کراچی ( نمائندہ خصوصی)وفاقی اردو یونیورسٹی: اساتذہ اور وائس چانسلر کے درمیان مذاکرات ناکام، امتحانات کا بائیکاٹ جاری رکھنے کا اعلان کر دیاوائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری اسلام آباد سے کراچی پہنچے، تاہم وہ یونیورسٹی آنے کے بجائے پہلے کراچی یونیورسٹی چلے گئے۔ اس دوران وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی بلاک میں اساتذہ تنخواہوں، پینشن، ہاؤس سیلنگ اور میڈیکل کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔وائس چانسلر ڈھائی بجے (2:30) انتظامی بلاک پہنچے۔ بعد ازاں، شعبہ ارضیات (جیولوجی) میں دوپہر 3:00 سے شام 5:00 بجے تک وائس چانسلر اور اساتذہ کے نمائندوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔اساتذہ کے مطابق، مذاکرات کے دوران وائس چانسلر کا رویہ ہٹ
دھرمی پر مبنی رہا اور وہ ملازمین کو دھمکیاں دیتے رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ تنخواہ، ہاؤس سیلنگ، پینشن، بقایاجات اور میڈیکل کی بحالی کے پوزیشن میں نہیں ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت قرشی انڈسٹریز کے خیراتی فنڈز سے اساتذہ اور ملازمین کو ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب وائس چانسلر کا مؤقف ہے کہ وہ جلد امتحانات منعقد کروا کر فیسوں کی مد میں فنڈز جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اساتذہ کے نمائندوں نے وائس چانسلر کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں خیراتی فنڈز کا استعمال یونیورسٹی کے وقار مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اکیڈمک کونسل کے فیصلے اور اکیڈمک کیلنڈر کے مطابق یونیورسٹی میں تدریسی دورانیہ ابھی مکمل ہی نہیں ہوا، اس لیے امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر طالب علموں کو بھی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ یونیورسٹی کی بیشتر عمارتیں مخدوش ہوچکی ہیں۔ واش رومز ناقابل استعمال ہیں۔ پینے کے صاف پانی کا اہتمام نہیں ہے۔ تدریسی دورانیہ مکمل کئے بغیر امتحانات بالجبر لئے جارہے ہیں۔”تنخواہیں، پینشن، ہاؤس سیلنگ، بقایاجات اور میڈیکل اساتذہ کا بنیادی آئینی حق ہے اور ان کی بروقت ادائیگی وائس چانسلر اور انتظامیہ کا اولین فریضہ ہے، جس کی انجام دہی میں وائس چانسلر بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔اساتذہ نے وائس چانسلر پر سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے سولرائزیشن
کے لیے ملنے والی 11 کروڑ روپے کی خطیر فنڈنگ کو ضائع کیا گیا، جس کی وجہ سے کراچی کیمپسز میں اب بھی بجلی کے بھاری بل ادا کیے جا رہے ہیں اور بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ قائم ہے۔سینیٹ کی ہدایات کے برعکس قرشی انڈسٹریز کو یونیورسٹی کے تینوں کیمپسز میں جگہیں دی گئی ہیں، جن کے بجلی کے اخراجات بھی یونیورسٹی اپنے فنڈز سے ادا کر رہی ہے۔اساتذہ نے صدرِ مملکت و چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی آصف علی زرداری، پرو چانسلر و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ قاضی عبدالمقتدر سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی سینیٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے دورِ اقتدار کا کڑا احتساب کیا جائے۔وائس چانسلر کے خلاف ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈاکٹر رضا چوہان کی مرتب کردہ تحقیقاتی رپورٹ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائےاساتذہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے واجبات ادا نہیں کیے جاتے، امتحانات کا بائیکاٹ اور احتجاجی تحریک جاری رہے گی ۔2 ماہ کی بقایا تنخواہیں جاری کی جائیں۔ 26 ماہ سے بند ہاؤس سیلنگ فوراً ادا کی جائے۔ میڈیکل الاؤنس اور 4 ماہ کی زیرِ التوا پینشن بحال کی جائے۔ ریٹائرڈ ملازمین کے تمام بعد از ریٹائرمنٹ بقایاجات فوری ادا کیے جائیں۔