• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

درآمدی پالیسی میں عدالتی مداخلت نہیں ہوسکتی، ہائیکورٹس کو سو موٹو اختیار حاصل نہیں، وفاقی آئینی عدالت

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مئی 19, 2026
in پاکستان
0
درآمدی پالیسی میں عدالتی مداخلت نہیں ہوسکتی، ہائیکورٹس کو سو موٹو اختیار حاصل نہیں، وفاقی آئینی عدالت
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ درآمدی پالیسی، تجارتی پابندیوں، خارجہ تعلقات اور معاشی حکمت عملی جیسے معاملات وفاقی حکومت کے خصوصی اختیارات میں شامل ہیں جن میں ہائیکورٹس مداخلت نہیں کرسکتیں جبکہ ہائیکورٹس کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود نوٹس لینے کا اختیار بھی حاصل نہیں۔وفاقی آ ئینی عدالت کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بنچ جس میں علی باقر نجفی اور جسٹس روزی خان بڑیچ شامل تھے، نے سی پی ایل اے نمبر 1505 اور 1506 آف 2024 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔مقدمہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او 927(I)/2019 سے متعلق تھا، جس کے ذریعے بھارت اور اسرائیل سے درآمد ہونے والی اشیا کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ پابندیاں امپورٹ پالیسی آرڈر 2020 کا حصہ بھی بنائی گئیںلاہور ہائیکورٹ نے اگرچہ وفاقی حکومت کی درآمدی پالیسی کو آئینی قرار دیا تھا تاہم اس کے ساتھ وزارت تجارت کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ درخواست گزاروں کی شکایات سننے کے لئے ایک افسر مقرر کیا جائے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں ان اضافی ہدایات کو آئینی حدود سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سیکرٹری ریونیو ڈویژن کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی ضابطہ کاری وفاقی حکومت کی خودمختار معاشی اور خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، اس لئے تجارتی پابندیوں اور درآمدی فیصلوں میں عدالتی مداخلت آئینی اصولِ تقسیم اختیارات کے منافی ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں میں صرف پالیسی کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی، کسی انتظامی حکم یا رِٹ آف مینڈیمس کی درخواست شامل نہیں تھی، اس کے باوجود ہائیکورٹ نے ازخود اضافی ہدایات جاری کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ درآمدات، تجارتی پابندیوں اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات مکمل طور پر وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔درخواست گزاروں کے وکیل وقاص میر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پابندیوں سے عوام کے ’’حقِ مطالعہ‘‘ اور معلومات تک رسائی متاثر ہوتی ہے جو آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بنیادی حق ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ہائیکورٹس کسی قانونی بنیاد کے بغیر وفاقی حکومت پر نئی انتظامی ذمہ داریاں عائد نہیں کرسکتیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ کسی قانون کے تحت حکومت پر شکایات کے ازالے کے لئے الگ فورم یا افسر مقرر کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، اس لئے لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ ہدایات آئینی طور پر برقرار نہیں رہ سکتیں۔عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے 26 جنوری 2024 کے فیصلے کے پیراگراف (سی) تا (ای) کالعدم قرار دیتے ہوئے بھارتی اور اسرائیلی اشیا پر درآمدی پابندیوں کی آئینی حیثیت برقرار رکھی۔

پچھلی پوسٹ

وفاقی وزیرداخلہ کی ڈاگ قلعہ اور تبئی میں انسداد پولیو ٹیموں پر فائرنگ کی پرزور مذمت

اگلی پوسٹ

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے، پگھلتے گلیشیئرز سیلابی خطرات میں اضافے کا باعث ہیں، وفاقی وزیراحسن اقبال کا این ڈی ایم اے کے زیر اہتمام پاک چین سمپوزیم سے خطاب

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے، پگھلتے گلیشیئرز سیلابی خطرات میں اضافے کا باعث ہیں، وفاقی وزیراحسن اقبال کا این ڈی ایم اے کے زیر اہتمام پاک چین سمپوزیم سے خطاب

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے، پگھلتے گلیشیئرز سیلابی خطرات میں اضافے کا باعث ہیں، وفاقی وزیراحسن اقبال کا این ڈی ایم اے کے زیر اہتمام پاک چین سمپوزیم سے خطاب

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper