میرے خیال میں تو یہ اخبارات کے صفحہ اول کی خبر تھی۔۔۔چیختے چنگھاڑتے ٹی وی چینلز کے ہاں بھی بریکنگ نیوز تھی۔۔۔لیکن کیا کیجیے صاحب کہ اشاعتی صحافت ہو یا نشریاتی ادارے۔۔۔ان کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔۔۔ملکہ کوکین پنکی کی سنسنی خیز کہانیاں۔۔۔۔مومنہ اقبال کے چٹخارے دار قصے۔۔۔ایسے "صحافتی کلچر”میں کسی اخبار کے چیف رپورٹر اور ٹی وی چینلز کے بیورو چیف کو کیا پڑی ہے کہ وہ سید ناصر شیرازی کے گھر چوری کی بڑی واردات کو خبر کا موضوع بنا کر اپنے خوش باش قارئین اور ناظرین کو "دل فگار” کرے۔۔۔۔
محترمہ مریم نواز کی حکومت پنجاب کے” تخت لاہور” کی ناک نیچے یہ واردات والٹن کے علاقے میں عید کے دنوں ہوئی۔۔اتنی سنگین واردات کہ چوروں نے گھر میں گھر کے سوا کچھ نہیں چھوڑا۔۔۔چائے کی پتی سے چمچ تک لے گئے۔۔۔ان کا بس چلتا تو گھر بھی اکھاڑ لے جاتے۔۔۔حسن اتفاق کہ ایک چور پکڑا بھی گیا لیکن پولیس کی واردات دیکھیے کہ ایف آئی آر میں اس کا نام ہی نہیں۔۔۔شیرازی صاحب کے مطابق یہ 20لاکھ کی چوری ہے۔۔۔۔صحافیوں کی”الیکٹرانک جنریشن” کو خبر ہو کہ ناصر شیرازی صاحب برانڈ ہیں۔۔۔لاہور پریس کلب کے ممبر۔۔۔
30 سالہ صحافتی کیرئیر میں 15000 ٹی وی شوز اور 12000کالم ان کی پروفائل کو خوب صورت بناتے ہیں۔۔۔
پاکستان ٹیلی وژن پر ناصر شیرازی کا ایک اچھوتا کردار ان کو امر کر گیا اور وہ ہے نوے کی دہائی میں پی ٹی وی پر 65 کی جنگ کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کا کردار۔۔۔۔یہ لانگ پلے پی ٹی وی اور پاک فوج کے ادارے آئی ایس پی آر نے تیار کیا تھا۔۔جب جب وطن کے دفاع کا باب کھلے گا تو میجر عزیز بھٹی شہید کے ساتھ ساتھ ناصر شیرازی صاحب بھی ورق ورق نظر آئیں گے۔۔۔۔۔
ناصر شیرازی صاحب بھی عجب درویش ہیں کہ ان کو سب کچھ لٹا کر بھی صدمہ ہے تو صرف ایک اثاثے کا اور وہ اثاثہ ہے ایک اعزازی تلوار۔۔۔۔لاہور کے شہریوں نے عزیز بھٹی ڈرامے کے بعد ایک بڑی تقریب میں ناصر شیرازی کو خراج تحسین کے طور پر ایک اعزازی تلوار سے نوازا۔۔۔یہی نہیں اسی تقریب میں میجر عزیز بھٹی شہید کی بیٹی محترمہ زینت عزیز بھٹی نے شاہ جی کو گولڈ بھی پہنایا۔۔۔۔بد بخت چور وہ تلوار اور گولڈ میڈل بھی لے گئے۔۔۔میرے خیال میں عزیز بھٹی
ڈرامہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز ۔۔۔آئی جی پنجاب رائو عبدالکریم اور سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے ضرور دیکھا ہوگا اور انہیں ناصر شیرازی کا چہرہ بھی یاد ہوگا۔۔۔کیا ہی اچھا ہوتا پنجاب حکومت جناب ناصر شیرازی کو اس مشکل گھڑی میں بھی پہچانتی۔۔۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ آئی اور سی سی پی او لاہور بہ نفس نفیس شیرازی صاحب کے گھر جاتے اور ان سے اظہار افسوس کرتے۔۔۔۔لیکن کیا کیجیے صاحب کہ مریم نواز حکومت کے پاس اتنی اتنی چھوٹی باتوں کے لیے کہاں فرصت۔۔۔آئی جی صاحب صوبہ سنبھالے ہوئے ہیں اور سی سی پی او صاحب لاہور دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔ان کے پاس کہاں وقت کہ ایس ایچ او لیول کا چوری کا معمولی مقدمہ خوددیکھیں۔۔۔
درویش شاعر جناب ساغر صدیقی نے شاید کسی ایسی واردات پر ہی کہا تھا اور سچ کہا تھا:
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے


