جب بھی ہم کچھ لکھنے کا قصد کیا کرتے تو کھڑاک سے برقی جادو کی مشین (لیپ ٹاپ) کا ڈھکن کھولتے، ٹھک کر کے ’’ چلاؤ‘‘ کا بٹن گدگداتے اور بس۔۔۔۔۔۔۔ گنگناتی صدا کے ساتھ جادوئی مشین کا پردہ چاند کی طرح چھن سے روشن ہو جا تا۔چوہوں سے ہمیں یوں تو کوئی خاص انسیت نہیں ہے پر برقی چوہا (ماؤس) من کو بہت بھا تا ہے۔ اب اصلی چوہا تو چھوئے بنا ٔ ہی ہاتھ سے زن کر کے سٹک لیتا ہے۔ برقی والا انگلیوں کی پوروں سے یوں بغلگیر رہتا ہے جیسے برسوں بچھڑے یار غار آن ملے ہوں۔تو جناب ہماری داہنی ہتھیلی برقی چوہے سے باہم بغلگیر، زہن کی ہنڈیا میں سوچ کے ایندھن پر سینکتے ہوئے الفاظ وخیالات کو مشینی روشن پردے پر اتارتی رہتی۔مگر کچھ عرصہ ہوا الفاظ ہم سے گویا ناراض سے ہیں۔ آمد ہی نہ ہووے۔ نہ تو برقی جادوئی مشین کا روشن وتاباں پردہ ترغیب دیوے اور نہ برقی چوہے کی الوہی محبت انہیں زہن کے بند دریچے وا کرکے کھینچ کر باہر کو لاوے۔تب ہی ہم نے طریقہ واردات کو تبدیل کرنے کا قصد کیا۔ گو کہ اس تبادلے کے نتائج صدیوں کے آزمودہ سہی پر ہم پر بھی مہربانی ہووے گی، اس سے ہم سراسر ناواقف تھے پر اب ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنابھی تو لاحاصل ہی ٹہرا۔ تو جناب قرعہ نکلا سیاہی والے قلم اور دودھیا صفحوں والی ڈائری کے نام! اب آپ نے سوچا ہوگا کہ دھت تیرے کی، کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا (وہی والا جو ہاتھوں سے زن کرکے سٹک لیتا ہے)، اتیّ طویل اور گمبھیرتا والی تمہید بھلا کاہے کو باندھی؟ بانہہ کو ایسے آڑا ترچھا کرکے گھما کے کان کو کاہے کو پکڑا؟بھئی، ذہن کے نہاں خانوں میں برف کی مانند جامد الفاظ کو اصلی زہانت کی تپش سے پگھلانا بھی تو ضروری ٹہرا کہ نہیں!؟ چلیں آپ جناب اسے مصنوعی زہانت کے بول بالا دور حاضر میں ایک لکھاری کی داستان کی منظر کشی کے لئے خود کی اصلی زہانت کے استعمال کی جرأت سمجھ لیویں۔جمود کی ٹھوس تہہ میں گویا قلم کی نوک کے پہلے ہی وار سے دبیز دراڑ پڑگئی، الفاظ جیسے موتیوں کی صورت امڈنے لگے۔ قلم کی روشنائی نے موتیوں کو ہماری ڈائری کے صفحہ ٔ قرطاس پر یکے بعد دیگرے جڑناشروع کردیا۔ طریقہ ٔ واردات کی تبدیلی مانو رنگ لے آئی ہووے۔اور۔۔۔۔ یوں ذہن پر طاری جمود کے ’’قفل‘‘ کو اصلی زہانت، اصلی کاغذ اور اصلی قلم کی "کنجی” نے کھول ڈالا۔

