اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع شوپیاں میں پیش آنے والے المناک سانحے کو آج سترہ برس مکمل ہوگئے، تاہم کشمیری خواتین آسیہ اور نیلوفر کے اہل خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ 29 مئی 2009 کو دونوں خواتین کی پراسرار حالات میں لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جبکہ کشمیری عوام اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس واقعے کو بھارتی اہلکاروں کے ہاتھوں مبینہ عصمت دری اور قتل قرار دیا تھا۔ شوپیاں سانحہ نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ کشمیری عوام کے مطابق آسیہ اور نیلوفر کی قربانی
کشمیری جدوجہد آزادی کی ایک علامت بن چکی ہے اور یہ واقعہ مقبوضہ وادی میں خواتین کے خلاف مبینہ ریاستی تشدد کی ایک دردناک مثال تصور کیا جاتا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 1989 سے اب تک گیارہ ہزار سے زائد کشمیری خواتین بھارتی فورسز کے ہاتھوں جنسی تشدد کا نشانہ بن چکی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی قوانین اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شوپیاں واقعے پر بھارتی تحقیقاتی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے آزادانہ اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق شوپیاں سانحہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے جبکہ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ آسیہ اور نیلوفر کو انصاف کی فراہمی پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ کشمیری عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے خلاف مبینہ مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
