کراچی(نمائندہ خصوصی) محکمہ توانائی، حکومت سندھ نے لاہور میں سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) کے زیر اہتمام ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت حکومت بنگلہ دیش کے سینئر سول سروس افسران کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کی میزبانی کی۔ اس دورے کا مقصد ادارہ جاتی سیکھ، علاقائی تعاون اور توانائی کے شعبے میں بہترین تجربات کا تبادلہ تھا۔حکومت بنگلہ دیش کے سینئر افسران پر مزشتمل وفد نے سندھ کی توانائی سے متعلق اقدامات، انفراسٹرکچر کی ترقی اور تھر کول منصوبوں پر اسٹریٹجک بریفنگ کے لیے محکمہ توانائی کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت
ڈاکٹر سید شبیر اکبر زیدی، ڈائریکٹر (سی ٹی پی)، سی ایس اے لاہور نے کی جبکہ اس میں بنگلہ دیش کے افسران محترمہ سلمیٰ صدیقہ مہتاب، محمد ریحان اختر، ضیاء احمد سمن اور محمد فیروز احمد سمیت دیگر شامل تھے۔ اس پروگرام کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کراچی کے تعاون سے منظم کیا گیا۔سیکریٹری توانائی، حکومت سندھ، شہاب قمر انصاری نے وفد کا خیرمقدم کیا اور قابلِ تجدید توانائی، مقامی کوئلے کی ترقی، تیل و گیس کی تلاش، ترسیلی انفراسٹرکچر اور توانائی کی کارکردگی کے اقدامات کے ذریعے پاکستان کی توانائی سلامتی میں سندھ کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ اسپیشل سیکریٹری محکمہ توانائی اسلم سومرو نے قابلِ تجدید توانائی، کوئلہ اور تیل و گیس سے متعلق حکومتی اقدامات پر وفد کو بریفنگ دی۔منیجنگ ڈائریکٹر، تھر کول اینڈ انرجی بورڈ (ٹی سی ای بی)، طارق علی شاہ نے تھر کول کی ترقی اور پاکستان کی طویل مدتی توانائی سلامتی میں اس کی اسٹریٹجک
اہمیت پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ تھر کول فیلڈ میں دنیا کے بڑے ترین لگنائٹ کوئلے کے ذخائر میں سے ایک موجود ہے جس کا تخمینہ 175 ارب ٹن ہے، جبکہ بلاکس ایک اور دو میں جاری منصوبے پہلے ہی ہزاروں میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کر رہے ہیں۔وفد کو تھر میں جدید کان کنی کے انفراسٹرکچر، سڑکوں، ریلوے روابط، ہوائی اڈوں، پانی کی فراہمی کے نظام اور ترسیلی سہولیات کی ترقی سمیت اہم کامیابیوں سے آگاہ کیا گیا۔ پریزنٹیشن میں سماجی و معاشی بہتری کے اقدامات بھی شامل تھے جن میں روزگار کے مواقع، خواتین کو بااختیار بنانا، فنی تربیت، تعلیم، صحت، آبادکاری کے پروگرام اور ماحولیاتی تحفظ شامل ہیں۔دورہ کرنے والے افسران نے سندھ کی قابلِ تجدید توانائی اور تھر کول منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور جنوبی ایشیا میں پائیدار توانائی کی ترقی کے لیے علاقائی تعاون اور علم کے تبادلے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔
