لاہور( نمائندہ خصوصی):آئی سی سی کے ترجمان کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے احمد آباد، بھارت میں منعقدہ بورڈ اجلاسوں کے اختتام پر کرکٹ کے عالمی نظام کو مضبوط بنانے، خواتین کی کرکٹ کے فروغ، عالمی مقابلوں کے ڈھانچے میں بہتری اور کھیل میں جدت لانے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔آئی سی سی بورڈ نے چیف ایگزیکٹوز کمیٹی کی مختلف سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے متوقع خراب روشنی کی صورت میں کھیل کے زیادہ سے زیادہ انعقاد کے لیے دونوں ٹیموں کی رضامندی سے ٹیسٹ میچوں میں گلابی گیند کے استعمال کا ٹرائل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ خراب روشنی کے باعث کھیل کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے میچ آفیشلز اور اسٹیڈیمز میں روشنی کی جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کی جائے گی، جس کے لیے آئی سی سی اور ایم سی سی
مشترکہ طور پر تحقیق و ترقی کے منصوبوں کی مالی معاونت کریں گے۔بورڈ نے میچ آفیشلز کو غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کی رپورٹنگ کے وقت ہاک آئی ڈیٹا تک رسائی دینے کی بھی منظوری دی۔ کھیل کے قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے ہیڈ کوچ یا ان کے نامزد نمائندے کو ڈرنکس بریک کے دوران کھلاڑیوں سے مشاورت کی اجازت دی گئی ہے، ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں 15 منٹ کا وقفہ لازمی قرار دیا گیا ہے اور بلے بازوں کو کھیل دوبارہ شروع ہونے پر فوری طور پر تیار رہنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ لیگ سائیڈ وائیڈز کے آزمائشی قانون کو مستقل طور پر نافذ کرنے اور رواں سال یکم اکتوبر سے ایم سی سی کے باقی تمام نئے قوانین کو اپنانے کی بھی منظوری دی گئی۔خواتین کی کرکٹ کے حوالے سے آئی سی سی ویمنز چیمپئنز ٹرافی 2027 کی تاریخیں تبدیل کر دی گئی ہیں اور اب یہ ایونٹ جون۔جولائی کے بجائے 14 سے 28 فروری 2027 تک منعقد ہوگا۔ ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی 2026 کو بطور پائلٹ منصوبہ 10 ٹیموں کے ٹورنامنٹ کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس میں پانچ فل ممبر اور پانچ ایسوسی ایٹ ممالک شریک ہوں گے۔آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کے لیے بھی کوالیفکیشن نظام کی منظوری دی گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی میزبانی میں ہونے والے اس ایونٹ میں بھارت کے میچز غیر جانبدار مقام پر کھیلے جائیں گے۔ 12 ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ میں 10 ٹیمیں خودکار طور پر کوالیفائی کریں گی جبکہ باقی دو ٹیموں کا فیصلہ عالمی کوالیفائر کے ذریعے ہوگا۔ایسوسی ایٹ ممالک کے حوالے سے بورڈ نے آئندہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ایک عالمی کوالیفائر متعارف کرانے کی اصولی منظوری دی ہے، جس کے تحت 16 ٹیموں پر مشتمل کوالیفائنگ نظام تشکیل دیا جائے گا۔آئی سی سی بورڈ نے سنگین انتظامی اور گورننس خلاف ورزیوں کے باعث کرکٹ کینیڈا کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی ہے۔ تاہم کینیڈین قومی ٹیموں کو آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کی اجازت برقرار رہے گی اور قومی ٹیموں کے پروگرامز کے لیے مخصوص نگرانی کے تحت آئی سی سی فنڈنگ بھی جاری رکھی جائے گی۔بنگلہ دیش میں موجودہ صورتحال اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے آئی سی سی کے دو بورڈ نمائندے جلد دورہ کریں گے، جبکہ سری لنکا میں بھی آئی سی سی حکام متعلقہ فریقین سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔فرنچائز کرکٹ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی سی سی بورڈ نے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بین الاقوامی کرکٹ کیلنڈر اور فرنچائز لیگز کے درمیان ہم آہنگی کا جائزہ لے گی۔آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے کہا کہ احمد آباد میں ہونے والی بات چیت نے عالمی سطح پر کرکٹ کے فروغ، بہتر طرز حکمرانی اور شفاف انتظامی نظام کے لیے آئی سی سی کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ان کے مطابق خواتین کی کرکٹ، ابھرتی ہوئی ٹیموں اور فرنچائز مقابلوں سے متعلق کیے گئے فیصلے کرکٹ کو دنیا بھر کے شائقین کے لیے مزید منصفانہ، مسابقتی اور دلچسپ بنائیں گے۔

