اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):جموں وکشمیرمیں قابض بھارت کی مسلمانوں کےخلاف مذہبی تعصب پرمبنی کارروائیاں عروج پر ہیں ، مذہبی تعصب میں مبتلا مودی سرکار کٹھ پتلی اداروں کے ذریعے مدارس اوردینی درسگاہوں کونشانہ بنانے لگی۔بھارتی نیوزایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) نےسرینگراورشوپیاں میں تین مختلف مقامات پرچھاپےمارے۔این آئی اے نے شوپیاں میں جامعہ سراج العلوم پرچھاپا مارا جسے بھارتی حکومت پہلے ہی یکطرفہ طورپر غیرقانونی قراردے چکی ہے۔پریس ٹرسٹ آف انڈیا کےمطابق این آئی اے
کے اہلکاروں نےشوپیاں کےعلاقےامام صاحب میں واقع ایک سکول کی بھی تلاشی لی۔ مرکزی ایجنسی کی ایک اور ٹیم نے مولو چترگام میں جماعت اسلامی کے سابق سربراہ شہزادہ اورنگزیب کی رہائش گاہ پرچھاپہ مارا۔پی ٹی آئی کے مطابق این آئی اے نے سرینگر کے لال بازار علاقے میں جامعہ البنات پرچھاپہ مارکر خواتین کوہراساں کیا۔ماہرین کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں مسلم دینی وتعلیمی اداروں پر این آئی اے کےچھاپے فاشسٹ مودی سرکار کے مسلم دشمن اور جابرانہ ایجنڈے کا واضح ثبوت ہے،بھارت طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبانے کی
کوشش کر رہا ہے جبکہ بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھار ت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں۔
