اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ پہلے وہیل چیئر سے لے کر ایم آر آئی مشین تک طبی آلات کی رجسٹریشن میں طویل وقت درکار ہوتا تھا تاہم حالیہ اصلاحات کے نتیجے میں اب یہ عمل چند دنوں، یعنی تقریباً بیس دن میں مکمل ہو رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ لیبارٹری کے بین الاقوامی وفد سے ملاقات کے دوران کیا جس میں صحت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وفد نے وزارت صحت کی جانب سے میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کے عمل کو
ڈیجیٹائز کرنے کے اقدام کو سراہا۔وفد نے پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے جاری حکومتی اقدامات کی بھی تعریف کی۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت نے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے ایک جامع پروگرام کا آغاز کر دیا ہے جس کا پائلٹ مرحلہ آج اسلام آباد میں شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام گزشتہ ایک دہائی سے تعطل کا شکار تھا تاہم موجودہ حکومت نے اسے دوبارہ فعال بنایا ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ موجودہ نظام صحت کو علاج پر مبنی ماڈل سے احتیاطی تدابیر اور بیماریوں کی روک تھام کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بچوں کو 13 مہلک بیماریوں سے بچائو کے لیے مفت ویکسین فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 2030ء تک بین الاقوامی فنڈنگ کے ممکنہ خاتمے کے پیش نظر ملک میں ویکسین کی مقامی پیداوار پر تیزی سے کام جاری ہے۔اس موقع پر بین الاقوامی وفد نے پاکستان میں ویکسین کی پیداوار اور خام مال کی تیاری کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
