اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہےتمباکو کی مصنوعات صحت اور معیشت کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہیں، موجودہ اور آنے والی نسلوں کو تمباکو کی مصنوعات کے نقصانات سے بچانا اجتماعی ذمہ داری ہے،نوجوانوں کو نشے کی لت لگانے والوں اور موت کے سوداگروں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کےلئے قانون سازی اور موثر نفاذ ضروری ہے ۔ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی کے موقع پر ہفتہ کو جاری پیغام میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ تمباکو کے صحت کے لیے نقصانات کی طرف پہلی بار توجہ مبذول کرانے والی ابتدائی تحریروں کو اب لگ بھگ چار سو سال گزر چکے ہیں۔کئی دہائیوں سے سائنسی اور طبی برادری میں اس بات پر پختہ اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ تمباکو کی مصنوعات صحت اور معیشت کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر تمباکو
کے استعمال کو کم کرنے کے لیے قوانین اور آگاہی کے ذریعے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس کے باوجود، یہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوامی صحت اور معاشی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق تمباکو دنیا بھر میں ہر سال 70 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے، جس میں سیکنڈ ہینڈ اسموک کا شکار ہونے والے تقریباً 16 لاکھ افراد کی اموات بھی شامل ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہیہ اعداد و شمار ہمیں عوامی صحت کے اس بڑے چیلنج کی سنگینی پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں جو لاکھوں لوگوں اور خاندانوں کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔بچے اور نوجوان اس کا خاص طور پر شکار ہو رہے ہیں۔ تمباکو اور نکوٹین کی صنعت نئی نسلوں کو ایسی بدلتی ہوئی مصنوعات اور مارکیٹنگ کے طریقوں کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے جو لت لگانے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ کم عمری میں نکوٹین کا استعمال عمر بھر کی وابستگی اور صحت کے منفی نتائج کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ جدید ترین تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سطح پر اور پاکستان میں سگریٹ، ای-سگریٹ، ویپنگ ڈیوائسز، نکوٹین پاؤچز اور دیگر نکوٹین مصنوعات کا استعمال عوامی صحت کے بڑھتے ہوئے خدشات کا باعث بن رہا ہے۔اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ نوجوانوں میں کثیر متبادل منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات دیگر نقصان دہ اشیاء کے ساتھ استعمال کی جا رہی ہیں، جو نوجوانوں اور معاشرے کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ اس کے لیے مضبوط آگاہی، قوانین اور روک تھام کی کوششیں ناگزیر ہیں۔کم عمری میں نکوٹین کا استعمال عمر بھر کی محتاجی، صحت کے منفی نتائج اور مستقبل کے محدود مواقع کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ ہر طرف پھیلے ہوئے سیکنڈ ہینڈ اسموک کے باعث بچے دمہ، نمونیا، کان کے انفیکشن، پیدائشی کم وزن اور اچانک موت جیسے خطرات کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا اثر صرف صحت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ خاندانوں اور نظامِ صحت پر بھی ایک بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔تمباکو کی مصنوعات غیر متعدی امراض جیسے کہ دل کی بیماریاں، کینسر اور سانس کی دائمی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ یہ بیماریاں افراد اور خاندانوں کو ذاتی سطح پر شدید متاثر کرتی ہیں اور ہمارے ہسپتالوں، کلینکس اور عوامی صحت کی خدمات پر مسلسل دباؤ ڈالتی ہیں۔بہت سے گھرانوں کے لیے یہ اثر محض کتابی نہیں ہے۔ کمانے والے والدین کا بیمار ہونا، ہسپتال کے بار بار چکر لگانا، طویل مدتی علاج کے اخراجات اور کمانے کی صلاحیت میں کمی، پہلے سے ہی محدود گھریلو وسائل کو تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ بچوں کے اسکول سے غیر حاضر رہنے سے لے کر معمول کے اخراجات کو پورا کرنے میں خاندانوں کو درپیش مشکلات تک یہ دباؤ روزمرہ کی زندگی میں محسوس کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے مجھے آپ کو یہ بتانا ہے کہ یہ دن ہمیں تمباکو کی مصنوعات کے نقصانات سے موجودہ اور آنے والی نسلوں کو بچانے کی ہماری مشترکہ ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ، ہماری قومی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں ایسے قوانین بنائیں اور نفاذ کے مؤثر میکانزم تشکیل دیں تاکہ ہمارے لوگوں اور مستقبل کی نسلوں کا تحفظ کیا جا سکے اور ‘موت کے سوداگروں’ کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پارلیمان اور حکومت کے علاوہ، والدین، اساتذہ، فنکار، شاعر، گلوکار، موسیقار، اداکار، ڈرامہ نگار، ہیلتھ کیئر پروفیشنلز اور کمیونٹی لیڈرز سب کا آگاہی پیدا کرنے، تمباکو کی مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنے اور اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے ایک سازگار ماحول (ایکوسسٹم) بنانے میں اہم کردار ہے۔ گھریلو اور سماجی سطح پر تبدیلی عوامی صحت میں قومی ترقی کے لیے معنی خیز کردار ادا کر سکتی ہے۔

