کوئٹہ۔ ( نمائندہ خصوصی)پاکستان نیوی اور ڈائریکٹوریٹ آف ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان (ساؤتھ زون حب نے ساحلی علاقے میں بین الاقوامی اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے 31 ارب روپے مالیت کی منشیات اور غیر ملکی شراب کی بھاری کھیپ قبضے میں لے لی ۔ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان محمد زمان کے مطابق یہ کارروائی پاکستان نیوی اور ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان کی مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس کے دوران سمندری راستے سے سمگل کی جانے والی منشیات اور غیر ملکی شراب کی بڑی مقدار برآمد کی گئی۔ کارروائی کے دوران 425 کلوگرام آئس (میتھ ایمفیٹامائن)، تقریباً 10 ہزار بوتلیں اور کین غیر ملکی شراب و بیئر، جبکہ 20 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔ عالمی مارکیٹ میں برآمد ہونے والی مجموعی کھیپ کی مالیت تقریباً 31 ارب روپے بتائی گئی ہے، جبکہ صرف غیر ملکی شراب کی مالیت 35 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔
ترجمان کے مطابق اسمگلرز بین الاقوامی سمندری راستوں کے ذریعے غیر ملکی شراب پاکستان منتقل کرنے جبکہ بھاری مقدار میں منشیات عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی کوشش کررہے تھے۔ کارروائی کے بعد قبضے میں لی گئی منشیات اور دیگر سامان قانونی کارروائی کے لیے ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس ساؤتھ زون کے حوالے کردیا گیا ہے۔ڈی جی ایکسائز محمد زمان نے کہا کہ یہ کارروائی محکمہ ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے، جو صوبے بھر میں جاری انسداد منشیات مہم کا تسلسل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف مشترکہ کارروائیوں میں 25 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات اور 10 ہزار سے زائد غیر ملکی شراب کی بوتلیں بھی ضبط کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ”پوست فری” صوبہ بنانے کے لیے بھی بھرپور اقدامات جاری ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع دکی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، چمن، لورالائی، قلات اور مستونگ میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے سینکڑوں ایکڑ پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست کی فصلیں مکمل طور پر تلف کردی گئی ہیں۔ محمد زمان نے کہا کہ پاکستان نیوی اور ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان کی یہ مربوط کارروائی اس عزم کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان کی زمینی اور سمندری حدود کو منشیات اور غیر قانونی تجارت سے محفوظ بنانے کے لیے تمام ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی، نوجوان نسل کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے انسداد منشیات کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔

