اقوام متحدہ ۔(نمائندہ خصوصی):اقوام متحدہ نے اسرائیل کو جنگ کے دوران جنسی تشدد میں ملوث ممالک کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس حوالہ سے باقاعدہ رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی گزشتہ برس کے لیے سالانہ رپورٹ میں اسرائیل اور روس کو خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں ان فریقوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے، جن پر جنگ کے دوران مخالفین کے ساتھ زیادتی یا جنسی تشدد کے دیگر واقعات میں ملوث ہونے کے قابل اعتبار الزامات ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے اپنی وارننگ میں کہا تھا کہ انہیں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اہلکاروں
کی جانب سے مختلف جیلوں، حراستی مراکز اور ایک فوجی اڈے پر مبینہ زیادتیوں کی قابل اعتماد اطلاعات پر شدید تشویش ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے، جس کا حقائق اور زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔دریں اثنا اسرائیلی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتو نیو گوتریش کے دفتر سے تمام تعلقات ختم کر رہا ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انتو نیو گوتریش نے دیانت داری، غیر جانبداری اور پیشہ وارانہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے اسرائیل نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے سیکرٹری جنرل کی تقرری تک موجودہ دفتر سے تمام روابط منقطع رکھے جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے اس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ سیکرٹری جنرل کا دروازہ اسرائیلی نمائندوں سمیت تمام رکن ممالک کے لیے کھلا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس اسرائیل کو جاری کیا گیا انتباہ ان شواہد کی بنیاد پر تھا جن میں بعض اقسام کے جنسی تشدد کے مسلسل واقعات پر سنگین خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

