کراچی کے بارے میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہاں صرف شور، ہجوم، سیاست اور مسائل کی کہانیاں جنم لیتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شہر آج بھی ادب، ثقافت، موسیقی اور محبت کرنے والوں سے آباد ہے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے معروف شاعرہ ثبین سیف نے 2 جون کو اپنے ڈی ایچ اے میں واقع گھر پر ایک ایسی ادبی و ثقافتی تقریب کی میزبانی کی جو بظاہر ایک نجی محفل تھی، لیکن اپنے رنگ، آہنگ اور شرکاء کے اعتبار سے شہر کے ادبی منظرنامے کا ایک اہم حوالہ بن گئی۔
یہ تقریب "ساکنانِ شہرِ قائد” کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے عالمی امن مشاعرے کی شاندار کامیابی پر محمود احمد خان کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی۔ تقریب میں مظہر ہانی، حسن امام صدیقی، یاسر سعید صدیقی، مقبول زیدی، افتخار ملک ایڈووکیٹ، ریحانہ روحی، تعبیر آگاہی، عارف پرویز، جاوید صدیقی، اقبال لطیف، عقیل عباس جعفری، رومی شمائل، اختر سعدی (منظوم)، شرمین سانول اور راقم سمیت متعدد ادبی و سماجی شخصیات نے، محمود احمد خان کی اردو ادب، بالخصوص کراچی کی ادبی سرگرمیوں اور شعر و سخن کی ترویج کے لیے خدمات کو سراہا۔ اپنے اعزاز
میں منعقدہ تقریب پر شکریہ ادا کرتے ہوئے محمود احمد خان نے کہا کہ انہیں یہ ذمہ داری اظہر عباس ہاشمی اور سید صفوان اللہ کی جانب سے سونپی گئی تھی، جسے وہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کی سرپرستی اور مشاورت میں نبھا رہے ہیں۔ ان کے بقول عالمی مشاعرے کے انعقاد سے متعلق کوئی اہم فیصلہ ایسا نہیں ہوتا جو پیرزادہ صاحب کی رہنمائی کے بغیر کیا گیا ہو۔
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی میں ادب کے جتنے بھی فعال حلقے موجود ہیں، ان میں ثبین سیف سب سے زیادہ متحرک اور سرگرم شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثبین سیف نہ صرف ادبی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہیں بلکہ نئے لوگوں کو بھی ادب کے قافلے میں شامل کر رہی ہیں۔ انہوں نے "ساکنانِ شہرِ قائد” کے عالمی مشاعرے کو اردو ادب کی ایک بڑی اور کامیاب روایت قرار دیتے ہوئے محمود احمد خان کی تنظیمی صلاحیتوں اور محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس سے قبل تقریب کی میزبان ثبین سیف، جو نظامت کے فرائض بھی انجام دے رہی تھیں، نے ہر مہمان اور شاعرات گل افشاں ، فریحہ نقوی، سحر علی، ناہد عزمی، تاجور شکیل عشرت حبیب، اور دیگر کا نام لے کر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کی سرپرستی اور محمود احمد خان کی کاوشوں سے منعقد ہونے والا عالمی امن مشاعرہ کراچی کے ادبی افق پر ایک یادگار اضافہ ہے اور اہلِ کراچی اس کامیابی پر بجا طور پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
تقریب کا پہلا باقاعدہ مرحلہ عالمی امن مشاعرے کی تاریخی کامیابی کی خوشی میں کیک کاٹنے کی تقریب تھی۔ محمود احمد خان، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی ثبین سیف اور دیگر معزز مہمانوں نے اس موقع پر کیک کاٹا۔ بظاہر یہ ایک رسمی تقریب تھی، مگر درحقیقت اس کے پس منظر میں ان تمام ادیبوں، شاعروں اور ثقافتی کارکنوں کی اجتماعی محنت کا اعتراف پوشیدہ تھا جنہوں نے ادب کو امن، محبت اور رواداری کے پیغام کا وسیلہ بنایا۔
اس کے بعد تقریب کا دوسرا خوش رنگ منظر سامنے آیا جب ممبر بارگاہِ ادب ٹیم مینجمنٹ اور سانول سنگت کی چیئرپرسن محترمہ شرمین سانول کی سالگرہ منائی گئی۔ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی اور محمود احمد خان کی موجودگی میں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ جب کہ ثبین سیف نے ترنم میں سالگرہ کا گانا گا کر شرمین سانول کو مبارکباد دی، ادبی حلقوں میں ایسی تقریبات محض رسمی نہیں ہوتیں بلکہ ان شخصیات کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی بنتی ہیں جو ادب، ثقافت اور سماجی روابط کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ شرمین سانول بھی انہی فعال اور ادب دوست شخصیات میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔
شام کا سب سے دلکش حصہ ساڑھے پانچ بجے سے سات بجے تک جاری رہنے والی محفلِ غزل تھی، جس میں معروف گلوکار جمال اکبر نے اپنی سحر انگیز آواز کا جادو جگایا۔ غزل برصغیر کی تہذیبی روح ہے۔ جب شعر اور موسیقی ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں تو محفل محض تفریح نہیں رہتی بلکہ احساس، فکر اور جمالیات کا ایک منفرد تجربہ بن جاتی ہے۔ اس شام بھی ایسا ہی ہوا۔ شاعروں کی موجودگی میں غزل سرائی نے محفل کو ایک ایسی ادبی رفعت عطا کی جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ جمال اکبر نے معروف شاعرہ ثبین سیف کی غزل کو کمپوز کیا اور بہترین انداز میں سامعین کے سامنے پیش کر کے داد تحسین وصول کی۔
نمازِ مغرب کے وقفے کے بعد روح کی غذا کے ساتھ جسم کی غذا کا بھی اہتمام کیا گیا۔ عشائیے نے تقریب کو روایتی مشرقی مہمان نوازی کا رنگ عطا کیا۔ ہمارے معاشرے میں دسترخوان صرف کھانے کی جگہ نہیں ہوتا بلکہ دلوں کو قریب لانے، خیالات کے تبادلے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے بہترین ادبی گفتگو اکثر مشاعروں کے اسٹیج سے زیادہ عشائیوں کی محفلوں میں جنم لیتی ہے۔ ثبین سیف کا دسترخوان حسبِ روایت وسیع اور پرتکلف تھا، مگر اس سے زیادہ متاثر کن بات یہ تھی کہ وہ خود ہر مہمان کی خاطر داری میں مصروف رہیں اور ایک ایک فرد تک اپنی محبت اور توجہ پہنچاتی رہیں۔
رات آٹھ بجے اختتام پذیر ہونے والی اس تقریب میں کراچی کے نامور ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ یہ اجتماع اس حقیقت کی یاد دہانی بھی تھا کہ ادب صرف کتابوں اور رسائل کے صفحات تک محدود نہیں بلکہ انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے والا ایک زندہ، متحرک اور مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ثبین سیف کی میزبانی میں منعقد ہونے والی یہ محفل دراصل کراچی کے اس روشن، مہذب اور تخلیقی
چہرے کی نمائندگی کرتی ہے جو تمام تر مشکلات کے باوجود آج بھی زندہ ہے۔ ایسے اجتماعات شہر کی ثقافتی زندگی کو توانائی بخشتے ہیں، اہلِ قلم کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں اور نئی نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ادب، موسیقی اور محبت آج بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ ایسی شامیں ختم تو ہو جاتی ہیں، مگر ان کی خوشبو دیر تک یادوں میں بسی رہتی ہے۔ ثبین سیف کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اس محفل کا اثر بھی دبستان کراچی پر دیر تک رہے گا۔








