سے وابستہ ہر اہلکار کو دیانت داری، بہادری، نظم و ضبط اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینا ہوں گے تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔وفاقی وزیر نے کہا مجھے اطمینان ہے کہ آئی جی ریلویز پولیس کی قیادت میں فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عوامی خدمت کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔ آج ریلویز پولیس امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ بغیر ٹکٹ مسافروں کی روک تھام مسافروں کی معاونت ریلوے املاک کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئی جی ریلویز پولیس کی طرف پیش کئے گئے مطالبات فوری طور پر پورے کئے جائیں گے کیونکہ پاکستان ریلوے ریلویز پولیس کے بغیر اپنی کسی بھی چیز کی نہ ریلوے املاک نہ ریلوے مسافروں کی حفاظت کر سکتی ہے اور ریلویز پولیس کی قربانیاں بہت بڑی ہیں۔انسپکٹر جنرل پاکستان ریلویز پولیس نے اپنے خطاب میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی قیادت اور اصلاحاتی اقدامات
کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے وژن کے تحت ریلوے کی بحالی، مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور ادارے کی ترقی کے لیے نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے پولیس بھی اسی وژن کے مطابق مسافروں، خصوصاً خواتین، بچوں، بزرگوں اور خصوصی افراد کو محفوظ اور باعزت سفری ماحول فراہم کرنے کے لیے بھرپور خدمات انجام دے رہی ہے۔آئی جی ریلویز پولیس نے بتایا کہ وفاقی وزیر کے وژن کے مطابق رواں سال 10 ارب روپے مالیت کی ریلوے اراضی واگزار کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا، جس میں سے اب تک تقریباً 7 ارب روپے مالیت کی ریلوے اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے، جو مستقبل میں ریلوے کی آمدن میں اضافے کا باعث بنے گی۔انہوں نے پاس آؤٹ ہونے والے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ قانون کی بالادستی، ایمانداری، خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ مہارت کو اپنا شعار بنائیں، ہر مسافر کے ساتھ احترام سے پیش آئیں اور بدعنوانی، سفارش اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے ہمیشہ دور رہیں۔تقریب کے دوران آئی جی ریلویز پولیس نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے وفاقی وزیر ریلوے کے سامنے ریلوے پولیس کے فلاحی اور انتظامی امور سے متعلق مختلف مطالبات بھی پیش کیے، جن میں تنخواہوں اور الاؤنسز میں بہتری، ٹریننگ اسکول میں رہائشی سہولیات، میس، لیڈیز ہاسٹل، ایڈمن بلاک کی تعمیر اور 1,795 خالی آسامیوں پر نئی بھرتیوں کی منظوری شامل تھی۔تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر ریلوے نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسران و جوانوں کو سراہا اور تعریفی اسناددیں اور کامیاب تربیت مکمل کرنے والے تمام کانسٹیبلز اور سب انسپکٹر (لیگل) افسران کو مبارکباد دی، ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان ریلوے اور ریلوے پولیس کی استعداد کار میں مزید اضافے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

