اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر، امریکا، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تصفیے کے لیے جاری کوششوں میں مرکزی سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے۔اتوار کو جاری ایک بیان میں انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ عملی سفارت کاری اس وقت زیر بحث مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو)کے کامیاب نتیجے تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے کو سنجیدہ سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس کا مقصد کشیدگی کو ختم کرنا اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان دیرپا روابط کے لیے فریم ورک قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اختلافات کو ختم کرنے، دونوں دارالحکومتوں کے درمیان پیغامات پہنچانے اور بامعنی مذاکرات کے لیے ضروری اعتماد پیدا کرنے کے لیے
انتھک محنت کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار رابطہ کار سے آگے کا ہے جس سے دونوں فریقوں کو مشترکہ بنیاد کی نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے اور ایسے وقت میں لچک کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جب سخت پوزیشنیں پورے عمل کو پٹری سے اتار سکتی ہیں۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً پانچ دہائیوں سے موجود مخالفانہ تعلقات کے پیش نظر اس کام کو غیر معمولی طور پر چیلنجنگ قرار دیا۔سفیر مسعود خان نے کہا کہ اگرچہ دونوں طرف سے عوامی بیانات میں اکثر دھمکیاں اور انتباہات شامل ہوتے ہیں تاہم انہیں مذاکرات کے وسیع تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مذاکراتی انداز کے حصے کے طور پر اکثر مفاہمت کے پیغامات کو مضبوط بیان بازی کے ساتھ جوڑتے ہیں جب کہ ایران بھی اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔\گفت و شنید کے تحت اہم مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تسلسل سب سے زیادہ حساس چیلنجز میں سے ایک ہے۔ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور اعتماد سازی کے دیگر اقدامات کی توقع رکھتا ہے جبکہ امریکا آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کے حوالے سے یقین دہانی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ٹھوس بات چیت تب ہی متوقع ہے جب کشیدگی میں کمی کے ابتدائی معاہدے طے پا جائیں گے۔سابق سفیر نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی، ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کرنے، میری ٹائم سکیورٹی اور جنگ کے بعد کے علاقائی استحکام سے متعلق سوالات زیر بحث ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی پائیدار معاہدے کے ساتھ ایک وسیع تر علاقائی سلامتی کا فریم ورک ہونا چاہیے جو خلیجی ریاستوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور پورے خطے میں اقتصادی استحکام کو بحال کرنے کے قابل ہو۔پاکستان کی سفارتی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر مسعود خان نے کہا کہ اسلام آباد نے دہائیوں کی دشمنی اور بداعتمادی کے باوجود کامیابی سے دونوں فریقوں کو براہ راست رابطے کے لیے اکٹھا کیا ۔انہوں نے اس کامیابی کو اہم سفارتی سنگ میل قرار د یتے ہوئے کہاکہ پاکستان مذاکراتی تصفیے کی حمایت کے لیے چین اور دیگر اہم سٹیک ہولڈرز سمیت علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہتا ہے۔خطے میں متعدد کرداروں اور مسابقتی مفادات کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سفیر مسعود خان نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مستقل سفارت کاری جسے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے، بالآخرکامیاب اور نتیجہ خیز ثابت ہو گی اور ایک وسیع علاقائی تنازعے کو روکنے میں مدد کرے گی۔