دریں اثناء وفاقی اردو یونیورسٹی میں جاری شدید مالی اور انتظامی بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ اساتذہ اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے درمیان ہونے والے مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں، جس کے بعد اساتذہ نے امتحانات کا بائیکاٹ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ وائس چانسلر نے تنخواہ، ہاؤس سیلنگ، پینشن، بقایاجات، میڈیکل کی فراہمی اور مکمل سلیکشن بورڈ کے انعقاد سے صاف انکار کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری اسلام آباد سے کراچی پہنچے، تاہم وہ یونیورسٹی آنے کے بجائے پہلے کراچی یونیورسٹی چلے گئے۔ اس دوران وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی بلاک میں اساتذہ تنخواہوں، پینشن، ہاؤس سیلنگ اور میڈیکل کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ وائس چانسلر ڈھائی
بجے (2:30) انتظامی بلاک پہنچے۔ بعد ازاں، شعبہ ارضیات (جیولوجی) میں دوپہر 3:00 سے شام 5:00 بجے تک وائس چانسلر اور اساتذہ کے نمائندوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔اساتذہ کے مطابق، مذاکرات کے دوران وائس چانسلر کا رویہ ہٹ دھرمی پر مبنی رہا اور وہ ملازمین کو دھمکیاں دیتے رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ تنخواہ، ہاؤس سیلنگ، پینشن، بقایاجات اور میڈیکل کی بحالی کے پوزیشن میں نہیں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت قرشی انڈسٹریز کے خیراتی فنڈز سے اساتذہ اور ملازمین کو ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب وائس چانسلر کا مؤقف ہے کہ وہ جلد امتحانات منعقد کروا کر فیسوں کی مد میں فنڈز جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اساتذہ کے نمائندوں نے وائس چانسلر کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں خیراتی فنڈز کا استعمال یونیورسٹی کے وقار مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اکیڈمک کونسل کے فیصلے اور اکیڈمک کیلنڈر کے مطابق یونیورسٹی میں تدریسی دورانیہ ابھی مکمل ہی نہیں ہوا، اس لیے امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر طالب علموں کو بھی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ یونیورسٹی کی بیشتر عمارتیں مخدوش ہوچکی ہیں۔ واش رومز ناقابل استعمال ہیں۔ پینے کے صاف پانی کا اہتمام نہیں ہے۔ تدریسی دورانیہ مکمل کئے بغیر امتحانات بالجبر لئے جارہے ہیں۔
"تنخواہیں، پینشن، ہاؤس سیلنگ، بقایاجات اور میڈیکل اساتذہ کا بنیادی آئینی حق ہے اور ان کی بروقت ادائیگی وائس چانسلر اور انتظامیہ کا اولین فریضہ ہے، جس کی انجام دہی میں وائس چانسلر بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
اساتذہ نے وائس چانسلر پر سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے سولرائزیشن کے لیے ملنے والی 11 کروڑ روپے کی خطیر فنڈنگ کو ضائع کیا گیا، جس کی وجہ سے کراچی کیمپسز میں اب بھی بجلی کے بھاری بل ادا کیے جا رہے ہیں اور بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ قائم ہے۔سینیٹ کی ہدایات کے برعکس قرشی انڈسٹریز کو یونیورسٹی کے تینوں کیمپسز میں جگہیں دی گئی ہیں، جن کے بجلی کے اخراجات بھی یونیورسٹی اپنے فنڈز سے ادا کر رہی ہے۔اساتذہ نے صدرِ مملکت و چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی آصف علی زرداری، پرو چانسلر و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ قاضی عبدالمقتدر سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:یونیورسٹی سینیٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے دورِ اقتدار کا کڑا احتساب کیا جائے۔وائس چانسلر کے خلاف ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈاکٹر رضا چوہان کی مرتب کردہ تحقیقاتی رپورٹ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائےاساتذہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے واجبات ادا نہیں کیے جاتے، امتحانات کا بائیکاٹ اور احتجاجی تحریک جاری رہے گی:2 ماہ کی بقایا تنخواہیں جاری کی جائیں۔26 ماہ سے بند ہاؤس سیلنگ فوراً ادا کی جائے۔میڈیکل الاؤنس اور 4 ماہ کی زیرِ التوا پینشن بحال کی جائے۔
ریٹائرڈ ملازمین کے تمام بعد از ریٹائرمنٹ بقایاجات فوری ادا کیے جائیں

