اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے قاضی القضا فلسطین ڈاکٹر محمود الہباش اور مفتی اعظم الشیخ محمد احمد حسین نےملاقات کی جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق ملاقات میں کوآرڈینیٹر وزیراعظم حافظ طاہر محمود اشرفی، ایڈیشنل سیکرٹری ساجد محمود چوہان ، فلسطینی سفیر ڈاکٹر زہیر محمد بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ فلسطینی وفد کی وزارت مذہبی امور آمد کو باعث برکت سمجھتے ہیں، پاکستان واحد ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ، پاکستان کے پاسپورٹ پر درج ہے کہ یہ اسرائیل کے سفر کے لیے قابل استعمال نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم ، فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ نے ہرممکن کوشش کی کہ غزہ پر جاری بربریت کو روک
سکیں، حکومت نے یو این او کے فورم پر متعلقہ قراردادوں پر عمل کا مطالبہ کیا ہے، غزہ پر اسرائیلی بربریت سے ہمارے دل دکھی ہیں اور ہر پاکستانی اسے محسوس کرتا ہے ، ہماری خواہش ہے کہ القدس فلسطین کا دارالخلافہ ہو اور ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ مسجد اقصی میں نماز ادا کریں ۔ گزشتہ سیرت کانفرنس کے موقع پر فلسطینی قاضی القضا نے بھی شرکت کی تھی۔انہوں نےحافظ طاہر محمود اشرفی کو چھٹی عالمی پیغام اسلام کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ قاضی القضا فلسطین نے کہا کہ ستمبر میں دورہ پاکستان کے وقت بے پناہ محبت ملی، اب دوبارہ آنا ہمارے مضبوط تعلقات کا مظہر ہے۔فلسطینی صدر چند ہفتوں بعد پاکستان آ رہے ہیں جس سے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔ اسرائیل نے ایک ہزار سال میں پہلی بار مسلمانوں اور مسیحیوں کے مقدس مقامات کو بند کیا ۔ مفتی اعظم الشیخ محمد احمد حسین نے کہا کہ امریکا اسرائیل کی سرپرستی کر رہا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی قیادت میں پاکستانی عوام کو مسجد اقصی کے صحن میں شکرانے کے نوافل پڑھتے جلد دیکھیں گے ۔

