اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ درآمدی پالیسی، تجارتی پابندیوں، خارجہ تعلقات اور معاشی حکمت عملی جیسے معاملات وفاقی حکومت کے خصوصی اختیارات میں شامل ہیں جن میں ہائیکورٹس مداخلت نہیں کرسکتیں جبکہ ہائیکورٹس کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود نوٹس لینے کا اختیار بھی حاصل نہیں۔وفاقی آ ئینی عدالت کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بنچ جس میں علی باقر نجفی اور جسٹس روزی خان بڑیچ شامل تھے، نے سی پی ایل اے نمبر 1505 اور 1506 آف 2024 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔مقدمہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او 927(I)/2019 سے متعلق تھا، جس کے ذریعے بھارت اور
اسرائیل سے درآمد ہونے والی اشیا کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ پابندیاں امپورٹ پالیسی آرڈر 2020 کا حصہ بھی بنائی گئیںلاہور ہائیکورٹ نے اگرچہ وفاقی حکومت کی درآمدی پالیسی کو آئینی قرار دیا تھا تاہم اس کے ساتھ وزارت تجارت کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ درخواست گزاروں کی شکایات سننے کے لئے ایک افسر مقرر کیا جائے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں ان اضافی ہدایات کو آئینی حدود سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سیکرٹری ریونیو ڈویژن کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی ضابطہ کاری وفاقی حکومت کی خودمختار معاشی اور خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، اس لئے تجارتی پابندیوں اور درآمدی فیصلوں میں عدالتی مداخلت آئینی اصولِ تقسیم اختیارات کے منافی ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں میں صرف پالیسی کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی، کسی انتظامی حکم یا رِٹ آف مینڈیمس کی درخواست شامل نہیں تھی، اس کے باوجود ہائیکورٹ نے ازخود اضافی ہدایات جاری کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ درآمدات، تجارتی پابندیوں اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات مکمل طور پر وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔درخواست گزاروں کے وکیل وقاص میر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پابندیوں سے عوام کے ’’حقِ مطالعہ‘‘ اور معلومات تک رسائی متاثر ہوتی ہے جو آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بنیادی حق ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ہائیکورٹس کسی قانونی بنیاد کے بغیر وفاقی حکومت پر نئی انتظامی ذمہ داریاں عائد نہیں کرسکتیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ کسی قانون کے تحت حکومت پر شکایات کے ازالے کے لئے الگ فورم یا افسر مقرر کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، اس لئے لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ ہدایات آئینی طور پر برقرار نہیں رہ سکتیں۔عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے 26 جنوری 2024 کے فیصلے کے پیراگراف (سی) تا (ای) کالعدم قرار دیتے ہوئے بھارتی اور اسرائیلی اشیا پر درآمدی پابندیوں کی آئینی حیثیت برقرار رکھی۔

