• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کا علی بابا ہیڈ کوارٹرز کا دورہ ،پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مئی 24, 2026
in پاکستان, چین
0
وزیراعظم شہباز شریف کا علی بابا ہیڈ کوارٹرز کا دورہ ،پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ہانگژو۔(نمائندہ خصوصی):پاکستان اور چین کے علی بابا گروپ کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت ،مصنوعی ذہانت صحت عامہ، ٹیلی میڈیسن ،فن ٹیک ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج کا دن پاکستان اور چین کے درمیان گہری دوستی کا ایک نادر لمحہ ہے،ہم نے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے ،ٹائم فریم طے کر کے اگلے 10 سال کا مکمل پروگرام تیار کریں گے،دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار چین کی مضبوط حمایت اور دیگر دوست ممالک کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا،ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیش اہم سنگ میل ہے، زرعی شعبہ ہماری معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،پاکستان میں مستحق افراد کو شفاف انداز میں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے خطیر رقم تقسیم کی گئی ہے۔ اتوار کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے علی بابا ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ،کمپنی کے چیئرمین جووسائی نے وزیراعظم کا استقبال کیا اور انہیں کمپنی کے معاملات اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر پاکستان کے سینئر وزراء اور اعلیٰ حکام کے علاوہ علی بابا گروپ کے اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔چیئرمین جووسائی نے خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی، تکنیکی جدت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کے شعبوں میں پاکستان کی وسیع صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، ہنر کی فراہمی اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے بااختیار بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہبازشریف اور چیئرمین جوو سائی نے علی بابا گروپ اور پاکستان کے سرکاری و نجی شعبوں کے اداروں کے درمیان متعدد سٹریٹجک مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط اور تبادلے کی تقریب میں شرکت کی، ان معاہدوں کا مقصد علی بابا گروپ کے اشتراک سے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی ترقی کو تیز کرنا ہے۔وزیراعظم کی خصوصی کاوش پر چیئرمین جووسائی نے حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان ایک جامع سٹریٹجک فریم ورک معاہدے پر دستخط پر اتفاق کیا جس پر بعد ازاں دستخط ہوئے.یہ فریم ورک مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سلوشنز، ڈیجیٹل تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ، فن ٹیک اور صحت کے شعبے میں جدت پر مبنی اقدامات کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے لیے علی بابا گروپ کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس معاہدے کو پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرے لیے یہ خوشی اور بڑے اعزاز کی بات ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک علی بابا کے ہیڈ کوارٹرز میں موجود ہوں جو آئی ٹی، اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین اپنے سفارتی اور دوستانہ تعلقات کے 75 ویں سال کا جشن منا رہے ہیں،دونوں ممالک کی قیادت نے پہلے دن سے ہی ہاتھ ملا کر منفرد دوستی کو فروغ دیا ہے اس دوستی کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی،صدر شی جن پنگ کی متحرک قیادت میں ہم باہمی تعلقات کو نسل در نسل مزید مضبوط بنانے کے لئے بھرپور محنت کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار چین کی مضبوط حمایت اور دیگر تمام قابل قدر دوست ممالک کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا،صدر شی جن پنگ کا خطے میں امن کے لیے چار نکاتی ایجنڈا قابل ستائش ہے اور پاکستان اس کی مکمل حمایت کرتا ہے،امید ہے کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہمیں اس خطے میں بے شمار مواقع میسر آئیں گے اور تمام متعلقہ فریقوں کے لیے ترقی، خوشحالی اور آگے بڑھنے کے نئے دروازے کھلیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کے ساتھ علی بابا کے شاندار تعاون اور پاکستان کی نجی کمپنیوں کے ساتھ علی بابا کے براہ راست روابط پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آئیے مل کر کوئی بڑا اور اہم کام انجام دیں،اس اشتراک کے ذریعے جو کام کیا جا رہا ہے اور جو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں وہ صحت، تعلیم اور مالیاتی لین دین کے شعبوں میں انتہائی اہم ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برس انہوں نے فیصلہ کیا کہ مستحق لوگوں کو براہ راست گھر بیٹھے ان کے ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں پیسے دیے جائیں، 2024-25 کے ماہ رمضان میں کل رقم تقریبا 20 ارب روپے تھی اور ہم ڈائریکٹ سسٹم کے ذریعے تقریبا 16 ارب روپے تقسیم کرنے میں کامیاب ہوئے،رواں سال ہم تقریبا 75 فیصد لین دین مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ سب تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے ذریعے کیا گیا تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ رقوم واقعی درست ڈیجیٹل والٹس تک پہنچی ہیں یا نہیں،اگلے مرحلے میں رقم دگنی ہو کر 40 ارب روپے تک پہنچ گئی اور اس سال ہم نے 85 فیصد کام کامیابی حاصل کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ریونیو وصول کرنے والے ادارے ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی طرف قدم بڑھایا ہے، انسانی عمل دخل کم سے کم کرنا ہوگا پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہم اپنے ملک میں مزید کس طرح صنعتوں کو فروغ دے سکتے ہیں،زرعی شعبے کو کیسے مضبوط کیا جائے جو ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹیکسٹائل کے شعبے کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے تاکہ کسانوں کو بہتر مواقع بہتر بیج دستیاب ہوں اور یقینا ًیہ بھی کہ ہماری برآمدات کو کیسے فروغ دیا جائے اور کیسے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں۔اربوں ڈالر کی آمدنی کے حصول کا کام ایک دن میں نہیں ہو سکتا اس میں وقت لگتا ہے لیکن ہم معاہدوں پر دستخطوں کے بعد مرحلہ وار آگے بڑھیں گے،دونوں اطراف سے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور ایک مقررہ ٹائم فریم بھی طے کیا جائے گا جس کے اندر دونوں ٹیمیں اگلے 10 سال کے لیے ایک مکمل پروگرام تیار کریں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ پاکستان اور چین کے درمیان گہری دوستی کا ایک نادر لمحہ ہے،ہم نے علی بابا کے چیئرمین کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے عوام کے لیے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے ،خاص طور پر پاکستانی عوام ہمارے نوجوان، کسان، ماہرین تعلیم، طبی ماہرین ،ہمارے صنعتکار، تاجر ریونیو جمع کرنے والے اور ہر شعبہ زندگی کے لوگ زبردست فائدہ اٹھانے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک تاریخی معاہدے پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور علی بابا کے ایگزیکٹو آفیسر نے دستخط کیے ہیں ،یہ معاہدہ اس شعبے میں چین کی طرف سے پاکستان کے لیے ہمیشہ کے لیے تعاون کو یقینی بنائے گا اور یہ نہ صرف ہمارے آئی ٹی اور اے آئی کے شعبے کو تبدیل کر دے گا بلکہ ہماری پوری معاشرتی ساخت، صنعت کاری، صحت اور تعلیم کو تبدیل کر دے گا ،اس کے ساتھ ساتھ ہمارے انتظامی طریقہ کار کو بھی تبدیل کرے گا ،گورننس اور کاروبار میں بہت زیادہ شفافیت لائے گا،یہ ان بہت پیچیدہ مسائل کا حل فراہم کرے گا جنہیں ہم ریاضی یا کسی دوسرے طریقے سے حل نہیں کر سکتے، آج ہمارے دونوں ممالک کی دوستی اور تعلقات کے لیے ایک عظیم دن ہے،چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور ہماری یہ دوستی انتہائی منفرد ہے،جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔قبل ازیں وزیراعظم کا خیر مقدم کرتے ہوئے علی بابا کے ایگزیکٹو چیئرمین جو سائی نے کہا کہ یہ انتہائی اہم موقع ہے کیونکہ اس سال ہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں،مجھے خوشی ہے کہ آپ یہاں تشریف لائے ہیں اور علی بابا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی حالات کے تناظر میں دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی اہمیت کو بہت سراہا جا رہا ہے جس کی ہم دل سے قدر کرتے ہیں ،خاص طور پر اس لیے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے،میرا خیال ہے کہ پوری دنیا کو آپ ، آپ کی حکومت اور آپ کے ملک کا شکر گزار ہونا چاہیئے،آج ہم علی بابا گروپ ، پاکستان کی حکومت اور پاکستان کی مختلف کمپنیوں کے درمیان چند معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر رہے ہیں،ہم آپ کے ساتھ کام کرنے اور پاکستان کی حکومت کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے پرجوش ہیں، برآمدات ،صحت عامہ ،مصنوعی ذہانت ،فن ٹیک ،انسانی وسائل اور افرادی قوت پانچ ایسے شعبے ہیں جن میں ہم آپ کے ساتھ کام کرنے اور تعاون کرنے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور معاشی ترقی کے درمیان توازن قائم رکھتی ہے۔خاص طور پر برآمدات کے ذریعے ملک کے لیے زیادہ آمدنی لانے اور ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینے کے حوالے سے یہ نہایت اہم ترجیحات ہیں جنہیں ہم بخوبی سمجھتے ہیں اور ہم ان مقاصد کے حصول میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علی بابا کا اصل کاروبار چینی کمپنیوں کو دنیا بھر میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے میں مدد دینا تھا لیکن آج ہم اپنے اسی تجربے اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر پاکستان جیسے دیگر ممالک کی بھی مدد کر سکتے ہیں تاکہ ان کے چھوٹے کاروبار اور تمام برآمد کنندگان ہمارے پلیٹ فارم پر آ کر اپنی مصنوعات پوری دنیا میں فروخت کر سکیں، آج ہم تقریبا چار ہزار پاکستانی برآمد کنندگان کو خدمات فراہم کر رہے ہیں لیکن امید ہے کہ ہم اس تعداد کو مزید بڑھائیں گے اور کم از کم 10 ہزار پاکستانی برآمد کنندگان کو علی بابا ڈاٹ کام کے عالمی ہول سیل پلیٹ فارم پر شامل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ دوسرا شعبہ صحت عامہ کا ہے ہمارے پاس کینسر کی تشخیص کے شعبے میں دنیا کی جدید ترین اور انتہائی اعلی ٹیکنالوجی موجود ہے، ہم پاکستان کی کمپنی سکائی 47 کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں تاکہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان میں متعارف کرائی جا سکے،اس سے پاکستان کے شعبہ صحت کو بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ہر ملک کے لیے خود مختار انفراسٹرکچر اور خود مختار اے آئی کے تصور پر توجہ دینا نہایت اہم ہے، ہمارے پاس دنیا کا نمایاں ترین اوپن سورس ماڈل موجود ہے،اس کا فائدہ یہ ہے کہ ہم آپ کی انجنیئرنگ ٹیموں کو تربیت دے سکتے ہیں تاکہ وہ اوپن سورس ماڈل کو آپ کے اپنے خود مختار انفراسٹرکچر پر نافذ کریں جس سے ڈیٹا کی رازداری اور سیکیورٹی مکمل طور پر پاکستان کے اندر موجود ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ رہے گی ،ہم اس ماڈل کو آپ کی مقامی زبان ،مقامی اقدار اور ثقافت کے مطابق مزید ترتیب دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔فن ٹیک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک براہ راست صارف پلیٹ فارم موجود ہے جو پاکستان میں 50 ہزار فروخت کنندگان کو خدمات فراہم کر رہا ہے اور ہم دراز پر "آج خریدیے کل پیسے ادا کیجئے” پلیٹ فارم متعارف کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل پر توجہ دینا بے حد ضروری ہے کیونکہ کسی ملک کی اصل طاقت تعلیم ،تربیت اور ہنر مند افرادی قوت پر منحصر ہوتی ہے،سیالکوٹ میں ایک لاکھ پچاس ہزار ہنر مند افراد موجود ہیں جو دنیا کے 80 فیصد طبی آلات تیار کرتے ہیں ،میں اس سے بے حد متاثر ہوا ہوں، آمدنی بنانے اور معاشی ترقی کے حوالے سے یہی وہ مثالیں ہیں جو حقیقی ترقی کو ظاہر کرتی ہیں ،ہم پاکستان کی صنعتی اور پیداواری شعبوں کی مکمل مدد کرنا چاہتے ہیں اسی لیے ہم پاکستان کے انجنیئرز اور طلباء کو تربیت فراہم کرنے کے خواہاں ہیں ،ہمارا ہدف یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اور دیگر تکنیکی مہارتوں کے شعبوں میں پانچ لاکھ افراد کو تربیت دی جائے۔ہم ایک میکاتھون منعقد کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں جس میں 10 ہزار نوجوانوں کو شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی نئی نسل کی ترقی میں معاون بننا چاہتے ہیں اور پاکستان کے انسانی وسائل کی ترقی میں حقیقی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان طویل المدت شراکت داری کو تسلیم کرتے ہوئے جو آئرن برادر الائنس اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے فریم ورک کے تحت قائم ہے ،پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو تیز تر بنانے، مصنوعی ذہانت کے ذریعے صنعتی صلاحیتوں کو بہتر بنانے ،سرحد پار تجارت کو جدید بنانے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی صحت،زراعت کے نتائج کو بہتر بنانے کے مشترکہ عزم کو تسلیم کرتے ہوئے فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ زرعی کلاؤڈ اور ایکو سسٹم ڈویلپمنٹ، اوپن سورس، بڑے لینگویج ماڈلز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر،ڈیجیٹل تجارت، چھوٹے کاروبار کی ترقی ،عالمی منڈیوں تک رسائی، ایس ایم ایز کی ڈیجیٹائزیشن اور تجارت میں سہولت ،فن ٹیک اور مالی شمولیت ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کریڈٹ سکورنگ فریم ورک ،صحت کی دیکھ بھال ،سمارٹ ہسپتال ،اے آئی پر مبنی تشخیص ،ٹیلی میڈیسن اور ادویات کی سپلائی چین بشمول زراعت یہ مشترکہ ایجنڈا شامل کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان کے عوام کی فلاح بہبود کے لیے بہت فکرمند اور پاک چین دوستی کے قدردان ہیں،مجھے اپنی اے آئی صلاحیتوں کو پاکستان کی عوام کی فلاح کے لیے وقف کرنے میں معمولی کردار ادا کرنے پر فخر محسوس ہو رہا ہے،مجھ پر واضح ہے کہ آپ رفتار اور کارکردگی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہم نے ابھی شہباز سپیڈ کا مشاہدہ کیا ہے، مفاہمت کی مختلف یاداشتوں اور بڑے فریم ورک معاہدے پر دستخط سے ہماری کمپنی اور پاکستان کی حکومت کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ایک مضبوط بنیاد قائم ہو گئی ہے جو نہ صرف دونوں ممالک کے عوام بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ سلوشنز کے تحت پاکستان کے ادارے اگنائٹ اور علی بابا کلاؤڈ اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے مقامی نوعیت کے اے آئی ماڈلز تیار کریں گے، پانچ لاکھ افراد کے لیے ملک گیر مہارتوں کے فروغ کے پروگرام شروع کریں گے، جبکہ اے آئی ہیکاتھونز اور اختراعی سرگرمیوں کا مشترکہ انعقاد بھی کیا جائے گا۔صحت کی ٹیکنالوجی اور ایمباڈیڈ انٹیلیجنس کے سلسلے میں ڈی اے ایم او اکیڈمی اور Sky47 پاکستان کے شہروں میں اے آئی سے چلنے والا بیماریوں کی تشخیص کا نظام متعارف کروائیں گے، جبکہ ڈی اے ایم او اکیڈمی اور اگنائٹ پاکستانی جامعات میں ایمباڈیڈ انٹیلیجنس کی استعداد کار بڑھانے کے پروگرام مشترکہ طور پر تیار کریں گے۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ( ایس ایم ایز )کی ترقی اور ای کامرس میں توسیع کے حوالے سے علی بابا اور سمیڈا کم از کم 2,000 پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ایک خصوصی “پاکستان پویلین” میں شامل کریں گے، جس سے انہیں اے آئی سے چلنے والے کاروباری ٹولز اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔مالی شمولیت کے حوالے سے کوکو ٹیک پاکستان میں “Buy Now, Pay Later (BNPL)” سروس متعارف کروائے گا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 30 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ مالی شمولیت اور ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری، جدت، روزگار کے مواقع اور تکنیکی تعاون کے نئے دروازے کھولیں گے، جبکہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کے ایک ابھرتے ہوئے علاقائی مرکز کے طور پر بھی مستحکم کریں گے۔

پچھلی پوسٹ

عازمین حج کی خدمت بڑی سعادت ہے، رواف منی خیموں میں بہترین سہولیات فراہم کرے، وفاقی وزیر سردار محمد یوسف

اگلی پوسٹ

سید یوسف رضا گیلانی کی کوئٹہ میں خودکش دھماکے کی مذمت،قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارافسوس

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
سید یوسف رضا گیلانی کی کوئٹہ میں خودکش دھماکے کی مذمت،قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارافسوس

سید یوسف رضا گیلانی کی کوئٹہ میں خودکش دھماکے کی مذمت،قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارافسوس

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper