کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان رپورٹرز فورم انٹرنیشنل کے صدر میاں طارق جاوید سیکرٹری جنرل انفاس کھوکھر اور ایگزیکٹو کمیٹی نے گلستانِ جوہر تھانے کے ایس ایچ او نوید سومرو کی جانب سے کراچی پریس کلب اور پاکستان ایسوسی ایشن پریس فوٹوگرافرز (پیپ) کے ممبر سینئر صحافی امجد واریہ کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹا، بے بنیاد اور انتقامی نوعیت کا ڈکیتی کا مقدمہ درج کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ ایک ایسے شخص کی مدعیت میں، جس پر گیسٹ ہاؤس میں غیر اخلاقی سرگرمیوں اور “تتلیوں کے دھندے”
میں ملوث ہونے کے الزامات زیرِ گردش ہیں، ایک باوقار اور پیشہ ور صحافی کے خلاف سنگین نوعیت کا مقدمہ قائم کرنا پولیس اختیارات کے ناجائز استعمال، بدنیتی اور صحافی برادری کو دباؤ میں لانے کی واضح مثال ہے۔ صدر میاں طارق جاوید سکریٹری جنرل انفاس کھوکھر نےاپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنا، جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا اور ان کی آواز دبانے کی کوششیں کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی صحافی کے خلاف کوئی شکایت موجود ہو تو اس کے لیے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، نہ کہ پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انتقامی کارروائیاں کی جائیں۔ میاں طارق جاوید نے مزید کہا کہ سندھ پولیس کے بعض افسران کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور اختیارات کے غلط استعمال کے واقعات 

میں اضافہ تشویشناک ہے، جس سے آزادیٔ اظہار اور میڈیا کی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان رپورٹرز فورم انٹرنیشنل کے صدر میاں طارق جاوید سیکرٹری جنرل انفاس کھوکھر نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ایسٹ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ مقدمے کا فوری، نوٹس لیکر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرا کے بے بنیاد مقدمہ فوری طور پر خارج کیا جائے اور ایس ایچ او گلستانِ جوہر نوید سومرو کے طرزِ عمل اور کردار کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پاکستان رپورٹرز فورم انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ صحافی برادری کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی، ہراسانی یا آزادیٔ صحافت سلب کرنے کی کوشش پر خاموش نہیں رہا جائے گا، بلکہ ہر قانونی، آئینی، جمہوری اور صحافتی فورم پر بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔

