اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے،گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز سیلابی خطرات میں اضافے کا باعث ہیں۔پیر کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق این ڈی ایم اے کے زیر اہتمام آبی و زمینی خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے ووسرے پاک چین سمپوزیم کا آغاز ہو گیاہے،دوسرا پاک چین سمپوزیم 18تا
19 مئی تک این ڈی ایم اے ہیڈ کواٹرزمیں جاری رہے گا۔سمپوزیم میں دونوں ممالک کے ماہرین ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی تحقیق اور تجربات کا تبادلہ کریں گے۔سمپوزیم کے افتتاحی سیشن کے دوران آفات سے نمٹنے اور خطرات کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر نافذ بہترین لائحہ عمل اور طریقہ کار پر مبنی کتابچے کا اجراء بھی کیا گیا۔وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے این ڈی ایم اے سمپوزیم کے افتتاحی سیشن میں بطور مہمان خصوصی
شرکت کی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے،گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز سیلابی خطرات میں اضافے کا باعث ہیں۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ این ڈی ایم اے آفات کے بعد ردعمل کے بجائے پیشگی اقدامات اور جدید ابتدائی وارننگ سسٹم کی جانب گامزن ہے۔موسمیاتی تبدیلی اور موحولیاتی خطرات تمام ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ
خطہ پاکستان چین کو مشترکہ قدرتی آفات کے خطرات سے دوچار کرتا ہے،تیز ی سے پگھلتے گلیشیئرزکے باعث آنے والے سیلاب، زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ کی پیشگوئی پر پاک چین ماہرین کی تحقیق جاری جاری ہے،پاکستان اور چین کے درمیان آفات سے نمٹنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا،دونوں ممالک ممکنہ خطرات کے تدارک کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔ سمپوزیم میں اقوام متحدہ، سفارت کاروں، ماہرین اور محققین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

