اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):پاکستان نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے اور پاکستان قانونی، سفارتی اور معاہدے پر مبنی میکانزم اور عمل کے ذریعے اپنے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعہ کو یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس کے حوالے سے ثالثی عدالت کی طرف سے جاری کردہ ضمنی ایوارڈ کا خیرمقدم کیا ہے، ایوارڈ نے پاکستان کے دیرینہ موقف کی توثیق ہے کہ معاہدے نے مغربی دریائوں پر بھارت کی آبی کنٹرول کی صلاحیتوں پر کافی حدیں عائد کی ہیں، پاکستان نے واضح کیا ہے کہ رن آف دی ریور منصوبوں کےلئے آپریشنل مفروضے حقیقت پسندانہ،
شواہد پر مبنی اور تکنیکی اعداد و شمار کی حمایت یافتہ ہونے چاہئیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے اور اس کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر مضبوطی سے کاربند ہے اور معاہدے کے تحت اپنے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 15 مئی کو کورٹ آف آربٹریشن کے فیصلے نے پاکستان کے مئوقف کی توثیق کی ہے جس میں کہا گیا کہ بھارت کو مغربی دریائوں پر منصوبوں میں محدود ہونے اور تکنیکی تقاضوں کا پابند ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور اپنے حقوق کے تحفظ کےلئے پرعزم ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ ایوارڈ پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ معاہدہ مغربی دریائوں پر بھارت کی آبی کنٹرول کی صلاحیتوں پر کافی حدیں لگاتا ہے۔ ایوارڈز حتمی، پابند اور بعد کے معاہدہ کے عمل کےلئے مستند ہیں، پاکستان ان تشریحات کو نیوٹرل ایکسپرٹ کے سامنے پیش کرے گا اور یہ آئی ڈبلیو ٹی کی دفعات کے مطابق ہوگا۔ ہم سندھ طاس معاہدہ، اس کے تنازعات کے حل اور پانی سے متعلق مسائل کے طریقہ کار کے حل کےلئے مضبوطی سے پرعزم ہیں۔ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مغربی دریائوں پر بھارت کے منصوبے معاہدے کی ذمہ داری کے ساتھ پوری طرح مطابقت رکھیں۔ ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کو التوا میں رکھنے کا بھارتی دعویٰ قانونی بنیادوں کے بغیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے اور پاکستان قانونی، سفارتی اور معاہدے پر مبنی میکانزم اور عمل کے ذریعے اپنے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا۔
